بنگلہ دیش کےاردو داں ماہرقانون ایم آئی فاروقی

دنیا میں بہت ساری شخصیات گزری ہیں جو اپنی پزیرائی نہیں چاہتیں ۔ وہ بے لوث خدمات انجام دیتی ہیں لیکن تشہیرکی قائل نہیں۔ جس کی وجہ سے ان لوگوں کے بارے میں دنیااجنبی رہ جاتی ہے۔ البتہ ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنا سماج  اوربالخصوص نئی نسل کےلئےضروری ہے۔

آج میں آپ کو ایک خموش اور حساس طبیعت کے حامل اردو داں ماہر قانون کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں جن کا تعلق ایک عظیم اردو ادبی خانوادے سے ہے۔ وہ خود اپنے ابتدائی زمانے میں اردو و انگریزی صحافت سے جڑے تھے۔ ایک قانون داں کی حیثیت سے انہوں نے بنگلہ دیش میں دستور اور قانون کی بالادستی نیزسماج میں مساوات و انصاف کو یقینی بنانےکے لئےبہت سی خدمات انجام دیں جو اپنی مثال آپ ہیں ۔ محمد امتیازالرحمن فاروقی جنہیں بنگلہ دیش میں ایم آئی فاروقی کے نام سے جانا جاتا ہے کی پیدائش بہار کے پٹنہ(عظیم آباد) میں نومبر ۱۹۳۸ میں ہوئی۔ ۔ آٹھ بھائی بہنوں میں وہ تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان کے والد کا نام حبیب الرحمن فاروقی اور والدہ کا نام سیدہ صالحہ خاتون ہے۔ ابھی ان کی عمر نو سال تھی کہ بہارمیں مذہبی فرقہ وارانہ فسادات نے ان کے خاندان کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ ان کے اہلِ خانہ نے کلکتہ کو جائے پناہ بنا لی۔ اُس وقت اُن کی والدہ حاملہ تھیں۔ سفرکی صعوبت اور کشیدہ ماحول میں ان کی والدہ کی حالت نا گفتہ بہ ہوگئی اورزچگی کے دوران کلکتہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ انہیں وہاں کے تاریخی باغ ماری قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
فاروقی صاحب  کے نانا کا نام مبارک عظیم آبادی ہے۔ جن کا شمار ہندوستان کے مشہور و معروف اردو شاعروں میں ہوتا ہے۔ بہار میں شاد عظیم آبادی کے بعد مبارک عظیم آبادی کووہ مقام حاصل ہے جس کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ ان کے نانا کا شعری مجموعہ ’’کلیاتِ مبارک ‘‘حال ہی میں کراچی سے شائع کیا جا چکا ہے۔ نانا کے حوالہ سے ان کا کہنا ہے کہ ’’ نانا پہ جب شعری کیفیت طاری ہوتی تھی تو ان کے کمرے سے طرح طرح کی آوازیں سنائی دیتیں،ان کی اپنی ایک الگ دنیا تھی، جس میں وہ ڈوبے رہتے‘‘۔  ان کے دادا امین الدین بہار کے بیگو سرائے کی عدالت میں مختارکے پیشہ سے منسلک تھے۔ اپنے ناناکے خاندان کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ مبارک عظیم آبادی کے والد فدا حسین منصف تھے۔ قانونی شعبہ کے حوالہ سے تجزیہ کرتے ہوئے فاروقی صاحب کہتے ہیں کہ ’’یہ وہ زمانہ تھا جب انسان خواہ وہ ہندو ہو یا مسلمان ایک خصوصی کردار کا حامل ہوا کرتا تھا۔ اس زمانےمیں آپ کسی کو خرید نہیں سکتے تھے ۔ غیر معمولی دباؤ کے باعث ان سے کوئی غلط کام نہیں کروا سکتے۔ منصف ہو یا مختاراپنی ذمہ داری باحُسن و خوبی آزادی کے ساتھ نبھایا کرتے تھے۔ ان لوگوں میں انصاف کے طلبگارلوگوں کے لئے ناقابلِ یقین ہمدردی پائی جاتی تھی ۔‘‘

