اسموگ کی بگڑتی صورتحال، لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ
ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اسموگ کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے اس اہم فیصلے کا اعلان کیا اور کہا کہ لاہور اور ملتان میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل لاک ڈاؤن لگا دیں گے۔ اسموگ پر بھارت و پاکستان کے عوام کا مسئلہ ہے، دونوں ممالک کو اکٹھا بیٹھنا پڑے گا، اسموگ پاک بھارت کا نہیں ماحول کا معاملہ ہے کیونکہ زندگیوں کا معاملہ ہے، اسموگ موت ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ جیسے کورونا پر احتیاطی تدابیر اختیار کیں، اسی طرح اسموگ پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ اسموگ کی بگڑتی صورتحال پر لاہور اور ملتان میں ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان کیا جارہا ہے۔ ہیلتھ ڈیسک، ہسپتالوں میں اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کرکے محکموں کو ادویات وافر کرنی کی ہدایت کردی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل پر ایمرجنسی کے علاوہ باہر نہ نکلیں اور ماسک کا استعمال کریں۔ ملتان و لاہور میں اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کو آن لائن کر رہے ہیں۔ پنجاب بھر سے ایک ماہ کے دوران ڈیڑھ لاکھ لوگ اسموگ کا شکار ہوکر ہسپتالوں میں پہنچے ہیں۔ ڈی ٹاکس مہم کے نام سے اسموگ کے خاتمے کے لیے مہم شروع کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور میں اسموگ سے ایک ہفتے میں 7 ہزار 165 لوگ متاثر ہوئے۔ ملتان اور لاہور میں کل ہفتہ سے اگلے اتوار تک تعمیرات پر پابندی لگا رہے ہیں۔ لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی اسموگ موت کا سبب بن سکتی ہے۔ ٹریفک پر کوئی کمی نہیں آرہی، جن ملکوں نے اسموگ سے لڑائی کی وہاں ہر شعبے سے تعاون کیا گیا۔ لیکن ادھر تو ماسک پہننے کے لیے تقسیم کرنا پڑتا ہے، ریسٹورنٹس کو شام 4 بجے تک کا وقت دیا ہے۔ اس کے بعد رات 8 بجے تک ٹیک آوے کی اجازت ہوگی۔