پاپولرجناح تھرڈ کی ناکامی کا ذمہ دار کون؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 27 / نومبر / 2024
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا، جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا۔ اردو محاورہ ہے کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ اور یہ بھی کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ یہ کہ کھوکھلا چنا باجے گھنا۔ پی ٹی آئی کی اونچی دکان ک ےپھیکے پکوان ملاحظہ کرتے ہوئے درویش کو سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کا سانحہ یاد آگیا۔
انہیں انٹرنیٹ پر لاکھوں پیغامات موصول ہوئے کہ آپ واپس آئیں ہم آپ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ وہ کھوکھلا آدمی اس بہکاوے میں آکر جب ایئرپورٹ پر اترا تو یہ پوچھتا ہی رہ گیا کہ وہ لاکھوں کدھر ہیں جو میرے لیے اٹھ کھڑے ہونے کے اعلانات کر رہے تھے؟ کچھ اسی طرح کا ہاتھ ہمارے پاپولر لیڈر جناح تھرڈ اور ان کی شریک حیات پنکی پیرنی صاحبہ کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ جنہیں چوری کھانے والے مجنوں یہ کہتے تھے کہ اے ہماری مرشد پیرنی ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ڈی چوک پہنچ کر ایسا طوفان اٹھائیں گے کہ آپ کھلاڑی کو رہا کروا کر بلکہ وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر بٹھا کر ہی اٹھیں گے۔ مگر طاقتوروں کی گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ہوائی فائرنگ اور بہتر پلاننگ کے پہلے ہی دھاوے میں بھاگ کھڑے ہوئے۔ جناح ثالث نے تو یہ سوچا تھا کہ وہ بنگال کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے کی تاریخ دہرا دے گا یا ڈھاکہ میں بنگالیوں جیسی یلغار اسلام آباد میں بھی اٹھا دے گا لیکن یہاں تو الٹی ہوگئیں سب تدبیریں، مرشد کی بلند بانگ تقاریر کی جادوگری نے بھی کچھ نہ کام کیا۔
سارےمجنوں یا جن بھوت بھاگ نکلے۔ کسی بھی قوم کے یوتھ اس قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے یوتھ بھائیوں سے یوں دم دبا کر بھاگنے کی توقع نہ تھی۔ انہوں نے تو اپنے ٹرمپ جیسے عالمی لیڈر ہی کی نہیں، اپنی پنکی پیرنی مرشد کی بھی لاج نہیں رکھی۔ روحانی تفاخر اور پھوں پھاں کی اتنی ہیوی ہنڈیا
ڈی چوک کے چوراہے میں پھوڑ دی۔ افسوس ہے آپ لوگوں پر۔ اس عاجز درویش نے آپ لوگوں کو کس قدر سمجھایا تھا کہ جیسے تیسے بنا بنایا سچا جھوٹا اپنا بھرم نہ توڑیے گا۔ ہمارے موجودہ حالات کسی بھی ایسی تحریک کے لیے قطعی ناسازگار ہیں۔ احتجاجی تحریک تب بھڑکتی ہے جب استبداد کی ایک تاریخ ہو۔ ہمارے عام لوگ تو ابھی تمہارے کھلاڑی کی زیادتیاں نہیں بھولے۔ موجودہ نا اہل چاپلوسوں کو کچھ بڑی حماقتیں کر لینے دو اور پھر کسی بھی وفادار کو اتنا ہی ہڈ اٹھانا چاہیے جتنا جتنے جوگا وہ ہو۔
حالت تمہاری یہ ہے کہ سوائے بہادر پٹھانوں کے دیگر تمام صوبوں سے خان کی رہائی کے لیے تمہارے کتنے سورما نکلے ہیں؟ ڈی چوک سے بھاگتے ہوئے افغان بچے اپنے پنجابی یوتھ بھائیوں کو محبت بھری صلواتیں سناتے ہوئے یاد فرما رہے تھے کہ ہمارے خان بیچارے کے کپڑے جیل میں پسینے سے گل گئے ہیں۔ وہ بے بسی میں وہاں تنہا بیٹھا رل گیا ہے۔ جبکہ ہمارے لاہوری جوان بھنگ پی کر سو رہے ہیں۔ انصاف والوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی بے انصافی ہوگئی ہے۔ یہ تو ابھی طالبان جوانوں نے کے پی قیادت بالخصوص علی امین صاحب شہد والے کا بھرم رکھ لیا۔ ورنہ خرچے پانی، پرموشن اور جھوٹی طفل تسلیوں کے بہکاوے میں لائے گئے غربت اور مسائل کے مارے لوگ اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتے تھے؟
دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کی منتخب قیادت جو اس وقت اسمبلیوں میں براجمان ہے، وہ عقل و فہم سے ہرگز پیدل نہیں ہے۔ ان لوگوں کو تلخ حقائق کی سنگینی کا اچھا خاصا ادراک ہے، علی امین گنڈا پور ہوں یا بیرسٹر گوہر یا عمر ایوب یہ سب عوامی مسائل و مشکلات کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ اور اس حقیقت کو بھی پوری طرح سمجھتے ہیں کہ ممولے کو شاہین کے ساتھ لڑانے سے پہلے نتائج پر بھی نگاہ ہونی چاہیے۔ اس وجہ سے یہ لوگ موجودہ حالات میں اپنی سیاسی جدوجہد کو انتہائی اقدام یا ڈائریکٹ ایکشن تک لے جانے سے گریزاں تھے۔ اور ڈائریکٹ ایکشن اس وقت اٹھایا جا سکتا ہے جب اسٹیبلشمنٹ کی چھتری یا کسی نہ کسی سائیڈ سے اس کی کوئی انگلی یا اشارہ موجود ہو۔ بصورت دیگر ایسے ہی انجام سے دوچار ہونا پڑتا ہے جو چوبیس نومبر کی آخری یا فائنل کال کا ہوا ہے۔ کھلاڑی کی بیگم بشریٰ اپنی تمامتر روحانی طاقتوں کے ساتھ خود کو جو بھی سمجھتی ہیں، سیاسی وزڈم اس سے کہیں الگ چیز ہے۔ انہوں نے اپنی لیڈرشپ منوانے کے لیے پورے خلوص کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، اس سے پی ٹی آئی کی ساکھ کو فائدے کی بجائے الٹا نقصان پہنچا ہے۔ ان کا سوشل میڈیا پر یہ بیان بڑی چرچا کے ساتھ گھوم رہا ہے کہ وفادار بیوی مشکل ترین حالات میں بھی کبھی اپنے خاوند کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔ کبھی بے وفائی نہیں کرتی۔ کتنی خوبصورت بات ہے جو انہوں نے ارشاد فرمائی ہے لیکن میڈیا میں بہت سے لوگ اقبال کا یہ شعر پڑھتے بھی سنائی دیے ہیں کہ بی بی عمل سے زندگی بنتی ہے اور یہ بھی سوچیے کہ آپ کے اس بیان سے بیچارے خاور مانیکا کے دل پر کیا گزری ہوگی؟
27 اور 28 نومبر کی درمیانی رات اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایسا کیا ہوا جو کھلاڑی کا پرجوش احتجاجی قافلہ اپنے قائد علی امین کے ساتھ گنڈاپور کی طرف شہد پینے بھاگ نکلا اور روحانی قوتوں کی حامل مرشد پیرنی صاحبہ بھی اس بھاگ دوڑ میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ جو کہتی تھیں کہ خان کو لیے بغیر نہیں جاؤں گی۔ بہت سے دوست فون کرتے ہوئے درویش سے اصلیت جاننے کے لیے اس نوع کا استفسار کر رہے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ بھائی یہاں ہر مال جعلی ہے پریت ہے جھوٹی، پریتم جھوٹا، جھوٹی ہے ساری نگری۔ مصنوعی نعرے، مصنوعی قیادت، مصنوعی کارکنان، وہ اتنگ وادی جنہیں خصوصی طور پر یہاں لا بسایا گیا تھا، وہ بھی کام نہ دکھا سکے۔ بلکہ حافظ صاحب کی بہتر منصوبہ بندی نے انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ اب مہینوں یہ بحثیں ہوتی رہیں گی کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے میں آپریشن کلین اپ کیسے ہوا؟
حافظ صاحب نے اصل والے ایک پیج کو کیسے درست ثابت کر دکھایا؟ کتنے گرفتار ہوئے اور کتنے گھائل؟ اس پر بھی حسب استطاعت تخمینے لگتے رہیں گے۔ بہرحال یہ قیدی نمبر 804 کی زندگی کا "یوم حزن " ہی کہا جا سکتا ہے۔ توبہ، کس قدر بد حواسی تھی کہ بھاگنے والوں کی، اپنی گاڑیاں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ اہم ریکارڈ رکھنے والا کنٹینر بھاگتے ہوئے کارکنان نے خود ہی جلا ڈالا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے رینجرز والوں نے اندھیرے میں بھرپور پٹائی کی کیونکہ احتجاج والوں نے ان کے تین اہلکار مار ڈالے تھے۔ ٹوٹل کتنی ہلاکتیں ہوئیں اور کتنے زخمی؟ یہ بحثیں چلتی رہیں گی، عجیب و غریب حیلے بہانے ڈالے جا رہے ہیں کہ جب طالبان خان نے خود یہ کہہ دیا تھا کہ سنگجانی پر دھرنا دے دیا جائے تو پھر بشریٰ بیگم نے اسے کیوں نظر انداز کردیا؟
حکومتی سورماؤں کو بھی یہ امر ذہن نشین رہنا چاہیے کہ ان کی عوامی ساکھ اس وقت کس سطح تک گری ہوئی ہے۔ لٹھ کے زیر سایہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ وہ کے پی میں گورنر راج لاگو کرنے کی منفی سوچ اپنے اذہان سے نکال دیں۔ ملک اس وقت بدترین معاشی بربادی کا شکار ہی نہیں دہشت گردی اور جنونیت میں بھی لتھڑا پڑا ہے۔ ایک طرف لوگ مہنگائی، بے روزگاری اور بے انصافی کے ہاتھوں رو رہے ہیں تو دوسری طرف کوئی دن نہیں گزرتا جب انتہا پسندی، مذہبی منافرت اور قتل و غارت گری کی کوئی واردات نہیں ہوتی۔ ابھی پارہ چنار میں شیعہ سنی کے نام پر جتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور بلوچستان میں علیحدگی پسندی جس طرح بڑھ رہی ہے، چائنہ جس کی دوستی کے دعوے کرتے تمہارے گلے خشک نہیں ہوتے ان کے اپنے لوگ یہاں جتنے مر رہے ہیں۔ اور وہ اپنی عدم اعتمادی کا جس طرح کھلے بندوں اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی نیاسیاسی خلفشار ہمیں کہاں لے جائے گا؟
ایسی کسی حرکت سے پہلے اس کے نتائج کا ادراک کریں۔ بس اتنا سوچ لیں کہ اگر رات کو پی ٹی آئی کارکنان بھاگنے کی بجاۓ ڈٹ جاتے تو آپ سب کا حشر نشر ہو جاتا۔ کسی بیرونی ملک میں پناہ مانگ رہے ہوتے۔