فاروقی صاحب نے ابتدائی تعلیم گھر میں مکمل کی۔ بھائی بہنوں کی تعلیم کے لئے استاد گھر پر آیا کرتے تھے کیونکہ اس زمانے میں اسکول کا تصور اُس طور پر نہیں تھا، جیسا کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ گھر پر تعلیم کا معیار یہ تھا کہ جب وہ کلکتہ پہنچےاور ان کے والد نے انہیں اسکول میں داخلہ کے لئے ٹیسٹ دلوایا تو وہ پانچویں جماعت میں داخلہ کے اہل ثابت ہوئے۔ ابھی ا نہوں نے کلکتہ آرفینیج اسکول سے پانچویں جماعت مکمل ہی کی تھی کہ کلکتہ میں بھی فسادات پھیل گئے۔ ان فسادات کے بعد ان کے والد کا مشاہدہ یہ تھا کہ ہندوستان کی سرزمین مسلمانوں کے لئے تنگ ہوتی جارہی ہے اور آنے والی نسل کے لئے شاید یہ سرزمین سود مند ثابت نہ ہو۔ اس لئے انہوں نےدوسری مرتبہ  مشرقی پاکستان ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا اور ڈھاکہ پہنچے ۔ یہاں پہنچتے ہی فاروقی صاحب کو ڈھاکہ لال باغ میں رحمت اللہ ہائی اسکول میں چھٹی جماعت میں داخلہ مل گیا جہاں سے انہوں نے ۱۹۵۶ میں ثانوی کے امتحان پاس کئے اور قائد اعظم کالج (جسے اب سہروردی کالج کے نام سےجانا جاتا ہے) میں داخلہ لیا۔ اسی دوران انہیں فالج جیسے مہلک مرض کا سامنا ہوا جس سے ان کا دائیاں ہاتھ بری طرح متاثر ہوا۔ ان کا یہ ہاتھ مفلوج ہوگیا۔ اسی وجہ سے ان کا تعلیمی سفرغیر یقینی ہوتا دیکھائی دینے لگا۔ جیسے ہی وہ صحتیاب ہوئےاپنے عزم صمیم کو بروئے کارلاتے ہوئے بائیں ہاتھ سے لکھنے کی مشق شروع کردی اور چند دنوں میں ہی اِس کے عادی ہوگئے۔ تعلیم کے حوالے سے انہوں نے بہت ہی ہمت سے کام لیا اور قائد اعظم کالج، ڈھاکہ سے ۱۹۶۰میں آئی اے اور۱۹۶۳میں بی اےکے امتحانات مکمل کئے۔

طالب علمی کے زمانے سے ہی وہ اردو اور انگریزی اخباروں اورجریدوں کے لئے مضامین لکھتے رہے۔ اس وقت پاسبان کے مدیر سیدمصطفے حسن نے انہیں باقاعدہ صحافت میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ انہوں نےان کے مشورہ کو غنیمت جانا اور۱۹۶۱ میں صحافت کے پیشہ سے منسلک ہوگئے۔ اس دوران ڈھاکہ میں انگریزی روزنامہ ’’ مارننگ نیوز‘‘جس کے مدیر بدرالدین اورچاٹگام کے’’ ڈیلی یونیٹی‘‘ جس کے مدیر مبین صاحب تھے میں فری لانسرکی حیثیت سے کام کیا۔ صحافت کے بارے میں ان کا مشاہدہ یہ ہے کہ ’’ صحافی، حکومت اور مالکان دونوں کی زد میں رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سےانہیں آزادانہ طور پرذمہ داری پورا کرنے میں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیز صحافیوں کومالی استحصال سے بھی دوچار ہونا پڑتاہے ‘‘۔ مشرقی پاکستان میں ایوب خان کے فوجی دورِاقتدارمیں صحافت کی آزادی کے لئے انہوں نے آواز اٹھائی۔اس تحریک میں قیادت کی، سڑکوں پراحتجاج کیا اوراخبار میں ہڑتال جیسےپروگرام کے ذریعہ حکومت اورمالکان کومجبور کیا کہ وہ صحافیوں کے لئے ویج بورڈقائم کریں ۔ اسی طرح ڈھاکہ میں صحافیوں کے لئے پہلا ویج (اجرت) بورڈ قائم ہوا۔ اس وقت مشرقی پاکستان میں صحافی دو حصوں میں بنٹے تھے۔ روسی اور چینی حمایتی۔ ان کا تعلق چینی حمایتی سے تھا جس کے روح رواں بنگلہ  دیش کے معروف و مشہور صحافی عطا الصمد تھے۔ صحافت کے غیرمعمولی تجربات کی وجہ سےانہیں’’ روزنامہ پاسبان ‘‘ کے معاون مدیر کے عہدے پر ترقی مل گئی۔ ان تمام سہولتوں کے بعد بھی صحافت میں انہوں نے اپنی خودمختاری کو مجروح ہوتا پایا۔ جس کی وجہ سے انہیں ایک آزاد پیشہ کی تلاش تھی۔

