خوں ریزی ، دعوے ، الزامات اور تصادم کی تیاری
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 22 / نومبر / 2024
پاکستانی عوام لوئر کرم میں بے دردی سے مارے جانے والے درجنوں لوگوں کا غم برداشت کرنے اور اس دہشت گردی کے عواقب سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں تاہم ملکی سیاست پر24 نومبر کا احتجاج حاوی ہے۔ حکومتی پابندیوں کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی کسی بھی قسم کا احتجاج کرنے یا اجتماع کی ممانعت کی ہے لیکن 26 ویں ترمیم کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دینے والی تحریک انصاف کے لیڈر واضح کررہے ہیں کہ کوئی عدالتی فیصلہ ان کے احتجاج کو روک نہیں سکتا۔
اسی دوران ملکی سیاست میں سعودی عرب کے کردار کے حوالے سے ایک افسوسناک اور تکلیف دہ بحث شروع کی گئی ہے۔ عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی اچانک ملکی سیاست پر چھاجانے کے مقصد سے نیا جوش و ولولہ دکھا رہی ہیں۔ وہ سمجھ رہی ہیں کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں 24نومبر کو کامیاب احتجاج کی قیادت کرکے شاید وہ تحریک انصاف کی جائز ’وارث ‘ بن سکتی ہیں۔ انہوں نے نت نئے متنازعہ بیانات سے لوگوں کو جوش دلانے اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے عمران خان کے ننگے پاؤں مدینہ منورہ جانے اور اس کے جواب میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو موصول ہونے والی ٹیلی فون کالز کا ذکر کرکے ملکی سیاست میں ایک نیا طوفان بپا کیا ہے۔
اس ویڈیو پیغام میں بشریٰ بی بی نے دعویٰ کیا تھا کہ ’عمران خان جب مدینہ ننگے پاؤں گئے اور واپس آئے تو جنرل باجوہ کو کالز آنا شروع ہوگئیں۔ باجوہ کو کہا گیا کہ یہ آپ کس شخص کو لے کر آئے ہیں، ہمیں ایسے لوگ نہیں چاہئیں۔ ہم تو ملک میں شریعت ختم کرنے لگے ہیں اور آپ ایسے شخص کو لے کر آئے۔ اس کے بعد سے ہمارے خلاف گند ڈالنا شروع کردیا گیا۔بانی پی ٹی آئی کو یہودی ایجنٹ کہنا شروع کیا گیا‘۔ پہلے تو سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے یہ بیانات ہی میڈیا میں آنا شروع ہوگئے کہ بشریٰ بی بی کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے اور انہیں کہیں سے عمران خان کے بارے میں کوئی فون موصول نہیں ہؤا تھا۔ دوسری طرف حکومتی عہدیداروں نے اس موقع کو غنیمت جان کر بشریٰ بی بی اور تحریک انصاف کے خلاف الزام تراشی کا طویل سلسلہ شروع کیا ہے کہ کیسے یہ بیان ملک دشمنی پر مبنی ہے۔ ہر مشکل گھڑی میں کام آنے والے ایک دوست ملک کے خلاف ایسے بیان دینے والے پاکستان کے دوست نہیں ہوسکتے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف نے بنفس نفیس اس بیان پر تبصرہ کرنا اور اسے ملک دشمنی قرار دینا ضروری سمجھا۔ کچھی کینال منصوبے کی بحالی کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعظم پاکستان میں اعلان کرتا ہوں کہ ’کوئی ایسا ہاتھ جو پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی میں رکاوٹ بنے گا، قوم اسے اپنے ہاتھوں سے توڑ دے گی۔ سعودی عرب پاکستان کا مربی دوست، بھائی اور برادر ملک ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ سعودی عرب نے بلاتفریق ہمیشہ پاکستان کے عوام اور حکومتوں کی ہر محاذ پر بھرپور مالی، سفارتی اور عالمی حمایت کی ہے۔سعودی عرب نے ہر محاذ پر پاکستان کی یوں مدد کی ہے جس طرح ایک بھائی دوسرے بھائی کی مدد کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی۔ ایک ایسے دوست ملک کے خلاف اگر زہر اگلا جائے گاتو وہ کیا کہیں گے کہ پاکستان کے عوام، حکومت یا سیاست دان دل میں ہمارے لیے اچھے جذبات رکھنے کے بجائے، ایسا زہر آلودہ بیان دے رہے ہیں۔ اور معاشرے میں ایسا زہر گھول رہے ہیں‘۔
