اشتعال انگیزی سے گریز کی ضرورت
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 27 / نومبر / 2024
اسلام آباد میں تحریک انصاف کے ناکام احتجاجی مظاہرے کے بعد فریقین کو ہوش کے ناخن لینے اور سوجھ بوجھ و مفاہمت سے معاملات آگے چلانے کی ضرورت ہے۔ حکومت اور تحریک انصاف کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے، دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کرنے، غیر مصدقہ خبریں عام کرنے اور عوام کے جذبات بھڑکانے کی بجائے مصالحت کا راستہ تلاش کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے فی الوقت کسی طرف سے ایسی ہوشمندی کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔
احتجاج ختم کرنے یا اسے جاری رکھنے کے حوالے سے بھی متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ پارٹی کی ویب سائٹ پر آج علی الصبح نئے اعلان تک احتجاج معطل کرنے کا اعلان کیا گیاتھا لیکن تھوڑی دیر بعد ہی مانسہرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا ۔ اسے ختم کرنے کا فیصلہ صرف عمران خان کرسکتے ہیں۔ ابھی وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کی جوشیلی باتوں گونج فضا میں موجود تھی کہ روزنامہ ڈان نے رات گئے خبر دی ہے کہ اسلام آباد پولیس نے عمران خان، بشریٰ بی بی ، علی امین گنڈا پور اور دیگر پارٹی رہنماؤں وکارکنان کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مزید 8 مقدمات درج کرلیے ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی پہلے ہی اسلام آباد کی طرف احتجاج کے لیے آنے والے اور انہیں اس پر اکسانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دے چکے تھے۔ حالانکہ ہوشمندی کا تقاضہ تھا کہ مقدمے قائم کرنے کی بجائے سیاسی اختلافات کا کوئی مفاہمانہ حل تلاش کیا جاتا۔
گزشتہ رات پولیس کریک ڈاؤن کے بعد کارکنوں کو تنہا چھوڑ کر ڈی گراؤنڈ سے غائب ہوجانے والے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے آج صبح مانسہرہ میں پرجوش پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے ان کارکنوں سے معافی مانگنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جنہیں وہ اسلام آباد میں پولیس و رینجرز کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خیبر پختون خوا کی حدود میں پہنچ گئے تھے۔ البتہ وہ حکومت پر خوب برسے اور مبالغہ آمیزی کی حد تک بلند بانگ دعوے کیے۔ ان میں سینکڑوں کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی شامل تھا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شہید کارکنوں کی لاشیں لے کر ٹرک خیبر پختون خوا پہنچنے والا ہے۔ حالانکہ اگر واقعی اتنی بڑی تعداد میں کارکن جان بحق ہوئے تھے اور ان کی لاشیں جمع کرکے ٹرکوں میں لاد ی جارہی تھیں تو علی امین گنڈا پور خود اس موقع پر کیوں موجود نہیں تھے؟ کیا کسی لیڈر کو زیب دیتا ہے کہ وہ اپنی جان بچانے کی جلدی میں کارکنوں کی حفاظت کا مقصد فراموش کربیٹھے۔ علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے کارکنوں کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر اکساتے رہے تھے۔ البتہ جب ڈی گراؤنڈ میں اندھیرا پھیل جانے کے بعد پولیس و رینجرز نے آپریشن شروع کیا تو یہ دونوں لیڈر کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے وہاں موجود نہیں تھے۔ بلکہ انہیں خود کسی ایسے محفوظ مقام پر پہنچنے کی جلدی تھی جہاں اسلام آباد یا پنجاب پولیس انہیں گرفتار نہ کرسکتی۔ حالانکہ ان کی گرفتاری سے بھی کوئی قیامت بپا نہ ہوتی بلکہ قیادت کی موجودگی میں شاید پولیس تحریک انصاف کے کارکنوں کی کثیر تعداد کو گرفتار کرنے کی بجائےانہیں صرف واپس جانے کا مشورہ دینے پر اکتفا کرتی۔