فاروقی صاحب علامہ اقبال کی شاعری سے متاثر ہیں۔ جب بھی انہیں موقع ملتا ہے وہ اقبال کی کلیات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس سے فیضیاب ہوتے ہیں ۔ ویسے تو وہ شاعروں کو حقیقی زندگی سے بیگانہ، تصوری زندگی کے حامل فلسفی سمجھتے ہیں لیکن اقبال کی شاعری کی وجہ سےان کی زندگی میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے جس کی مثال ان اشعار میں پنہا ہے

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گُنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے  آتی ہو پرواز  میں کوتاہی

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مذکورہ اشعار نےانہیں صحافت کے پیشہ کوہمیشہ کے لئے الوداع کہنے پرمجبور کیا کیونکہ انہیں پرواز کی کوتاہی جیسی اذیت سے گزرنا گواراہ نہیں تھا اور انہیں اپنا بسیرا پہاڑ کی چٹانوں میں کرنا تھا۔ اس لئےانہوں نے قانون کے پیشہ کو اپنانے کا فیصلہ کیا اورشام کے سیشن میں لا کالج میں پڑھائی شروع کردی۔ ۱۹۶۸میں سیٹی لا کالج، ڈھاکہ سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔۱۹۷۱ کے فروری میں بارکونسل کے انٹرویومیں کامیاب ہوئے اور باقاعدہ قانون کےپیشہ سے منسلک ہوگئے۔ اپنے پیشہ کے ابتدائی دور میں ٹی ایچ خان کے زیرِ نگرانی کام شروع کیا۔ ٹی ایچ خان عدالتِ عالیہ میں جسٹس رہے ہیں اور بنگلہ دیش بننے کے بعد اصل دھارے کی سیاست میں بھی فعال رہے۔ دریں اثنا انہوں نےایڈویکیٹ حمید الحق چودھری کے ساتھ بھی کام کیا جو متحدہ پاکستان کے وزیر خارجہ جیسےاہم عہدہ پر فائز تھے۔
۱۹۷۱ کی تحریکِ آزادی کے پیشِ نظردنیا کے نقشہ میں بنگلہ دیش ایک نئےملک کی حیثیت سےابھر کر سامنے آیا ۔ اس بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ہندوستان سے ہجرت کرنے والے اردوداں کمیونٹی کو بے حد اذیتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرناپڑا۔ اس کمیونٹی کا قتلِ عام ہوا لیکن پاکستان اوربنگلہ دیش دونوں ممالک نے اپنے اپنے مفاد کی خاطر اس قتلِ عام کو چھپایا۔ جن لوگوں کی جانیں بچ گئیں ان میں کچھ پاکستان سمیت دیگر ملکوں میں ہجرت کر گئے۔ ان میں فاروقی صاحب کا بھی پورا خاندان شامل ہے۔ بنگلہ د یش کی جنگِ آزادی کے دوران اردو بولنے والوں پر جبر و ظلم نے ان کے والد نے بے حد مایوس کیا۔ جس کی وجہ سےان کے والد نے تیسری ہجرت کا فیصلہ کیا اوراپنے پورے خاندان کے ساتھ ڈھاکہ کوہمیشہ کے لئے الوداع کہا اور کراچی ہجرت کرگئے۔ جہاں ان کی ابدی آرام گاہ موجودہے۔ لیکن فاروقی صاحب کو ڈھاکہ کی مٹی سے اتنی انسیت ہوگئی کہ وہ اسی مٹی کو ہی اپنی مستقل سجدہ گاہ بنا لیا۔
بنگلہ دیش کے معرضِ وجود میں آنےکے بعد اردو بولنے والی کمیونٹی کے گھروں، جائیداد، کاروباراور میل وفیکٹریوں پرجبر اًدخل کر لیا گیا۔ حکومتِ بنگلہ دیش نے ان تمام جائیداد کو Law of Abandoned Property کے تحت ضبط کر لیا۔ فاروقی صاحب نے اپنی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اس قانون پر مہارت حاصل کی اور کمیونٹی کی ازحد مدد کی جس سے  چند لوگوں کو ا ن کے جائیدادواپس مل گئیں۔ ۱۹۷۷ میں ان کا اندراج ہائی کورٹ میں ہونے کی وجہ سے وہ دونوں سطح کی عدالتوں میں یکساں طور پر پیشگی کے اہل ہوگئے۔ جس سے انصاف کے متلاشی لوگوں کو پہلے کے بہ نسبت مزیدآسانیاں ہوئیں۔ اس حوالے سے انہوں نے ایک کتاب 

