ہمارے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے ہیں

صفائی کا پہلا اصول یہ ہے کہ گند پھیلایا ہی نہ جائے، یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ گند نہ ہوگا تو صفائی کا تردد ہوگا نہ ہر طرف بدبو ہوگی۔ اگر ہم انسان سڑک، گلی یا گھر سمیت زمین کے کسی بھی حصے پر گند نہیں ڈالیں گے تو ایک طرف یہ زمین صاف رہے گی تو دوسری طرف ہمیں جگہ جگہ سے گند صاف کرنا نہیں پڑےگا۔

یورپ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں یہی فارمولا استعمال ہو رہا ہے۔ وہاں لوگ اپنے کتوں کو سیر کروانے لے جاتے ہیں، کتا جہاں بھی کچھ کرتا ہے اس کا مالک پلاسٹک کے لفافے کے ساتھ اس کا گند اٹھا لیتا ہے۔ اور جا کر کوڑہ دان میں ڈال دیتا ہے۔ کوئی بندہ کسی کھانے والی چیز کا ریپر باہر پھینکتا ہے، نہ کوئی بچی کھچی چیز کو کہیں سڑک، راستے یا جنگل میں پھینکتا ہے۔ اس لیے ان کی سڑکیں، گلیاں اور جنگل بالکل صاف نظر آتے ہیں اور اگر کہیں کوئی چیز پڑی ہو تو راستہ گزرتے لوگ اٹھا کر کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں۔

ہماری بیماریوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ عقل مند لوگ کہتے ہیں کہ علاج سے پرہیز بہتر ہے۔ یہ بات سو فیصد درست ہے۔ کیونکہ پرہیز میں کچھ خرچ ہوتا ہے نہ کوئی تکلیف اٹھانا پڑتی ہے۔ جبکہ علاج نہ صرف مہنگا ہوتا ہے بلکہ بندہ تکلیف سے بھی گزرتا ہے۔ اب پرہیز کیا ہے۔ یہ تو ہر فرد کو علم ہونا چاہیے کہ اسے کیا کھانا ہے، کیا کرنا ہے، کتنا سونا ہے۔ جسم کو اندر اور باہر سے کیسے صاف رکھنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اگر ایک بندہ کئی برسوں تک منہ کے اندر کے حصے اور دانتوں کی صفائی نہیں کرتا ہے تو لامحالہ اس کے منہ کے اندر جراثیم پیدا ہوں گے جو منہ سے آگے بھی سفر کرتے رہیں گے۔

ایک وزیر اعلیٰ پوری کوشش کر کے بھی اپنے صوبے کے مسائل حل نہیں کر سکتا وجہ کیا ہے؟ ہمارے ملک کے جس صوبے میں بھی نئی حکومت آتی ہے، وہ اپنی کارروائیاں کرتی اور ساتھ بین کرتی ہے کہ اس صوبے کے مسائل کئی دہائیوں کے  ہیں، یہ چند ماہ میں تو حل نہیں ہو سکتے۔ لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اتنی دہائیوں میں یہاں حکومتیں کیا کرتی رہی ہیں۔

پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے مسائل بھی کچھ زیادہ ہیں اور پنجاب پر 1985 سے اب تک مسلم لیگ ن کی حکومت کے سات ادوار گزرے ہیں۔ یہ الگ بات کہ ساری حکومتیں مدت پوری نہ کر سکیں۔ ان سات ادوار میں سے موجودہ دور سمیت 5 بار وزیر اعلیٰ شریف خاندان سے تھے۔ لیکن آج بھی محترمہ مریم نواز فرماتی ہیں کہ اتنے پرانے مسائل اتنی جلدی حل نہیں ہو سکتے۔

