بھارت کے ساتھ تعلقات سنوارنے کی ضرورت ہے: نواز شریف

  • بدھ 13 / نومبر / 2024

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ اگر معاملات بگڑے ہیں تو اب ان کو سنوارنے کی ضرورت ہے اور یہ سنوارے جا سکتے ہیں۔ مجھے اس میں کوئی دقت نظر نہیں آتی۔

جنیوا سے لندن واپسی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے سفارتی تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔ اور یہ بہتر ہونے بھی چاہئیں۔ ہم نے کسی کے ساتھ خراب تعلقات رکھ کرکیا کرنا ہے؟

چیمیئنز ٹرافی کے لیے انڈین کرکٹ ٹیم کی جانب سے پاکستان نہ آنے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انڈین ٹیم کو ضرور پاکستان آنا چاہیے تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ  نے حکومتی ہدایت پر آئی سی سی کو خط لکھا ہے۔

ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہونے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے سوال کے جواب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اچھے رہنے چاہئیں۔ ماضی میں بھی اچھے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اچھے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات اچھے ہونے چاہئیں۔

سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ لندن میں مظاہرین کی جانب سے مبینہ بدسلوکی سے متعلق سوال پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایک جماعت نے بدتمیزی کے کلچر کی بنیاد رکھی ہے، جو پاکستان کے لیے بہت ہی افسوس ناک ہے۔ اس کلچر کو انہوں (پی ٹی آئی) نے اپنی حکومت کے دوران بھی فروغ دیا اور اپوزیشن میں تو اس سے بھی زیادہ فروغ دے رہے ہیں۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب میں سموگ کے مسئلے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’سموگ کا مسئلہ برسوں پرانا ہے، راتوں رات حل نہیں ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت میں بہتری سے متعلق اچھی خبریں آرہی ہیں اور ملک میں مہنگائی کم ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں پاکستان میں بہت پوٹینشل ہے، یہاں محنت کرنے والے مخلص لوگ چاہئیں۔ مجھے پوری امید ہے پاکستان مشکلات سے جلد نکلے گا۔ ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا آپ پنجاب ایئرلائن شروع کر رہی ہیں، جس پر ان کا کہنا تھا کہ ایئرپنجاب شروع کرنی چاہیے، اس پر ابھی سوچ و بچار جاری ہے۔