کھلاڑی کا احتجاج اور ٹرمپ سے توقعات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابی کامیابی حاصل کیے اگرچہ دو ہفتے گزر چکے ہیں اور وہ 20 جنوری کو آئین پر حلف اٹھانے کے بعد ہی وائٹ ہاؤس میں اپنی ذمہ داریوں پر فائز ہوں گے۔ لیکن عالمی میڈیا میں جہاں ان کی فقیدالمثال کامیابی پر بحثیں جاری ہیں، وہیں ان سے وابستہ توقعات و خدشات کے جائزے بھی لیے جا رہے ہیں۔

سب سے بڑی توقع تو یہی ہے کہ وہ اپنے انتخابی وعدے کے عین مطابق کوئی نئی جنگ شروع نہیں کریں گے۔ بلکہ پہلے سے جاری جنگوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔ اس طرح پاکستان کے حوالے سے ہمارے کھلاڑی کی اپوزیشن پارٹی کو یہ امید ہے کہ جونہی ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں بحیثیت پریزیڈنٹ داخل ہوں گے، ان کے لیڈر کی رہائی کے لیے کچھ نہ کچھ دباؤ ضرور ڈالیں گے جس کے لیے یہ پارٹی اپنے تئیں ملک میں ایجی ٹیشن کا ایسا ماحول تشکیل دینا چاہتی ہے جس میں پاکستان کے اندرونی معاملے میں بیرونی سیاسی و سفارتی مداخلت کا جواز مزید مستحکم ہو سکے۔ 24 نومبر کی جس احتجاجی تحریک کی کال پی ٹی آئی قیادت نے دے رکھی ہے، اسے اس تناظر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے اور یہ سلسلہ 24 نومبر کی متوقع ناکامی کے بعد بھی جاری رہے گا۔

یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں کیا امریکی صدر ٹرمپ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ وہ پاکستان پر اس نوع کا دباؤ ڈال سکیں جیسا مشرف کے دور میں صدر بش نے ڈالا تھا۔ اور کہا جاتا ہے کہ وہ اس پر ڈھیر ہو گئے تھے۔ درویش کا استدلال ہے کہ امریکا یہاں نہ تو اس وقت ایسی کسی پوزیشن میں ہے اور نہ کھلاڑی اور اس کی پارٹی سے اس کا کوئی بھی ایسا مفاد وابستہ ہے جس کی خاطر وہ اس حد تک جائیں گے۔ اگر کسی نوع کا کوئی امریکی مفاد ہے بھی تو وہ پاکستانی حکومت سے ہو سکتا ہے نہ کہ اپوزیشن سے ۔  پاکستانی حکومت جس طرح چائنہ کی جھولی میں بیٹھی ہے، اسے عدم استحکام کا شکار بنانے کے لیے ایک امریکی حکومت کوئی بھی ایسا رول ادا کر سکتی ہے جیسا بنگلہ دیش کے حوالے سے بیان کیا جاتا ہے کہ بائیڈن حکومت نے شیخ حسینہ کی حکومت کو ہٹانے کے لیے ایجی ٹیشن کی حمایت میں بالواسطہ کردار ادا کیا تھا اور اب ٹرمپ اس کے برعکس جاتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کے موجودہ غیر منتخب چیف ایگزیکٹو محمد یونس پر ٹرمپ کی جیت کے ساتھ ہی نئے انتخابات کروانے کے لیے ایک نوع کا دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے، جس کے حوالے سے خود یونس صاحب بیان بازی بھی کر رہے ہیں۔ اور اس نوع کے دلائل بھی دے رہے ہیں کہ فی الوقت وہ انتخابات سے فرار پر کیوں مجبور ہیں۔ بلکہ ٹرمپ کی جیت پر وہ اس قدر پریشان اور دکھی ہوئے تھے کہ ان کےاپنے الفاظ میں ان سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ اس کیفیت کا بڑا کارن انڈین پرائم منسٹر نریندر مودی ہیں اور صدر ٹرمپ سے مودی کی ذہنی ہم آہنگی ہے جنہوں نے عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کو بنگلہ دیشی حکومت کی خواہشات کے علی الرغم اپنے ملک میں ایک نو کی سیاسی پناہ دے رکھی ہے۔ اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شیخ حسینہ نے احتجاجی طلبا سمیت اپنی اپوزیشن سے جو رویہ اپنایا وہ اگرچہ درست نہیں تھا اور طلبا تحریک کو کچلنے میں بلا شبہ ان سے غلطیاں ہوئی ہیں لیکن جب تک بنگلہ دیش میں نئے انتخابات کا انعقاد نہیں ہوتا شیخ حسینہ کے بالمقابل موجودہ بنگلہ دیشی حکومت اپنی لیجیٹیمیسی یا اپنے عوامی مینڈیٹ کا دعوی نہیں کر سکتی۔

