بینک پنشنر کا بھی تو ہے
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- منگل 19 / نومبر / 2024
ملک کی بنک انڈسٹری نے ہمیشہ عوامی خدمت کے جذبے کے تحت ملکی ترقی اور مالی خدمات میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ بدقسمتی سے ایک عرصے سے ہمارے ملک میں حکومتی اور سیاسی معاملات ابھی تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکے اور مسائل کا شکار ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ملک کی معیشت بھی بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ ایک وقت تھا کہ بنک ملازمین کی تعداد دیگر محکموں کی طرح خاصی تھی اور ان کی تنخواہیں اور مراعات بھی اطمنیان بخش تھیں۔ لیکن آہستہ آہستہ ڈاؤن سائزنگ، رائٹ سائزنگ اور جبری گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے یہ تعداد کم ہوتی گئی۔ ایک وقت میں بینکوں میں یونین سازی کا بھی بہت رجحان تھا۔ پھر وہ سلسلہ بھی بتدریج کم ہوا اور انتظامیہ کی طرف سے اصل توجہ کسٹمر سروس پہ دی جانے لگی۔ ملازمین کسی بھی شعبے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے صورت میں یا دیگر مراعات کی صورت میں جو کچھ ملتا ہے، ان پہ ان کے بچوں کے مستقبل کا دارومدار ہوتا ہے۔
حبیب بینک پاکستان کا ایک بڑا بینک ہے اور عالمی سطح پر بھی اس کی بہت سی فعال برانچیں ہیں۔ عالمی سطح پر اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ ایک عرصے سے بینکوں میں پیشن کے کافی مسائل نے سر اٹھایا ہے اور ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک بڑے قومی بینک نیشنل بینک کے ملازمین جو ایک عرصے سے عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے ملک کی اعلی عدالت میں ان کی شنوائی ہوئی اور سپریم کورٹ نے پنشنر کا ایک عرصے سے لٹکا ہوا کیس بااحسن خوبی نمٹایا اور یہ فیصلہ دیا کہ دیگر اداروں کی طرح نیشنل بینک کے ملازمین کو بھی 70 فیصد پنشن دی جائے گی جس کا اطلاق بھی ہو چکا ہے۔ بالکل اسی طرح حبیب بینک اور چند دیگر بینکوں کا معاملہ ابھی تک چل رہا ہے۔ حبیب بینک کے بھی پانچ ہزار سے زائد پینشنرز ایک عرصے سے اپنے مسائل کے لیے سرکردہ ہیں۔ تفصیلی اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ سن 2005 میں بینک نے اپنے طور بنیادی تنخواہ کو بڑھاتے ہوئے پنشن کو 2005 کی بنیادی تنخواہ سے منسلک کر دیا جس کی وجہ سے بعد میں انے والے سالوں میں ریٹائر ہونے والوں کو برائے نام پنشن دی جا رہی ہے، جس کو آپ اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ لہذا اب جب کہ نیشنل بینک کے ملازمین کو 70 فیصد کے حساب سے پنشن دی جا رہی ہے تو دیگر بینکوں کے پنشنرز کا بھی کہنا ہے کہ ان کو بھی نیشنل بینک کی طرح 70 فیصد پینشن کا اجرا کیا جائے۔
جیسے کہ بہت سے اداروں میں بھی یہ 70 فی صد پنشن کا اطلاق ہے۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ اڑھائی سال سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایھ بی ایل کے پینشنرز کا معاملہ لٹکا ہوا ہے جس پر ابھی پیشیاں ہو رہی ہیں۔ اور بینک کے ریٹائرڈ پنشنرز ابھی تک کسی مثبت فیصلے کے منتظر ہیں۔ جب کہ ایک طرف عدلیہ میں اصلاحات کا سلسلہ بھی شروع ہے۔ عدالتوں میں آ ئینی بنچ بھی قائم ہو چکے ہیں۔ ایسے میں بینک ملازمین بجا طور پہ توقع کر سکتے ہیں کہ ان کے پنشن کے کیس کو بھی جلد سنا جائے گا اور اس کا میرٹ پہ فیصلہ کرتے ہوئے بینک کے ملازمین کو بھی 70 فیصد پنشن اور بقایاجات بھی دیے جائیں گے۔ کیونکہ یہ صرف پانچ ہزار سے زائد ملازمین کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ پانچ ہزار سے زائد خاندان اور گھرانے بھی اس سے منسلک ہیں۔ عدالتوں میں جہاں آئے روز کچھ طبقات کے مقدمات فوری طور پہ سننے جا رہے ہیں اور ان کے فیصلے بھی کیے جا رہے ہیں اور ان کو ریلیف بھی مل رہا ہے تو ایسے میں پیشنرز کا معاملہ التوا میں ڈالنا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔ کیونکہ جب سے پنشرز نے اپنے ان مطالبات کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ بہت سے پنشرز راہی عدم بھی ہو چکے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ اس ضمن میں آئندہ ہونے والی پیشیوں میں اس اہم مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
حبیب بینک ایک ایسا پرانا بینک ہے جس کا یہ سلوگن بہت مشہور ہوا کہ حبیب بینک میرا بھی تو ہے۔ کیونکہ بچوں سے لے کے بڑوں تک کا اس بینک سے کل بھی اور آ ج بھی قلبی اور مالی تعلق رہا ہے۔ لہذا بینک کے پنشنرز بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ بینک ان کا بھی تو ہے۔ موجودہ حکومت میں اس بینک کے سابق صدر محمد اورنگزیب نے بینک کی رینکنگ کو بہت بہتر کیا اور اسے عالمی معیار کا بینک بنایا ان کی اسی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں حکومت میں وزیر خزانہ کا عہدہ دیا گیا ہے۔ اب بینک کے موجودہ صدر ناصر سلیم بھی بینک کو مزید بہتر سے بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جہاں بینک کی سروسز اور خدمات کو بہتر بنانے اور بینک کا پرافٹ بہتر بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، وہاں ملازمین کے لیے بھی مراعات اور پنشنرز کو بھی ان کا حق دینا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ ملازمین اور پنشنرز نے اپنی عمر کا ایک حصہ بینک کے لیے وقف کیا ہوتا ہے اور جب انہیں اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے ضروریات زندگی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے میں بینک کو بھی چاہئے کہ وہ ان کے مالی مفادات کا خیال کریں اور ان کی دعائیں بھی لیں۔
اس وقت ہنشنرز کے حقوق کے لئے اخلاقی مالی اور عدالتی جنگ لڑنے والے سابق افسران میں ملتان سے فقیر بخش، پشاور سے عبدالصمد اور دیگر 188 کیس نمبر۔ ڈبلیو پی 1322/2022 پٹیشنرز پیش پیش ہیں۔ اور اپنی ان کاوشوں کے ساتھ ساتھ وہ توقع رکھتے ہیں کہ بینک کے دیگر پنشنرز بھی اپنے حقوق کے لیے ان کے شانہ بشانہ چلیں گے اور بینک انتظامیہ بھی اپنے سابقہ ملازمین کا خیال رکھتے ہوئے ان کے اس موقف کو تسلیم کرے گی۔ اور آنے والے دنوں میں بینک کے پنشنرز کی پٹیشن پر فوری فیصلہ دیتے ہوئے نیشنل بینک اور دیگر اداروں کی طرح ان کو بھی 70 فیصد پنشن دی جائے۔ کیونکہ نیشنل بنک کے فیصلے والے اصول اور قواعد و ضوابط اس بنک پر بھی لگتے ہیں۔ نئے قوانین بنک کے پرائیویٹ ہونے کے بعد کے ملازمین پر تو لاگو ہو سکتے ہیں مگر پرانوں پر نہیں۔
لہذا بنک ملازمین کا یہ دیرینہ مسلہ حل کر کے ہنشنرز کو اس قابل کیا جا سکے کہ وہ اس مہنگائی کے دور میں اپنے بچوں کے اخراجات پورے کر سکیں اور باوقار طریقے سے باقی زندگی گزار سکیں:
گل پھینکیں ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی