لاہور کی علمی روایت پر حملہ
- تحریر نسیم شاہد
- بدھ 27 / نومبر / 2024
جب بھی لاہور جانا ہو اور درمیان میں اتوار آ جائے تو پاک ٹی ہاؤس کے سامنے لگنے والے کتاب بازار ضرور جاتا ہوں،میرے نزدیک یہ بھی گویا لاہور کی ایک ثقافتی و علمی شناخت ہے۔ آج سے نہیں کئی دہائیوں سے کتابوں کی یہ دنیا آباد ہے۔
یہاں پرانی کتابیں دستیاب ہوتی ہیں اور تشنگانِ علم جو مہنگی کتابیں نہیں خرید سکتے۔اِس بازار سے اُنہیں اچھی کتابیں انتہائی سستے داموں مل جاتی ہیں۔ میری لائبریری میں ایسی بیسیوں نایاب کتابیں ہیں جو مجھے اس جگہ سے ملیں اور اُن کی وجہ سے میری لائبریری بہت قیمتی ہو گئی۔منیر نیازی جب زندہ تھے تو ایک روز وہ مجھے یہاں مل گئے۔میں نے پوچھا کیا آپ بھی یہاں پرانی کتابیں خریدنے آتے ہیں،انہوں نے کہا نہیں، میں صرف یہ دیکھنے آتا ہوں کس کس نے میری کتابوں پر میرے دستخط کرا کے یہاں بیچ دی ہیں۔
اس کتاب بازار میں صرف یہی نہیں کہ ادب کی کتابیں موجود ہوتی ہیں، سائنس، فلسفہ، تاریخ، شکایات، انفرمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور دیگر علوم پر کتابوں کی واقعی ایک ایسی متنوع دنیا ملتی ہے، جو شاید کسی بڑے بک سٹور پر بھی دستیاب نہ ہو۔مجھے بیرون ملک رہنے والے کئی دوستوں نے بھی بتایا کہ لاہور آ کر اُن کی ایک مصروفیت یہ بھی ہے کہ کتابوں کے اس بازار کا دورہ کریں جہاں علم کے موتی بکھرے ملتے ہیں۔کل سے میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہوں،مختلف پوسٹوں کے ذریعے یہ بتایا جا رہا ہے بلدیہ کے کسی تجاوزات ہٹانے والے انسپکٹر نے اپنے عملے کے ساتھ یہاں دھاوا بولا ہے اور اس بازار کو عام فہم زبان میں تہس نہس کر دیا ہے۔کتب فروشوں کا سامان اُٹھا لیا، کتابوں کو بے دردی سے ٹھوکریں ماریں۔ گویا علم کو پاؤں تلے تاراج کیا۔
میں نے یہ پوسٹیں دیکھیں تو یقین کریں خون کھول اُٹھا۔یہ کیسا ملک بن گیا ہے کہ جہاں ایک عام سا کارندہ دہائیوں کی روایت کو پاؤں تلے روند دیتاہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ واقفانِ حال نے بتایا ہے کہ متعلقہ علاقے کایہ انسپکٹر بلدیہ ہر کتب فروش سے پانچ پانچ سو روپے بھتہ مانگ رہا ہے۔ نہ دینے پراپنی اصلیت دکھاتے ہوئے اور جہالت کی تربیت کے سبب اس ہفتہ وار بازار کو اُجاڑنے پر اُتر آیا۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے شاہراہ قائداعظم کی جس ذیلی سڑک پر پاک ٹی ہاؤس کے سامنے یہ بازار لگتا ہے، وہاں سے بہت کم ٹریفک گزرتی ہے۔ پھر یہ لوگ ایک سائیڈ پر کتابیں لگا کر بیٹھتے ہیں،جہاں لاہور بھر، ملک کے مختلف شہروں سے لوگ کتابوں کی خریداری کے لئے آتے ہیں۔طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد بھی ہوتی ہے جنہیں اپنی نصابی کتابیں بھی ارزاں قیمت پر مل جاتی ہیں جو وہ اپنے محدود وسائل کی وجہ سے مہنگے داموں نہیں خرید سکتے۔
ویسے بھی یہ بڑی شرمناک بات ہے کہ پورا لاہور تجاوزات سے بھرا ہوا ہے،جس سڑک اور جس بازار میں چلے جائیں دکانداروں نے سڑکوں پر قبضے جما رکھے ہیں۔اُن کی طرف کبھی توجہ نہیں دی گئی۔ برق گری تو اس بازار پر جو لاہور کے علمی چہرے کو اُجالتا ہے،جو عالمی سطح پر لاہور کی پہچان بنا ہوا ہے، جہاں علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کے علم و ادب کا ورثہ اسی سڑک پر بکھرا مل جاتاہے۔اس بازار کو تجاوزات کے نام پر ختم کرنے والے اہل جہالت کو کیا نام دیا جائے۔ ضرورت تو اِس بات کی ہے کہ ہر اتوار یہاں کتاب بازارلگانے کے لئے انتظامیہ کی طرف سے سہولتیں فراہم کی جائیں۔ کتاب پڑھنے کا رجحان ویسے ہی زبوں حالی کا شکارہے، ایسے میں اگر کچھ کتابوں کے عاشق اُن کی تلاش میں لاہور کے اس بازار کا سفرکرتے ہیں توانہیں وہ زائرین سمجھنا چاہئے جو لاہور کے تاریخی مقامات دیکھنے لاہور آتے ہیں اور انتظامیہ اُن کے راستے میں دیدہ و دِل فرش راہ کرتی ہے۔
سیاست کی گرم بازاری اور کنٹینروں کے اس دور میں شاید حکمرانوں کی توجہ ایسے واقعات کی طرف نہیں جاتی۔وگرنہ مجھے یہ خوش فہمی تھی کوئی اور نہیں،بلکہ خود وزیراعلیٰ مریم نواز اس علم دشمنی کا نوٹس لیں اور لاہور انتظامیہ کی گوشمالی کریں گی۔اہل ِ علم نے جس طرح لاہور کے اس واقع کی مذمت کی ہے اور اپنے دُکھ کا اظہارکیا ہے وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ لاہور کا یہ علمی بازار کسی نہ کسی لمحے ہر کتاب لوور کی زندگی میں روشنی کا استعارہ ہے۔کتابیں آلودگی پھیلاتی ہیں اور نہ اُن سے بدبو آتی ہے،سوائے اُن جاہلوں کے جو گندگی کے ڈھیر کو صاف نہیں کراتے اور اس کے پاس سے آنکھیں بند کر کے گزرجاتے ہیں لیکن کتابوں کی موجودگی اُن کے تن بدن میں آگ لگا جاتی ہے۔عام طور پر انتظامیہ سبزبوں، پھلوں، مرغی کے گوشت اور دیگر اشیاکے جمعہ یا اتوار بازار لگواتی ہے وہ جب شام کو ختم ہوتے ہیں تو پیچھے گندگی کے انبار چھوڑ جاتے ہیں۔ مگر یہ کتابوں کا بازار سارا دن علم کی پیاس بجھا کر جب ختم ہوتا ہے تو پیچھے کتابوں کی خوشبو اور کاغذوں کی چمک کے سوا کھ بھی نہیں ہوتا۔
سوال یہ ہے کیا کمشنر لاہور نے اس علم دشمن واقعہ کا نوٹس لیا، کیا ڈپٹی کمشنر نے سوشل میڈیا پر اہل علم کی دہائی پر توجہ دی۔کیا بلدیہ کا یہ انسپکٹر اتنا طاقتور ہو گیا ہے کہ لاہور کی ایک ایسی علمی روایت کو جو کئی دہائیوں سے جاری ہے، اپنا عملہ لا کر ملیا میٹ کر دے۔کسی افسر سے پوچھنے کی زحمت تک گوارا نہ کرے اور نہ ہی اِس حوالے سے اجازت لے۔کیا اندھیر نگری چوپٹ راج کا جو نظام عمومی طور پر ہمارے افسران کی عادت بنا ہوا ہے۔ اُس میں اب اعلیٰ روایات اور عملی و ثقافتی تشخص کا بھی قتل ِ عام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ کل کلاں اگر کسی کے دِل میں آئی کہ پاک ٹی ہاؤس کو بھی ختم کیاجائے، کیونکہ یہاں ادیب شاعر بیٹھ کر فکری آلودگی پھیلاتے ہیں،جو ملک و قوم کے لئے ضرر رساں ہے اور اعلیٰ افسر اِس سے اتفاق کرتے ہوئے اسے سیل کرنے کا حکم جاری کر دیتے ہیں تو اسے بھی قبول کر لیا جائے گا۔لاہور کے ادبی حلقوں، اہل ِ ادب اور کتاب سے محبت کرنے والوں نے کتابوں کے بازار پر شب خون مارنے کی کارروائی پر جس طرح شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، وہ اُس کے زندہ اور باشعور ہونے کی دلیل ہے۔ روایات برسوں میں قائم ہوتی ہیں اور وہ روایات جو کسی شہر کی شناخت کا درجہ حاصل کر لیں وہ تو بہت ہی قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں انہیں ختم کرنے کی ہر سازش پر آواز اٹھانا فرض بھی ہے، ذمہ داری بھی۔
لاہور کے بڑے انتظامی افسروں جن میں کمشنر، ڈپٹی کمشنراور خود اطلاعات و ثقافت کی صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کو اگر انہیں سیاسی معاملات سے تھوڑی فرصت مل جائے تو اس واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ حکم جاری کرنا چاہئے کہ پرانی کتابوں کا یہ بازارا سی طرح جاری رہے گا اور حکومت اس کے لئے سہولتیں بھی فراہم کرے گی۔ لوگ پوسٹوں میں لکھ رہے ہیں اولڈ بُک بازارپر منگولوں کا حملہ ہوا ہے۔ یہ کون سے منگول ہیں جو لاہور کی تہذیبی شناخت کا چہرہ مٹانے پر تُلے ہوئے ہیں،ان کی بیخ کنی کس کی ذمہ داری ہے؟
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)