قلات میں ایف سی چیک پوسٹ پر حمل، 7 اہلکار جاں بحق
بلوچستان کے ضلع قلات میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں سکیورٹی فورسز کے سات اہلکار جاں بحق اور پندرہ سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔
محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ گزشتہ شب کیا گیا۔ اہلکار نے بتایا کہ شاہ مردان کے علاقے میں یہ حملہ فرنٹیئر کور کی ایک پوسٹ پر کیا گیا۔ حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک نائیک، دو لانس نائیک اور پانچ سپاہی شامل ہیں۔
زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
لیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں اور شہدا کی لاشوں کو کوئٹہ منتقل کیا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ شہدا کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شہادت کا بلند رتبہ پانے والے اہلکاروں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ شہدا نے اپنے خون سے امن کی آبیاری کی ہے، لازوال قربانیوں کا قرض کبھی نہیں اتار سکتے۔
واضح رہے کہ 9 نومبر کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریلوے اسٹیشن میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں خاتون سمیت 26 افراد جاں بحق اور 62 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے صحافیوں کو ای میل کیے گئے ایک بیان میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے کالعدم بی ایل اے کے اس دعوے کو بھی رپورٹ کیا کہ خودکش حملے میں پاکستانی فوج کے ایک دستے کو نشانہ بنایا گیا ہے جو انفینٹری اسکول سے کورس مکمل کرنے کے بعد واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔
وائس آف امریکہ کی اطلاع کے مطابق ببلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔ ذرائع ابلاغ کو جاری ایک بیان میں بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا ہے کہ ان کے ملسح افراد نے فوج کے کیمپ کو نشانہ بنایا ہے جس کی تفصیلات جلد میڈیا میں جاری کی جائیں گی۔