ہلاکتوں کا دعویٰ بے بنیاد ہے، اسلام آباد کی تمام سڑکیں کھل گئیں: محسن نقوی

  • بدھ 27 / نومبر / 2024

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی سڑکیں کھول دی گئی ہیں۔ 31 دسمبر کے بعد افغان شہری بغیر این او سی اسلام آباد کی حدود میں نہیں رہ سکیں گے۔

اسلام آباد میں رہنے کے خواہشمند افغان شہریوں کو ڈپٹی کمشنر سے این او سی لینا ہوگا۔ صحافیوں سے گفتگو کے دوران محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ہلاکتوں کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ جب کہ صحافی وہاں خود موجود تھے۔ اگر کوئی گولی چلتی تو ساری دنیا میں شور مچ جاتا۔ پی ٹی آئی والے خود پوری دنیا میں پھیلا دیتے ۔ پولیس اہلکاروں کو اسلحہ تو دیا ہی نہیں دیا گیا تھا، ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد پی ٹی آئی کی لیڈر شپ اسلام آباد سے نکل گئی تھی جس کے بعد مظاہرین بھی منتشر ہوگئے۔ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ مانسہرہ پہنچنے والے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے سینکڑوں کارکن جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’بھگوڑے‘ کل جب سے وہاں سے بھاگے ہیں تو پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ 33 لاشیں ایک اسپتال میں موجود ہیں۔ اگر کوئی مرا ہے تو اس کا نام ہی بتا دیں، ہم نے جب پوچھا تو کسی اسپتال میں کوئی لاش نہیں تھی۔ ہمیں نام بتائیں، کون ، کس مقام پر مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ پتھر لگنے سے زخمی ضرور ہوئے ہوں گے، پولیس اور فورسز کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں تاہم مظاہرین کی ہلاکتوں کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس مظاہرین پر آنسو گیس پھینک رہی تھی تو احتجاج کرنے والوں نے بھی شیل چلائے، ان لوگوں نے کتنے شیل چلائے وہ ہم بتا دیں گے۔

دوسری طرف اسلام آباد میں دھرنے سے غائب ہونے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور آج مانسہرہ میں عوام کے سامنے آئے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کارکنوں کو یقین دلایا کہ دھرنا جاری رہے گا۔ مانسہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پچھلے ڈھائی سال سے ہماری جماعت کے ساتھ فسطائیت اورجبر کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے، ہمارا لیڈر اس وقت جیل میں ہے، ان کی اہلیہ کو بھی جیل میں بند رکھا گیا۔ ایسی ظالمانہ روایت ڈالی گئی کہ جس کی مثال پاکستان تو کیا دنیا کی سیاسی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اسلام آباد میں پرامن احتجاج کرنے والے ہمارے سینکڑوں کارکن شہید کردیے گئے۔ سیدھی گولیاں ماری گئیں، سینکڑوں کارکن زخمی ہیں جن کا ٹرک ابھی آرہا ہے۔ شہدا کا ٹرک بھی ابھی آرہا ہے۔ ہزاروں کارکن اس وقت گرفتار ہیں۔ آخر ہمارے راستے میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی گئیں۔ ہم پر تشدد نہ کیا جاتا تو ہمارے لوگ بھی جواب نہ دیتے۔

واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کا احتجاج چھوڑ کر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور پارٹی کے جنرل سیکریٹری عمر ایوب کے ساتھ مانسہرہ پہنچے تھے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کا احتجاج ختم ہونے کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صفائی ستھرائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ مظاہرین کو ریڈ زون آنے سے روکنے کے لیے سڑکوں پر رکھے گئے کنٹینرز ہٹائے جا رہے ہیں۔ سڑکوں پر موجود کچرا اور سوختہ گاڑیوں کو بھی ہٹایا جا رہا ہے۔ کئی مقامات پر تباہ حال گاڑیاں اب بھی موجود ہیں جنہیں ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری استعمال کی جا رہی ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکن پیر کو اسلام آباد پہنچے تھے اور منگل کی دوپہر تک پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب ڈی چوک پہنچ گئے تھے۔ بعدازاں منگل کی شب دیر گئے فورسز کے کریٹ ڈاؤن کے بعد مظاہرین ڈی چوک سے پسپا ہوگئے تھے۔ اسلام آباد میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے کئی مقامات پر اب بھی پنجاب رینجرز کے اہلکار نظر آ رہے ہیں۔ احتجاج سے قبل پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا تھا کہ پارٹی قائد عمران خان کو رہا کیا جائے۔ مظاہرین کے دیگر مطالبات میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، چھبیسویں آئینی ترمیم کا خاتمہ اور آٹھ فروری کے انتخابات کے مینڈیٹ کی واپسی شامل تھا۔

اسلام آباد پولیس کی اطلاع کے مطابق احتجاج میں شریک  954 مظاہرین گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