چینی شہریوں کی سیکیورٹی سے متعلق خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں: دفتر خارجہ

  • جمعرات 14 / نومبر / 2024

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے چین کی جانب سے اپنی سیکیورٹی ٹیمز پاکستان بھیجنے کے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر چلنے والی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ پاک چین دوستی کو ان قیاس آرائیوں سے خراب نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ترجمان  نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران چین کی جانب سے پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے اپنی ٹیمیں بھیجنے کے معاملے کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر چلنے والی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔  پاکستان اور چین کے درمیان انسداد دہشتگردی اور چینی شہریوں کے تحفظ پر ڈائیلاگ ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور چینی شہریوں اور اداروں کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔ ہم پاکستان اور چین کی دوستی کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان سے دراندازی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان انتظامیہ پاکستان کے تحفظات کوسنجیدگی سے لے۔ افغان انتظامیہ پاکستان کے خلاف ہونے حملوں کی تحقیقات کرے۔ افغان انتظامیہ کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی پر زور دیتے ہیں۔ خاص طور پر جن گروہوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، افغانستان پاکستانی عوام کی برداشت کو زیادہ مت آزمائے۔

ایک سوال کے جواب میں ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان دیگر ممالک میں ان کی انتظامیہ میں تقرریوں پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرتا۔ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ سے اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے۔

پاکستان میں اگلے سال شیڈول آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ چیمپئنز ٹرافی کے معاملے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ ماہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب چینی انجینئرز پر ہونے والے حملے کو چین نے ایک بڑی سیکیورٹی ناکامی قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بیجنگ نے اپنے شہریوں پر حملے روکنے میں ناکامی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا اور پاکستان پر مشترکہ سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔

مذاکرات میں شریک ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ چین نے ایک بار پھر پاکستان میں اپنی فورس تعینات کرنے پر زور دیا ہے۔ تاہم اسلام آباد نے اب تک اس پر اتفاق نہیں کیا۔ مذاکرات کے حوالے سے چین یا پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ وہ مذاکرات سے لاعلم ہیں۔ تاہم پاکستان میں چین کے منصوبوں، اداروں اور شہریوں کی سیکیورٹی کے لیے اسلام آباد کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ممالک نے مستقبل میں اس قسم کے حملے روکنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر اتفاق کیا ہے۔