پاکستان میں امریکی مداخلت سے متعلق دفتر خارجہ سے منسوب بیان مسترد

  • اتوار 17 / نومبر / 2024

دفتر خارجہ نے مقامی انگریزی اخبار میں اپنے ترجمان سے منسوب پاکستان میں امریکا کی مداخلت سے متعلق بیان کو مسترد کردیا۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ متعلقہ اخبار کی انتظامیہ کے ساتھ ان کے ادارتی معیار اور صحافتی اخلاقیات پربات چیت کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ میڈیا دفتر خارجہ سے منسوب خبر شائع کرنے سے پہلے وزارت خارجہ سےتصدیق کرلیا کرے۔ یاد رہے کہ آج ایک انگریزی اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ حکومت پاکستان، امریکی قانون سازوں کی جانب سے صدر جوبائیڈن کو لکھے گئے خط کو کوئی اہمیت نہیں دیتی اور اس نے خط کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ جمعہ کو پچاس کے قریب امریکی قانون سازوں نے خط لکھ کر صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 20 جنوری کو اپنی مدت صدارت ختم ہونے سے پہلے پاکستانی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ عمران خان کے ساتھ دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کرے۔ ڈیموکریٹ اور ریپبلکن قانون سازوں کی طرف سے بھیجا جانے والا یہ خط ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اس طرح کا دوسرا مراسلہ تھا۔

خط میں فروری 2024 کے انتخابات کے بعد پاکستان میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال کو اجاگر کیا گیا۔ اس میں کیا گیا کہ انتخابات کے بعد سے شہری آزادیوں، خاص طور پر اظہار رائے کی آزادی پر بے انتہا پابندیوں کے باعث صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

خط میں کہا گیا کہ ہم فوری طور پر امریکی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کی حمایت کرے۔ قانون سازوں نے اقوام متحدہ کی سفارشات کے مطابق ان قیدیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

حکمران مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے خط کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