تحریک انصاف کا قافلہ ڈی گراؤنڈ پہنچ گیا
پاکستان تحریک انصاف کا احتجاجی قافلہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک تک پہنچ گیا ہے۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی کہ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے بھی ان مظاہرین کو نہیں روکا۔
ڈی سی کے مطابق اس وقت صورتحال پرامن ہے تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ کیا حکومت ان مظاہرین سے مذاکرات کرے گی۔ تحریک انصاف احتجاج شروع ہونے سے اس بات پر اصرار کر رہی ہے کہ وہ ہر صورت اسلام آباد کے ڈی چوک پہنچ کر عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کریں گے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور سابق خاتون اول بشریٰ بی بی بھی ایک کنٹینر پر سوار ابھی ڈی چوک کے لیے رواں ہیں مگر ان سے پہلے ہی پی ٹی آئی کے کارکنان کنٹینرز اور رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ڈی چوک تک پہنچے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مظاہرین کو ڈی چوک میں لگائے گئے کنٹینرز پر جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں مطالبات کی منظوری تک دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ٹی آئی پشاور ریجن کے صدر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے قافلے کے ساتھ ارباب نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’15 منٹ پہلے بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور نے مطالبات کی منظوری تک ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان کیا ہے‘۔
اس سے قبل اسلام آباد کے ایک ناکے پر رینجرز پر مظاہرین نے ایک گاڑی چڑھا دی تھی جس میں تین رینجرز اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے۔ رینجرز کے اعلامیہ میں اس کی تصدیق کی گئی ہے اور اسے حادثہ قرار دینے والی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ وزیر اعظم اور دیگر حکام نے سکیورٹی فورسز پر حملہ کی مذمت کی ہے۔
دریں اثنا اسلام آباد میں تحریکِ انصاف کے احتجاج کے دوران مشتعل افراد کی جانب سے متعدد صحافیوں کو نشانہ بنانے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ مشتعل افراد نے نہ صرف انہیں دھکے دیے بلکہ عمارتوں اور سازوسامان کو بھی نقصان پہنچایا۔
بی بی سی کی فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے انڈیپنڈنٹ اردو کی صحافی عینی شیرازی نے بتایا کہ انہیں ڈی چوک میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے دھکم پیل اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ’مجھے اور میرے ویڈیو جرنلسٹ کو دھکے دیے گیے اور گالم گلوچ کی گئی۔ ان کا ایک گروہ آیا جس نے ہمیں دھکے دے کر ڈی چوک سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔ اس دوران میری ٹانگ پر چوٹ آئی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تم لوگ صحیح رپورٹنگ نہیں کر رہے۔‘ عینی شیرازی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس دوران فائرنگ کا آغاز ہو گیا اور یہ ایک مشکل صورتحال بن گئی تھی ہمارے لیے۔
وفاقی دارالحکومت میں تین رینجرز اہلکاروں کی شہادت کے بعد پاک فوج کو طلب کرلیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کو آرٹیکل 245 کے تحت طلب کیا گیا ہے اور انہیں شرپسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ پاک فوج کو انتشار پھیلانے والوں اور شرپسندوں کو موقع پر گولی مارنے کے واضح احکامات دے دیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شرپسند اور دہشت گرد عناصر کی جانب سے کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائے جارہے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کرفیو یا کوئی سخت اقدم اٹھانے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ریڈ لائن کراس کرنا نہیں چاہتے لیکن کسی کو دھاوا بولنے اور اسلام آباد پر قبضے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وزیر داخلہ نےآگاہ کیا کہ پی ٹی آئی کو سنگجانی مین احتجاج کا آپشن دیا، لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