سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کرنا ناقابل معافی جرم ہے: وزیر اعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کو سب سے بڑی پاکستان دشمنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف زہر آلودہ بات کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔
تونسہ شریف میں کچھی کینال منصوبے کی بحالی کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعظم پاکستان میں اعلان کرتا ہوں کہ کوئی ایسا ہاتھ جو پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں رکاوٹ بنے گا، قوم اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ دے گی۔ سعودی عرب پاکستان کا مربی دوست، بھائی اور برادر ملک ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ سعودی عرب نے بلاتفریق ہمیشہ پاکستان کے عوام اور حکومتوں کی ہر محاذ پر بھرپور مالی، سفارتی اور عالمی حمایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہاکہ سعودی عرب نے ہر محاذ پر پاکستان کی وہ مدد کی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے اور بدلے میں کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرتا ہے، سعودی عرب نے ویسے ہی ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے۔ بشریٰ بی بی کے سعودی عرب سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی۔ وہ ملک جس نے کبھی پاکستان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا اور ہمیشہ پاکستان کے لیے اپنے دروازے کھولے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی بادشاہ اور فرمانروا شاہ سلمان جس طرح پاکستان کی مدد کررہے ہیں، ابھی دو تین دورے کرکے آیا ہوں، سعودی فرمانروا نے مجھے کہا کہ آپ منصوبے لے کر آئیں ہم انتظار کر رہے ہیں۔ جس بھائی کا یہ شفیقانہ رویہ ہے، اس کے خلاف زہر اگلا جائے تو وہ کیا کہیں گے کہ پاکستان کے عوام، حکومت اور سیاستدان کیسے ہیں کہ دل میں ہمارے لیے اچھے جذبات رکھنے کے بجائے ایسا زہر آلودہ بیان دے رہے ہیں اور معاشرے میں ایسا زہر گھول رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ اس فطرت کے لوگوں کو اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کو اس بیان کا کتنا نقصان ہوگا۔ جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا تو میں نوازشریف کے ساتھ سعودی عرب میں تھا، مرحوم شاہ عبداللہ نے نواز شریف کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ آپ میرے سگے بھائی ہیں۔ سعودی شاہ کا پاکستان کے ساتھ یہ رویہ ہے، اس وقت نواز شریف پاکستان کے عوام کی نمائندگی کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیاں لگیں تو سعودی عرب نے خاموشی سے مفت تیل دیا اور مشرف کے دور میں پاکستان کی خاطر مفت تیل کی فراہمی کو مزید توسیع دے دی۔ سعودی عرب نے نواز شریف کے دوسرے دور میں پاکستان کے عوام کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر دیے۔ کشمیر ہو، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں پاکستان کا مقدمہ ہو، دوست ممالک میں غلط فہمیاں ہوں، ہر موقع پر سعودی عرب پاکستان کا وکیل رہا ہے۔ اربوں ڈالر کی مدد دیتا ہے اور بدلے میں کچھ نہیں چاہتا۔
وزیراعظم نے کہاکہ ابھی چند ماہ قبل آئی ایم ایف میں ہمیں سعودی عرب نے بیل آؤٹ کیا ہے، اس کے بعد آپ اس طرح کی زہر آلودہ بات کریں اور زہر اگلیں، یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ بطور وزیراعظم پاکستان میں اعلان کرتا ہوں کہ کوئی ایسا ہاتھ جو پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں رکاوٹ بننے والے ہاتھوں کو قوم اپنے ہاتھوں سے توڑ دے گی۔ یہ کوئی مذاق نہیں ہے، وہ (سعودی حکومت) کیا کہیں گے، آج ان کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی۔ ایسا الزام لگایا ہے جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ قلیل سیاسی و ذاتی مفادات کے لیے نفرتوں کے بیج بوئے جائے جارہے ہیں۔ یہ کیسا سیاسی مفاد ہے جو پاکستان کے اعلیٰ ترین مفاد کو ذبح کررہا ہے۔ سعودی عرب جیسے دوست کے خلاف پاکستان کے مفادات کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