ایک معمولی بیان جس کے منفی اثرات کو ایک وضاحت یا تردید سے زائل کیا جاسکتا تھا، اسے قومی منظر نامہ پر سب سے بڑا مسئلہ بنا کر دونوں طرف سے اس پر سینگ پھنسائے جارہے ہیں۔ بشریٰ بی بی کا بیان بے محل تھا اور اس میں غیر محتاط انداز میں ایک غیر ملک کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ تحریک انصاف کی سیاسی مہم جوئی کے لیے عوامی حمایت حاصل کی جاسکے۔ تحریک انصاف کا دعویٰ بھی ہے اور تجزیہ نگار اس کی تائید بھی کرتے ہیں کہ اس وقت عمران خان بلاشبہ ملک کے سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ لیکن یہ سچائی بھی ایک اٹل حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد کوششیں کرنے کے باوجود تحریک انصاف اپنی سیاسی قوت کا کوئی قابل ذکر مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس عرصے میں عمران خان کو مسلسل قید رکھا گیا ہے ۔ ایک مقدمے میں ضمانت ہونے کے بعد کسی دوسرے مقدمے میں گرفتاری ڈال کر انہیں بدستورجیل میں بند رکھنے کا اہتمام کرنے سے یہ پالیسی بالکل واضح کرتی ہے کہ حکومت فی الوقت انہیں رہا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ تاہم دوسری طرف تحریک انصاف کی قیادت پر اپنے لیڈر کی فوری رہائی ممکن بنانے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ عمران خان کی ہمشیرگان کے میڈیا بیانات کے بعد بشریٰ بی بی کا متنازعہ بیان بھی درحقیقت عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ میں اضافہ کرنے کی کوشش ہی ہے۔ اس کے علاوہ سابق خاتون اول خود اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کررہی ہیں۔
کئی سال گزر جانے کے بعد برہنہ پا مدینہ منورہ جانے اور اس کے بعد وہاں سے یا کہیں اور سے عمران خان کی مذہبی وارفتگی کے حوالے سے آنے والے مبینہ بیانات کا قصہ بیان کرنا قطعی ضروری نہیں تھا۔ اس بیان کا ایک ہی مقصد ہے کہ بشریٰ بی بی کو تحریک انصاف کی قیادت اور انتظامی ڈھانچے سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ 24 نومبر کو اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو گھروں سے نکالنے اور اسلام آباد جمع کرنے کے قابل ہوں گے جو حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرے۔ اور وہ کسی بھی طرح عمران خان کو رہا کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اسی لیے انہوں نے اس مہم کو مذہبی رنگ دینے اور عمران خان کے زوال اور قید و بند کو ان کے عشق رسولﷺ سے جوڑنے کی ناروا اور تکلیف دہ کوشش کی ہے۔ کسی شخص کا عقیدہ صریحاً اس کا ذاتی معاملہ ہوتا ہے، اسے کسی بھی طرح بیان کرنے، اس کے بارے میں سوال اٹھانے یا اسے سیاسی نعرہ بنا کر لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرنا کسی صورت جائز اور قابل قبول طریقہ نہیں ہوسکتا۔ البتہ بشریٰ بی بی نے ’احتجاج کی فائنل کال‘ سے تین روز پہلے یہ بیان دے کر پاکستانی عوام کو درحقیقت یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ عمران خان ہی واحد بے لوث لیڈر ہے جو پاکستان کو حقیقی اسلامی ریاست بنانے کی خواہش و صلاحیت رکھتا ہے۔