 Abandoned Property Act بھی شائع کی جسےآج بنگلہ دیش کے مختلف عدالتوں میں ایک ریفرینس کی حیثیت حاصل ہے ۔

جب بنگلہ دیش، پاکستان اور ہندوستان کے مابین۱۹۷۴ میں ایک سہہ فریقی معاہدہ  ہوگیا تو یہ بات بالکل واضح ہوگئی کہ اب کیمپ میں پناہ گزینوں کا پاکستان تبادلہ ناممکن ہے۔ اس لئے انہوں نے احمد الیاس، نوشاد نوری، ڈاکٹرسید یوسف حسن، س م ساجد سمیت اردو داں دانشوروں کو ساتھ لے کر۱۹۸۰ میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’’ الفلاح بنگلہ دیش‘‘ قائم کی تاکہ اس کمیونٹی کے لئے فلاحی سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے۔ ایک قانون داں ہونے کے ناطے انہیں اس ادارہ کے دستورکی تکمیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس دستور میں دانشوروں کی دوربینی صلاحیت کی عکاسی عیاں ہے ۔ ان لوگوں نے اس دستور میں کمیونٹی کولسانی اقلیتی پہچان دیتے ہوئے لفظ ’’ اردو داں بنگلہ دیشی‘‘ استعمال کیا ۔ یہ پہچان اس کمیونٹی کے لئے روشن خیال دانشوروں کی جانب سےایک بڑا تحفہ ہے کیونکہ اسی پہچان نے کمیونٹی کوبنگلہ دیش میں شہری حقوق سمیت دوسرے دیگرانسانی حقوق کو تسلیم کرنے میں مہمیز کا کام کیا۔
ایم آئی فاروقی سے راقم کی ملاقات ۱۹۹۹ میں ہوئی۔ ملاقات کے شروع میں ہی ان کا پہلا سوال تھاکہ محصور پاکستانی کے حوالہ سے میرا نظریہ کیا ہے؟  اس ضمن میں، میں نے کچھ یوں تفصیل بیان کی کہ محصور پاکستانی کے نام سےاُن لوگوں نے کمیونٹی کے مستقبل کوملیا میٹ کردیا ہے۔ ملک کے اصل دھارے کے دانشوروں سے ہماری ملاقات کے حوالے سےبھی انہیں آگاہ کیا۔ یہ سب جان کرمجھ پر ان کا اعتماد بحال ہوا اور وہ بہت خوش نظر آئے۔ دوسرے روز انہوں نے اردو کے معروف شاعر احمد الیاس (جوان کے دیرینہ دوست بھی تھے) کو فون پرہماری ملاقات کی تفصیل بتائی کیونکہ میں احمد الیاس صاحب کے معاون کی حیثیت سے کام کررہا تھا ۔ پھر ان سے میرا مسلسل رابط رہا ۔ وہ ہمیشہ ہم لوگوں کو اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے رہے۔