اسلام آباد پولیس کی اطلاع کے مطابق 954 کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا تھا۔ باقی ماندہ لوگ پولیس سے چھپ کر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ۔ پولیس البتہ متعدد نامزد افراد کو تلاش کررہی ہے۔ لیڈر آزاد رہیں تو وہ تقریر کرسکتے ہیں اور گرفتار ہوجائیں تو انہیں بہترین قانونی امداد حاصل ہوتی ہے لیکن عام کارکن غیر قانونی مظاہرے سے فرار ہوکر بھی مشکل میں پھنستا ہے اور اگر پکٹرا جائے تو وسائل میسر نہ ہونے کی وجہ سے اسے عدالتوں سے انصاف لینے میں مشکل پیش آتی ہے۔ بشریٰ بی بی اور گنڈا پور نے اپنے اپنے طور پر کارکنوں کو اشتعال دلایا اور تاحیات دھرنا دینے جیسے دعوے کیے لیکن جب گرفتاری کا وقت آیا تو کارکنوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ کارکنوں کا خون بہنے پر گریہ و زاری کرنے کی بجائے ان لیڈروں کو یہ جواب دینا چاہئے کہ وہ خود کیوں پولیس کارروائی کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ نہیں کرسکے؟
علی امین گنڈا پور نے وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود ایک سیاسی مظاہرے میں بار بار شرکت کرکے اپنی سرکاری حیثیت کا غلط استعمال کیا ہے۔ انہیں خیبر پختون خوا کے عوام اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو اس بات کا جواب بھی دینا چاہئے کہ وہ عوامی وسائل کو کیسے اور کیوں کر ایک پارٹی کے احتجاج کے لیے استعمال کرنے کی روایت راسخ کررہے ہیں۔ ملک میں جمہوریت لانے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی کو خود احتسابی نام کی اصطلاح کی خبر بھی ہونی چاہئے۔ اگر تحریک انصاف اور اس کے لیڈر واقعی ملک میں عوام کی حکمرانی ہی کے لیے اس وقت تن من دھن داؤ پر لگائے ہوئے ہیں تو انہیں اس اصول کا احترام بھی کرنا چاہئے کہ کسی صوبائی حکومت کے اختیار اور وسائل کو سیاسی احتجاج کے مقصد سے استعمال نہ کیا جائے۔ خاص طور سے جب اس کا مقصد مرکزی حکومت کو چیلنج یا زچ کرنا ہو۔ کوئی ملک بلکہ کوئی جمہویت بھی ایک صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کے ساتھ برسر پیکار ہونے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ تحریک انصاف اور خیبر پختون خوا کی حکومت کو عوامی حاکمیت کے نام پر احتجاج منظم کرتے ہوئے اس حساسیت کا خیال رکھنا چاہئے۔
ایک طرف علی امین گنڈا پور اپنی ناکامی، کم ہمتی اور بدحواسی کو چھپانے کے لئے اشتعال پھیلانےکی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف وزیر اعظم شہباز شریف بھی اپنے تئیں تصادم کو ہوا دینے اور مسائل حل کرنے کی بجائے، ان کی نشاندہی کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دے کر دل کی بھڑاس نکال رہے ہیں۔ ایک ہنگامہ خیز احتجاج کے خاتمہ کے بعد منتخب وزیر اعظم کی طرف سے معتدل اور معاملہ فہمی پر مبنی بیان کی توقع کی جاتی ہے ۔ شہباز شریف کو خواہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹر نے منتخب کرکے اس منصب تک پہنچایا ہو لیکن وہ بطور وزیر اعظم ملک کے سب لوگوں کی بہبود کے ضامن ہیں۔ تمام شہریوں کے جان و مال کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہے۔ گزشتہ روز ڈی گراؤنڈ کے وقوعات میں خواہ پولیس یا رینجرز کے اہلکار جاں بحق ہوئے یا عام سیاسی کارکن اور شہری مارا گیا، وزیر اعظم کے طور پر شہباز شریف کو ذاتی طور سے اس ناخوشگوار صورت حال کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے اور وعدہ کرنا چاہئے کہ وہ مستقبل میں حالات کو اس نہج پر نہیں جانیں دیں گے۔
اس کے برعکس شہباز شریف نے آج وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ ہم سخت فیصلے کریں کیونکہ ترقی، خوشحالی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ آج کے بعد ان فسادیوں اور پاکستان کے دشمنوں کو مزید موقع نہیں دیا جائے گا۔ اگر ہر روز فسادی یہاں جنگ کا میدان لگائیں گے تو ہم بحالی کی طرف جائیں یا پھر ان پر اپنی توانائیاں صرف کریں؟ اب قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ احتجاج کی سیاست کو جاری رکھنا ہے یا پھر ملکی معیشت بحال کرناہے‘۔ ایک پارٹی کے شدید احتجاج اور ملک میں پائے جانے والے اضطراب و مایوسی کے ماحول میں وزیر اعظم کی یہ دھمکی آمیز باتیں نامناسب ہیں۔ اس رویہ سے ملک سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ملک میں انتخابی نتائج کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ تحریک انصاف کے علاوہ متعدد دوسری پارٹیاں بھی 8 فروری کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں۔ البتہ پی ٹی آئی نے انتخابی نتائج کو مسترد کرنے کے لئے تواتر سے عملی جد و جہد کی ہے۔ ان کوششوں کے طریقہ کار کے بارے میں ضرور سوال اٹھایا جاسکتا ہے لیکن اس اصولی نکتہ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے کہ فروری کے انتخابات شفاف نہیں تھے اور حکومت اس بارے میں شبہات دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کی بجائے متعدد ایسی فیصلے کیے گئے اور یک طرفہ قانون سازی کی گئی جس کا مقصد تحریک انصاف کو دیوار سے لگانا تھا۔ ان فیصلوں میں خاص طور مخصوص نشستوں پر تحریک انصاف کا حق تسلیم نہ کرنے کا معاملہ سر فہرست ہے۔ انتخابی نتائج نہ بھی تبدیل کیے جاتے لیکن اگر حکومت تصادم کی بجائے مفاہمت اور ضد کی بجائے معاملہ فہمی کا طریقہ اختیار کرتی تو سیاسی تصادم کی صورت حال شاید اس قدر سنگین نہ ہوتی۔
یہ باور کرلینا حکومت یا وزیر اعظم کی سنگین غلطی ہوگی کہ گزشتہ رات ہونے والے کامیاب پولیس ایکشن کے بعد معاملات پر امن ہوجائیں گے۔ یا تو تحریک انصاف اب حتجاج کرنے کا حوصلہ نہیں کرے گی اور یا حکومت ایسے احتجاج کو شروع میں ہی دبانے میں کامیاب رہے گی۔ وزیراعظم نے کابینہ میں تقریر کرتے ہوئے یہی تاثر دینے کی کوشش کی ہے جو حالات کی غلط تفہیم پر مبنی ہے۔ حکومت کو اس رویہ کی اصلاح کرکے مسئلہ کو تسلیم کرنے اور اس کے حل کے لیے مناسب پلیٹ فارم پر پیش قدمی کرنی چاہئے۔ انسانی حقوق کمیشن نے بھی حکومت کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ اسی طرح ایمنسٹی انٹرنیشنل گزشتہ رات کے آپریشن کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کررہی ہے۔ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبے پر شہباز شریف کا یہ استدلال بھی قابل قبول نہیں ہے کہ پی ٹی آئی اگر فروری کے انتخابات کی تحقیقات چاہتی ہے تو اسے پہلے 2018 کے انتخابات کی تحقیقات کرانی چاہئیں۔ ایک تو اب سابقہ انتخابات کی بات کرنا ناجائز طریقہ ہے کیوں کہ تحریک انصاف نے اگر اس کا ثمر پایا بھی تھا تو وہ اڑھائی تین سال سے اس کی بھاری قیمت بھی ادا کررہی ہے۔ دوسرے کسی بھی وقوعہ کی تحقیقات کرانا اب موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ شہبازشریف کو کس نے روکا ہے کہ وہ 2018 کے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی تحقیقات نہ کرائیں۔ سابقہ انتخاب میں دھاندلی کا طعنہ دے کر اس دھاندلی کے الزام سے کیسے بچا جاسکتا ہے جس کا فائدہ سراسر مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کو ہؤا ہے۔ جمہوری حلقے تو اسی پر ماتم کناں ہیں کہ اگر 2018 میں ایک ہائیبرڈ نظام کی بنیاد رکھی گئی تھی تو 2024 اسے دہرا کر سیاسی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی حتمی اتھارٹی پر مہر تصدیق ثبت کردی گئی۔ یہ طریقہ ملک میں عوامی حکمرانی کے اصول سے متصادم ہے۔
دوسری طرف تحریک انصاف بھی سیاسی لڑائی جھوٹے دعوؤں، اشتعال انگیز بیانات اور بے مقصد مظاہروں و احتجاج سے لڑنے کی بجائے ،سیاسی حل کی طرف مائل ہو۔ موجودہ حالات میں ’فائنل کال‘ کے نام پر پارٹی کارکنوں کو غیر قانونی اجتماع پر مجبور کرنا غلط حکمت عملی تھی۔ ناکامی کے بعد ہلاکتوں کے بارے میں سوشل میڈیا کے علاوہ بیانات میں بے بنیاد دعوے کرکے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ علی امین گنڈا پور نے سینکڑوں کارکنوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جبکہ تحریک انصاف کے اعلان کے مطابق 8 کارکن جاں بحق ہوئے۔ زلفی بخاری اور سلمان اکرم راجا ہلاکتوں کے اپنے اپنے دعوے کررہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ایک کا دعویٰ دوسرے کی معلومات سے میل نہیں کھاتا۔
تحریک انصاف اسی طرح فروری کے انتخابات میں کامیابی کے مختلف دعوے کرتی رہی ہے ۔ کبھی واضح اکثریت کا اعلان کیا جاتا ہے، کبھی یہ کامیابی دو تہائی یا تین چوتھائی تک جا پہنچتی ہے۔ اسی طرح اگر اب لاشوں کی گنتی پر سیاست کرنے اور متنوع دعوؤں کے علاوہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ٹرینڈ چلانے کا طریقہ اختیار کیاجائے گا تو عام لوگ یہی سمجھیں گے تحریک انصاف کی قیادت جھوٹ بولنے کی عادی ہے۔ ان کی کوئی بات قابل اعتبار نہیں ہے۔