بشریٰ بی بی چونکہ سیاست دان نہیں ہیں ، اس لیے گمان کرنا چاہئے کہ انہیں اپنے بیان کے اثرات کا بھی کوئی اندازہ نہیں ہوگا۔ یہ تو ممکن ہے کہ مذہبی وارفتگی کی وجہ سے اس بیان کے بعد کچھ مزید لوگ 24 نومبر کے احتجاج میں شامل ہوجائیں لیکن اس قسم کی بیان بازی سے ملکی مفادات پر چوٹ پڑنے سے قطع نظر خود عمران خان اور تحریک انصاف کی غیر ملکی دارالحکومتوں میں شہرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اس بیان سے صرف سعودی حکمران ہی چوکنا نہیں ہوں گے کہ ایک سابق وزیر اعظم کی اہلیہ ان کے ملک میں پیش آنے والے ایک وقوعہ کے بارے میں ایسا بیان دے رہی ہیں جوحقائق اور سفارتی پروٹوکول سے متصادم ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اور تمام مغربی ممالک کے دارالحکومتوں میں عمران خان کو ’مذہبی شدت پسند‘ کے طور پر دیکھا جائے گا جس کی تصدیق خود ان کی اہلیہ کررہی ہیں۔
حالانکہ عمران خان خود بیرون ملک مقیم اپنے حامیوں کے ذریعے مسلسل یہ کوشش کررہے ہیں کہ مغربی ممالک اسلام آباد پر دباؤ ڈال کر کسی بھی طرح ان کی رہائی ممکن بنائیں۔ اسی لیے تحریک انصاف کے حامیوں نے سخت جد و جہد کے ذریعے امریکہ و برطانیہ کی پارلیمنٹ کے متعدد اراکین سے اس بارے میں خطوط بھی لکھوائے ہیں۔ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک انصاف نے خاص طور سے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی سے بڑی امیدیں باندھ رکھی ہیں۔ بشریٰ بی بی یا ان کے مشیروں نے عمران خان کی مذہبی وارفتگی کا بیان دیتے ہوئے یقیناً اس پہلو پر غور کی زحمت نہیں کی کہ مغربی ممالک دنیا بھر میں پھیلی ہوئی دہشت گردی کو مذہبی انتہاپسندی کا شاخسانہ سمجھتے ہیں۔ عمران خان کے حامی اگر یہ دعویٰ کریں گے کہ عمران خان بھی ایسے ہی شدت پسند مذہبی لیڈر ہیں تو پاکستان میں مقبولیت سے قطع نظر اہم اور بااثر ممالک میں ان کے بارے میں منفی تاثرات پیدا ہونا لازمی ہے۔ یوں یہ بیان اس ضرب المثل کے مترادف ہے کہ جس شاخ پر بیٹھے اسے ہی کاٹا جائے۔
بشریٰ بی بی کے بیان کو صرف وزیر اعظم اور وزرا نے ہی سنسنی خیز بنا کر طوفان برپا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ حکومت کو ہر صورت میں رد کرنے کے شوق میں تحریک انصاف کے لیڈر بھی جوابی بیانات میں مصر ہیں کہ بشریٰ بی بی کا بیان سو فیصد درست ہے اور انہوں نے سعودی عرب کا نام نہیں لیا لیکن ’جعلی حکومت‘ اسے سعودی عرب سے منسلک کرکے اپنے لیے جواز پیدا کرنے کی ناجائز کوشش کررہی ہے۔ حالانکہ اگر اس بات کو درست مان بھی لیا جائے کہ بشریٰ بی بی کا اشارہ سعودی عرب کی طرف نہیں تھا تو انہیں کم از کم یہ تو بتادینا چاہئے کہ جنرل باجوہ کو ملنے والے ٹیلی فون بھی کیا امریکہ کے کسی ’ڈونلڈ لو‘ کی طرف سے آئے تھے؟
سیاسی تصادم منہ پھاڑے سامنے کھڑا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ لڑائی جھگڑے و فساد سے تنگ آئے ہوئے پاکستانیوں کو دو روز بعد ملکی حکومت اور ’حقیقی آزادی‘ کے لیے کشتیاں جلا دینے کا اعلان کردینے والی بشریٰ بی بی کیا ’تحفہ‘ دینے والی ہیں۔ اس احتجاج اور اسے روکنے کی کوشش میں کسی قسم کا جانی نقصان ملکی سیاست پر گہرے اور ناقابل علاج زخم چھوڑے گا۔ ادھر کرم میں جاں بحق ہونے والے 44 لوگوں کے لواحقین کے علاوہ امن کی خواہش کرنے والا ہر زشہری سیاسی لڑائیوں میں مصرف لیڈروں کی حرکتیں دیکھ کر مزید مایوسی و بدحواسی میں مبتلا ہے۔