نومبر ۱۹۹۹کو جب بنگلہ دیش کی لسانی تحریک کو یونیسکو کی جانب سے مادری زبان کا بین الاقوامی دن قرار دیا گیا توانہوں نے مشورہ دیا کہ نئی نسل کوچاہئے کہ وہ اس دن کو منانے کے لئے تقریب کا اہتمام کرے تاکہ اصل دھارے کے بنگالیوں تک رسائی میں آسانی ہواور دونوں کمیونٹی ایک دوسرے کے قریب آسکیں۔ فروری ۲۰۰۰ میں اردوداں نئی نسل کے بینر تلے ہم لوگوں نے اس تاریخی پروگرام کا انعقاد کیا جس کا مثبت اثر آج سبھی کے سامنے ہے۔ مارچ ۲۰۰۰ میں بنگلہ دیش کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی امریکی صدر کے سرکاری دورے کا اعلان کیا گیا۔ صدر بل کلنٹن کے دورہ کی اہمیت کو پرکھتے ہوئے انہوں نے  مشورہ دیا کہ ہمیں اپنے مطالبات صدر بل کلنٹن تک پہنچانےچاہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے انگریزی میں ایک مسودہ تیار کرکےہمارے حوالے کیا جسے ہم نے ایک وفد کی شکل میں بنگلہ دیش میں امریکی سفارتخانہ میں جمع کیا۔ فاروقی صاحب ہمیشہ یہ کہتے کہ اردو بولنے والوں کی شہریت کے حوالے سے قانونی طور پر کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ جائیداد کےمتعدد مقدمات میں یہ مسئلہ کا حل کیا جاچکا ہے۔ ان کی اس بات پر میں نے اعتراض کرتے ہوئےکہا تھا کہ قانون یا مقدمہ کی سماعت کے بارے میں کتنے لوگ جانتے ہیں ۔ اس لئے شہریت کے مسئلے کو شہریت کے نام سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بات نے ان کے ذہن میں گہرا اثر چھوڑا۔ ۲۰۰۰ میں جب بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنرنے اعلان کیا کہ اگر کسی شخص کا نام ووٹر وں کی فہرست میں شامل نہیں ہے تو وہ درخواست جمع کروا سکتے ہیں، ان کا اندراج کرلیا جائے گا۔ فاروقی صاحب نے اس خبر کو پڑھتے ہی احمد الیاس سے فون پر بات کی ۔  لائحہ عمل بتایا اور کہا کہ ’’ یہ ایک اچھا موقع ہےکہ نوجوان اپنی حق رائے دہی کی مانگ کریں۔ اگر الیکشن کمیشن ان کی درخواست کو نظر انداز کرتا ہے تومیں اس کے حل کے لئےعدالتِ عالیہ میں عرضی داخل کروں گا ‘‘۔ ان کے مشورہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہم  نے الیکشن کمیشن میں حق رائے دہی کے اندراج کا مطالبہ کیا مگر اسے مسترد کردیا گیا۔ انہوں نےحکومت مع الیکشن کمیشن کے خلاف ۲۰۰۱ میں کمیونٹی کے دس افراد کی شمولیت جس میں راقم بھی شامل ہے، کے ساتھ عدالتِ عالیہ میں عرضی دائر کی۔ دو سال کی ایک طویل بحث وسماعت کے بعد عدالت نے ہمارے حق میں فیصلہ سنایا ۔ یہ کمیونٹی کے لئے ایک تاریخ سازفیصلہ تھا۔ اس فیصلہ سے تقریباً تین لاکھ لوگوں کی حالاتِ بے وطنی کاایک پُرآشوب دور ختم ہوا۔ انہوں نے ان تمام خدمات کو رضاکارانہ طورپر اور بے لوث جذبے سے سرشار ہوکر انجام دیا۔ ان کی اس خدمات کے اعتراف میں اقوامِ متحدہ نے سری لنکا میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں انہیں مدعو کیا جہاں انہوں نے اردوداں کمیونٹی کی شہریت اور آباد کاری کے حوالے سےاپنا موقف پیش کیا۔ بعد ازاں ۲۰۰۵میں اوپن سوسائٹی جسٹس، نیویارک ، امریکہ کی جانب سے منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں بھی شرکت کی اور اس مسئلے کے حل کے لئے اپنی رائے پیش کی۔

