رہائی کی شرط پوری نہ ہونے پر حکومت سے مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے: عمران خان

  • جمعرات 21 / نومبر / 2024

سابق وزیرعظم عمران خان نے کہا ہے کہ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کے ذریعے پیش کش کی گئی تھی کہ احتجاج ملتوی کر دیں تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ تاہم میری اور دیگر ساتھیوں کی رہائی نہ ہونے کی وجہ سے اس پیش کش کو قبول نہیں کیا۔

اڈیالہ جیل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں 24 نومبر کا احتجاج ملتوی کرنے کے لیے میری اور پارٹی کے  انڈر ٹرائل کارکنوں کو رہا کرنے کی شرط رکھی گئی تھی لیکن اسے پورا نہیں کیا گیا۔  اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایسا مطالبہ تھا جو فوری طور پر پوری ہو سکتا تھا۔ لیکن انہوں نے اسے نہیں مانا۔  مذاکرات تو چلتے رہتے ہیں مگر یہ پتہ چل گیا کہ یہ سیریس نہیں تھے۔ یہ صرف احتجاج ملتوی کرانا چاہتے تھے۔ ہمارے چارٹر آف ڈیمانڈ میں سب گرفتار لوگوں کی رہائی شامل ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے کل میری ضمانت منظور کی جس کے بعد حکومت کے پاس سنہری موقع تھا کہ مجھے رہا کر دیتے۔ ہائی کورٹ ضمانت منظور کرتی ہے اور یہاں پہلے سے طے ہو جاتا ہے کہ رہائی نہیں دینی۔ واضح ہو گیا کہ حکومت مجھے مصروف کرکے معاملے کو طول دینا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی واضح ہو گیا کہ اصل طاقت جس کے پاس ہے اسی نے یہ سب کیا اور سب کچھ یہ بتانے کے لیے کیا گیا کہ وہ جو چاہیں کریں وہ قانون سے بالاتر ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم مکمل نافذ ہو گئی تو کہیں سے ریلیف نہیں ملے گا۔ ہمارے پاس زندہ قوم کی طرح احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ 24 نومبر کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ریکارڈ احتجاج ہوگا کیونکہ وہ آزاد ملکوں میں رہتے ہیں۔ ہمیں حکومت کی نیت کا پتہ چل چکا ہے، احتجاج بھی ہوگا مذاکرات بھی چلتے رہیں گے۔ مذاکرات ہوں گے تو بات آگے چلے گی۔ مذاکرات جن سے ہو رہے ہیں، نام نہیں بتا سکتا لیکن جو مذاکرات ہو رہے ہیں ان میں سنجیدگی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں جیل میں ہوں اور مجھ پر کیسز پر کیسز بنائے جا رہے ہی۔ں اسی کو بنانا ریپبلک کہتے ہیں، وکلا ، ججز ، مزدوروں ، سول سوسائٹی سب کو پیغام دے رہا ہوں کہ 24 نومبر کو احتجاج کیلئے نکلیں۔ عمران خان نے زور دیا کہ 24 نومبر کا احتجاج 100 فیصد ہوگا۔ اب واضح ہو چکا ہے کہ مجھے 24 نومبر سے پہلے رہا نہیں کریں گے۔ ہم ان کی کیا بات مانیں۔ اگر وہ بات چیت میں سنجیدہ ہیں تو ہمارے لوگوں کو رہا کیا جائے۔ جیل میں رہتے ہوئے مجھ پر 60 کیسز ہو چکے ہیں۔ سارے مرکزی کیسز میں میری ضمانت ہو چکی ہے مگر اس کے باوجود رہا نہیں کیا گیا۔