متحدہ عرب امارات میں یہودی رابی قتل، اسرائیل کا انتقام لینے کا اعلان
اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں قتل ہونے والے ایک یہودی رابی کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔ قدامت پسند یہودی تنظیم حباد سے تعلق رکھنے والے زوی کوگان جمعرات سے لاپتہ تھے۔ بعد میں ان کی لاش ملی تھی۔
خبروں کے مطابق لاپتہ ہونے والے رابی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ان کے قاتلوں کو پکڑنے اور انتقام لینے کا وعدہ کیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ رابی زوی کوگان جمعرات سے لاپتہ تھے۔ اتوار کو کوگان کی لاش ملی ہے۔ ان کی کار ان کے گھر سے آدھے گھنٹے کی فاصلے پر موجود تھی۔
حباد نامی مذہبی تنظیم یہودیوں کے مختلف فرقوں اور سیکولر یہودیوں کے بیچ تعاون پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی ویب سائٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں حباد کی شاخ ہزاروں یہودی سیاحوں اور مقامی لوگوں کے لیے کام کرتی ہے۔ حباد کے مطابق 28 سالہ رابی کوگان متحدہ عرب امارات میں یہودیوں کی فلاح و بہبود کے لیے تنظیم کے دیگر سفیروں کے ساتھ کام کرتے تھے۔ وہ دبئی میں ایک کوشر مارکیٹ بھی چلاتے تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر اور اسرائیلی صدر نے کوگان کے قتل کو ’یہود مخالف دہشتگردی کا واقعہ‘ قرار دیا ہے۔ نتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ریاست اپنی تمام تر صلاحیتوں استعمال کرتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔ کوگان دہری شہریت کے حامل تھے، ان کے پاس اسرائیل کے علاوہ مالدووا کی شہریت تھی۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی نے کہا تھا کہ وزارت داخلہ لاپتہ کوگان کو ڈھونڈ رہی ہیں اور ان کی گمشدگی پر تحقیقات جاری ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ شہری صرف ’ضروری کام‘ کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات جائیں کیونکہ وہاں ’دہشتگرد سرگرمیاں‘ ہوتی ہیں۔ اسرائیلی شہریوں کو بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے والے اسرائیلیوں یا وہاں رہنے والوں کو خطرہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 2020 کے بعد سے یہودی برادری میں اضافہ دیکھا گیا ہے مگر حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے کے بعد سے عوامی مقامات پر انہیں کم ہی دیکھا جاتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ امریکی ثالثی میں سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جنھہں ابراہیم آکارڈز بھی کہا جاتا ہے۔ غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران بھی دونوں ممالک کے بیچ تعلقات برقرار ہیں۔