ایم آئی فاروقی بنگلہ دیش کے آئین اور دستور کی بالادستی کے لئے ہمیشہ فعال رہے۔ ان کا منشایہ تھا کہ بنگلہ دیش کے آئین کی خلاف ورزی میں تخفیف ہونیز اس ضمن میں عوام کے علم میں اضافہ اور ان میں شعور پیدا ہو۔ اسی تناظر میں انہوں نے اپنے رفیق کاروں کی شمولیت میں ایک تنظیم بعنوان ایسوسی ایشن برائے جمہوریت اورآئینی ترقی (ADCAB) تشکیل دی گئی جس کے تحت مفادِ عامہ کے متعدد مقدمات کی سماعت میں حصہ لیا۔ ایک حساس قانون داں کی حیثیت سے انہوں نے بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیت ہندو برادری کی حقوقِ جائیداد کو یقینی بنانے کے لئے بھی سنجدگی کے ساتھ کام کیا ۔ اس ضمن میں Interpreting Vested Property Law in Bangladesh کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی۔ اس کتاب کو بھی بنگلہ دیش کی عدالتوں میں ریفرینس کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے Abandoned Property Act   کے تحت مون سنیما مقدمہ کے ذریعہ جنرل ضیا الرحمن کی مارشل لا حکومت کے دور میں دستور میں پانچویں ترمیم کو غیر قانونی چلینج کیا تھا۔ لیکن چند ناگزیر حالات کے تحت وہ اس مقدمہ کی سماعت میں حصہ نہیں لے سکے۔ تاہم ان کے اس مسودہ کی وجہ سے عدالت نے دستور میں پانچویں ترمیم کو غیر قانونی قرار دیا۔ اس فیصلے سے بنگلہ دیش کے سیاسی میدان میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ دستور کی تیرھویں ترمیم جوکہ عام انتخابات کے دوران نگراں حکومت کی تشکیل کے حوالے سے تھی کوانہوں نے دستور کی بالادستی کے لئے متنازع قرار دیا ۔ دستور نیز آئین کے حوالے سے ان کی صلاحیت کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ اس مقدمہ کی سماعت میں ملک کے تقریباً تمام سنئیر وکلا نےان کے خلاف بیان دیا لیکن وہ اپنے موقف پر اڑے رہے ۔ بالآخر عدالتِ عالیہ نے اس ترمیم کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔

بیسویں صدی کے اوائل میں دنیا کو جب ایڈز جیسی مہلک بیماری کا پتہ چلا تو پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی۔ اس بیماری میں مبتلا ہونے والے اشخاص کے حوالے سے سماج میں تواہم پرستی پروان چڑھنے لگی تب فاروقی صاحب نے اس بیماری میں مبتلا لوگوں کی انسانی حقوق کو یقینی بنانے کے لئے عالمی سطح پر آواز بلند کی اوراس بیماری میں مبتلا لوگوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مقالے پیش کئے۔
اردو داں کمیونٹی کو اب بھی شہریت کے مسائل سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ اس موضوع کوعلمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے Citizenship and Nationalities in Bangladesh: A Legal and Social Interpretation  کے عنوان سےایک کتاب قلم بند کی جسے ۲۰۱۶ میں شائع کیا گیا۔ دوسرا ایڈیشن ۲۰۲۳ میں شائع ہوا۔ وہ اپنی خود نوشت سوانح عمری لکھ رہے ہیں۔ امید ہے جلد ہی وہ منظرِ عام پر آجائے گی۔ علاوہ ازیں وہ بنگلہ دیش بار کونسل کے ایگزیکٹو کمیٹی کے منتخب رکن بھی تھے۔ ایک شفاف کردار کے حامل ایم آئی فاروقی کو تین مختلف مواقع پر عدالت عالیہ میں جسٹس بننے کی پیشکش کی گئی۔ پہلی پیشکش جسٹس شہاب الدین احمد کی طرف سے آئی، جنہوں نے ان سے جج کے عہدے کے لئے رضامندی مانگی اور اس وقت کے وزیر قانون سے ملاقات کی دعوت دی۔ تاہم انہوں نے وزیرسے ملاقات کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ وزیر خود انہیں ملاقات کے لئے دعوت دیں۔ اسی دوران حکومت کی انسدادِ بدعنوانی بیورو نے انہیں ایک نوٹس جاری کیا۔ جسے انہوں نے ہائی کورٹ میں چلینچ کردیا۔ جب جسٹس شہاب الدین عبوری حکومت کے صدر بنے تو انہوں نے دوبارہ انہیں جج بننے کی پیشکش کی مگر ان کا مقدمہ زیر التوا ہونے کی وجہ سے انہوں نے پھر ایک بار انکار کردیا۔ آخر کار چیف جسٹس اور بعد ازاں نگراں حکومت کے سربراہ حبیب الرحمن نے بھی انہیں جسٹس بننے کی پیشکش کی لیکن مقدمہ اس وقت تک حل نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جج کو ہر طرح کے اعتراضات سے پاک ہونا چاہئے۔ اس جواب سے جسٹس حبیب الرحمن انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ باتیں جسٹس حبیب الرحمن نے مجھے ایک نجی گفتگو کے دوران بتائیں۔ جسٹس حبیب الرحمن اردو ادب کے مداح تھےاور مجھے بہت عزیز رکھتے تھے۔ میں اکثر ان کے گلشن کی رہائش گاہ پر جایا کرتا اور اردو سے بنگلہ وانگریزی ترجمہ کے حوالے سے ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ۔ اپنی ذمہ داری سے سُبک دوش ہونے کے بعد جسٹس حبیب الرحمن نے ادب کے حوالے سےبہت ساری سرگرمیاں انجام دیں۔

 فاروقی صاحب کی شادی سلطانہ ثریا اخترسے ہوئی جن کا تعلق مانک گنج کے ایک معزز بنگالی گھرانےسے ہے۔ وہ پیشہ سے ڈھاکہ میں ایک مشہور تعلیمی ادارہ کی استاد تھیں ۔ ان کی دو بیٹیاں نوشابہ اختر جو کہ ان دنوں کنیڈا میں اور چھوٹی بیٹی نورین اختر ڈھاکہ میں قیام پزیر ہیں۔ اکلوتا بیٹا محمد اشتیاق الرحمن فاروقی پیشہ سے کمپیوٹر سائنس انجنئیر، امریکہ میں مستقل قیام پزیر ہے۔
فاروقی صاحب کو اپنی جائے پیدائش پٹنہ سے بڑا لگاؤ ہے۔ ہجرت کے ۴۲ سال بعد یعنی ۱۹۹۲ میں انہوں نے پٹنہ کا دورہ کیاتھا۔ اپنے رشتہ دار و اقارب سے ملاقات کی ۔ واپسی میں پٹنہ سے ایک مٹھی مٹی اپنےساتھ لے آئے اور خاندان والوں کووصیت کی کہ اس مٹی کو ان کی ابدی آرام گاہ میں شامل کردینا ۔

آج بھی وہ مٹی اتنی ہی حفاظت سے ان کے پاس رکھی ہوئی ہے۔ یہ ہے جائے پیدائش کی مٹی کے ساتھ ان کی محبت و انسیت جس کی مثال دوسری جگہ نہیں ملے گی۔