پاکستان کا معاملہ بنگلہ دیش سے خاصا مختلف ہے ہماری موجودہ انتظامیہ اس وقت جیسے تیسے انتخابات منعقد کروانے کے بعد ہی اقتدار کے سنگھاسن پر فائز ہے۔ آپ لاکھ کہیں کہ یہ فارم 45 نہیں فارم47 کی پیداوار ہیں، اس طرح تو اس ملک بدنصیب میں سواۓ 70 کے تقریباً تمام انتخابات ہی دھاندلی زدہ قرار دیے جاتے ہیں۔ دوسرے ہمارے کھلاڑی کی پشت پر کوئی مودی بھی نہیں ہے۔ ایم بی ایس سے ایسے کردار کی توقع کی جا سکتی تھی بشرطیکہ کھلاڑی کی کوئی ایسی سیاسی حیثیت یا عالمی پوزیشن ہوتی۔ یا ان کے سعودیوں کے ساتھ حریری جیسے مراسم ہوتے۔ کھلاڑی کی نسبت نواز شریف اور بھٹو فیملی کے سعودیوں سے مراسم کم از کم اس درجے میں ضرور تھے کہ سعودیوں نے ان کے لیے ایک نوع کا رول ادا کیا تھا۔ ضیا دور میں بے نظیر کو باہر بھیجوانے کے لیے اور تو اور انڈیا سے بھی آواز اٹھی تھی۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ کھلاڑی کے لیے اس نوع کی آوازیں اٹھیں یا ٹرمپ کی طرف سے موجودہ طاقتوروں پر دباؤ آئے تو اس کی واحد صورت یہی بچی ہے کہ آپ لوگ اپنی سٹریٹ پاور دکھائیں یا اس کا لوہا منوائیں اگر لوگ 9 مئی جتنے بھی نہ نکلے تو کیا فائدہ آپ کی احتجاجی کال کا ؟ اتنی کسمپرسی میں آپ ٹرمپ یا کسی عالمی دباؤ کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ کسی عوامی پریشر کی عدم موجودگی میں بالفرض امریکی صدر ٹرمپ آپ لوگوں کی حمایت میں کوئی بیان جاری کر بھی دیتے ہیں تو اس کی حیثیت ایک رسمی یا ثواب دارین والی ہی ہوگی۔ پھر بھی آپ لوگ زیادہ پریشان نہ ہوں، اندھیروں میں بھی امید کی کوئی نہ کوئی کرن ہوتی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے بارے میں یہ امر تو مسلمہ ہے کہ وہ اپنے دور اقتدار میں کچھ اور کریں نہ کریں چائنہ کا گھیراؤ وہ بہر صورت کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے۔ جس کی خاطر چاہے انہیں رشین صدر پیوٹن کے لیے اپنی پالیسی کتنی ہی نرم کیوں نہ کرنی پڑے۔ ایسی صورت میں صدر ٹرمپ چائنہ کے اتحادیوں کو توڑنے کے لیے ہرنوع کی پھونکیں ماریں گے۔ چاہے سرد چاہے گرم، اگر تو انہوں نے اس تضادستان کی قیادت کو سرد پھونکیں مارنی ہیں تو پھر آپ کے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ لیکن اگر نوبت گرم پھونکوں تک چلی گئی تو اس کے ثمرات آپ لوگوں تک ضرور پہنچیں گے۔ اس لیے بے وقت کی آخری عوامی احتجاجی کال دے کر اپنا سیاسی بھرم یا ڈراوا اختتام پذیر نہ کریں۔ اس کا کچھ نہ کچھ وزن رہنے دیں۔ تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ البتہ چھوٹی موٹی چھیڑ چھاڑ یا گیدڑ بھبکیاں جاری رکھیں تاکہ آپ کے کارکنان و سپورٹرز میں مایوسیوں کا پھیلاؤ رکا رہے۔

آپ لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ آپ کا لیڈر سیاستدان نہیں، سیاسی اناڑی ہے۔ جسے سیاسی چالیں، چالاکیاں، ہوشیاریاں قطعی نہیں آتی ہیں۔ اپنی جیسی تیسی پاپولیرٹی کے باوجود اتنی بڑی بڑی سیاسی ناکامیوں کی جڑ اس شخص کے یہی بلنڈرز ہیں۔ اس کی پارٹی چوں چوں کا مربہ یا بھان متی کا کنبہ ہے۔ جس کا کوئی سرپیر ہی نہیں۔ اس بیچارے کو کچھ معلوم ہی نہیں ہے کہ سیاسی وزڈم کیا ہوتی ہے۔ ایک منجھا ہوا سیاسی کارکن کیسے کام کرتا ہے ۔وہ جس وکیل کو چرب زبان محسوس کرتا ہے، اسے لیڈر یا سیاستدان سمجھ کر آگے کر دیتا ہے۔ کبھی بہنوں اور کبھی بیوی کو اس مقام پر بٹھانے یا آگے لانے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا یہ اناڑی پن نہیں ہے؟

اس لیے ناچیز اسے سیاسی لیڈر مانتا ہی نہیں ہے۔ نہ اس کے پریشر گروپ کو سیاسی پارٹی۔ رہ گئی امریکی صدر ٹرمپ سے وابستہ توقعات ان پر بحث کسی اگلے کالم میں۔