پنجاب کے تین بار کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے بہت چرچے رہے ہیں کہ وہ انتظامی طور پر بڑے سخت مزاج وزیر اعلیٰ تھے۔  ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بہت زیادہ کام کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں شہباز سپیڈ کا تخلص ملنا چاہیے۔ لیکن پھر ان کی بھتیجی کو اتنے زیادہ مسائل کا سامنا کیوں کر کرنا پڑ رہا ہے۔ اور تو اور پنجاب پر چھائی دھند ہی قابو میں نہیں آ رہی ہے، جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے، سرکاری دفاتر اور کاروبار بند کرنے پڑ رہے ہیں۔ جس سے معیشت پر برے اثرات کے ساتھ ساتھ نونہالوں کی تعلیم پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ اگر اس دھند سے نکلنے کے لیے وقت درکار ہے، منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تو یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کہ یہ وقت آپ کے پاس تھا تو منصوبہ بندی ماضی میں کیوں نہ کی گئی؟

اب آپ کون سی منصوبہ بندی کر رہے ہیں؟ کیا آپ نے کوڑے کو ٹھکانے لگانے یا اس کی ری سائیکلنگ کا بندوبست کر لیا ہے؟ محترمہ آپ نے جون سے مومی لفافوں پر جو پابندی لگائی تھی کیا اس پر عمل ہو رہا ہے؟ ذرا اپنے چند ملازموں سے کہیں کہ وہ پنجاب کے کسی بڑے شہر کی 100 دکانوں کا چکر لگا کر دیکھیں کہ کتنے دکاندار آپ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں؟ دکانیں تو دکانیں، ریستورانوں سے گرم سالن بھی مومی لفافے بھر بھر کر دیا جا رہا ہے۔ یہ سب اس لیے ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران کوئی نظام نہیں بناتے بلکہ اپنی مشہوری کے لیے سطحی اقدامات اور اعلانات تک محدود رہتے ہیں۔ فوری نتیجے کی خواہش میں چند دن کسی مسئلے پر شور مچاتے اور پھر کسی نئے مسئلے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ دماغ میں اپنے اقتدار کو بچانے اور اگلے انتخابات کے لیے مال جمع کرنے کی سوچ رہتی ہے۔

ہماری تمام حکومتوں کا یہی شیوہ رہا ہے کہ وقتی طور پر اعلانات اور اقدامات کرتے ہیں اور واہ واہ سمیٹ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمارے اصل حکمران ہر چند سال کے بعد سول حکومت کا خاتمہ کر کے معزول وزیر اعظم اور اس کی کابینہ پر بدعنوانی کے الزامات پر مقدمات قائم کرواتے ہیں۔ مگر آج تک کسی بھی حکمران سے لوٹی گئی دولت برآمد نہیں ہو سکی۔ اس کا الزام عدالتی نظام پر دھر دیا جاتا ہے۔ لیکن حضور سوال یہ ہے کہ بدعنوانی کرنے کیوں دی جاتی ہے؟ ہر حکومت آپ کی چھتری تلے بنتی اور چلتی ہے تو پھر بدعنوانی کیسے ہو جاتی ہے؟ اگر ہوتی ہے تو اسی وقت رنگے ہاتھوں پکڑے کیوں نہیں جاتے؟

 جب لوگ مال لوٹ کر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں رکھ آتے ہیں، لندن میں محلات خرید لیتے ہیں، پاناما کی انڈر ورلڈ فرموں میں استعمال کر دیتے ہیں اور دوبئی کی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کر دیتے ہیں، تو پھر آپ دہائی دیتے ہیں کہ وہ لوٹ گئے، وہ کھا گئے۔ لیکن جب لوٹ رہے ہوتے ہیں تب آپ ان کو تحفظ دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ بدعنوانی ختم کرنے کے لیے واقعی سنجیدہ ہیں تو پھر ایسا نظام بنائیے جس میں بدعنوانی کرنا ہی ناممکن ہو جائے۔ جس طرح صفائی کا حل گند نہ ڈالنے، بیماری سے بہتر پرہیز ہے، اسی طرح بدعنوانی کے مقدمات پر وقت اور وسائل ضائع کرنے کی بجائے بدعنوانی کا رستہ بند کیجیے۔