میری کہانی(9)
- تحریر عطاالحق قاسمی
- جمعرات 28 / نومبر / 2024
گزشتہ کالم میں مجھ سے سرزد دو غلطیوں کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ پروفیسر رفیق اختر نے ایم اے او کالج سے مستعفی ہونے کے بعد گوجرہ میں نہیں گوجر خاں میں برتنوں کی دکان کھولی تھی۔ دوسرے یہ کہ چھ ہزار پاکستانی روپوں کے بدلے سو ڈالر نہیں چھ سو ڈالر ملے تھے۔ کیونکہ اس زمانے میں ایک ڈالر دس روپے کا تھا۔
بہرحال جب میں نے کالج میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لیا تھا میرے اردو کے استاد پروفیسر طفیل دارا تھے۔ جب میں لیکچر ر بنا اس وقت دارا صاحب صدر شعبہ اردو تھے۔ دارا صاحب بہت سے حوالوں سے باکمال شخصیت تھے۔ ٹھگنے قد کے تھے۔ باڈی بلڈنگ کرتے تھے اور شاعر بھی تھے۔ جب تک مجھے اور امجد اسلام کو علیحدہ کمرہ الاٹ نہیں ہوا، ہم دونوں اور دوسرے کچھ کولیگ بھی دارا صاحب کے’’ڈیرے‘‘ پر ہی جمع ہوتے تھے ۔ دارا صاحب نے سامنے والی دیوار پر غالب اور اپنی نشست کے پیچھے مسٹر یونیورس کی تصویر آویزاں کی ہوئی تھیں۔
ایک دن بہت موڈ میں تھے غالب کی تصویر کی طرف اشارہ کیا اور کہا ’’اوئے غالباً نہ ہوا تو میرے دور میں تیرے ہاتھ میں ہاتھ پڑتا تو تجھے لگ پتہ جاتا ۔ میں نے دارا صاحب کو مخاطب کرکے عرض کی دارا صاحب یہ آپ کس شریف آدمی کو چیلنج دے رہے ہیں۔ آپ کے پیچھے مسٹر یونیورس ہے۔ چیلنج دینا ہے تو اسے دیں۔ آپ باڈی بلڈر بھی تو ہیں۔ دارا صاحب میرے ساتھ بہت شفیق تھے جس کی میں لبرٹی لے جاتا۔ ایک روز میری دھواں دار اسموکنگ سے تنگ آکر غصے میں آ گئے اور مجھے مخاطب کرکے کہا پروفیسر صاحب آئندہ آپ نے سگریٹ پینا ہو تو مجھے بتا دیا کریں میں کمرے سے نکل جاؤں گا۔ میں نے اسی وقت سگریٹ بجھا دیا اور پھر پانچ منٹ بعد انہیں مخاطب کرکے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا سر ذرا زحمت کریں ۔ دارا صاحب میری اس طرح کی شوخیوں کو نظرانداز کر دیا کرتے۔ مگر ایک دن میں کالج آیا تو دیکھا دارا صاحب کے سر پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں پتہ چلا کہ سائیکل چلاتے ہوئے گر گئے تھے۔ ان کے کولیگ ان سے اظہار ہمدردی کر رہے تھے۔ میں ان کے قریب گیا اور دارا صاحب کو مخاطب کرکے کہا ’’سر آپ کہیں کوئی مشاعرہ پڑھنے تو نہیں گئے تھے اور ساتھ ہی بھاگ کھڑا ہوا۔ اس پر وہ پہلی بار غصے میں آئے۔ اور سر پر بندھی پٹی کے باوجود میرے پیچھے دوڑے۔ مگر میں کہاں ہاتھ آنے والا تھا‘‘۔
مگر اگلے دن میں پھر ان کے کمرے میں بیٹھا تھا اور کہہ رہا تھا سر ذرا چائے تو منگوائیں اور اس کےساتھ پٹھان سے پلستر بھی منگوا دیں۔ دارا صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ ابھر آئی اور کہا تم بہت شرارتی لڑکے ہو۔ شکر ہے اس دفعہ انہوں نے مجھے پروفیسر صاحب نہیں کہا۔ کیسے اعلیٰ انسان تھے۔ ان کے متعلق ایک روایت مشہور تھی کہ وہ ہمیشہ اپنے کمرے میں ڈمبل بھی رکھتے تھے اور اکثر اجنبی ملاقاتیوں کے سامنے ’’ایکسکیوز می‘‘ کہہ کر ڈمبل سے ورزش شروع کر دیتے۔ تاہم اس روایت کا سورس اچھی شہرت کا مالک نہیں۔ چنانچہ میں اسے رد کرتا ہوں؟
میرے خیالات کا اسپ بے لگام مجھے کہیں ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے نہیں دیتا ۔ اپنے طالب علمی کے دور سے نکل کر پروفیسر صاحب کے عہدے پر فائز ہوا تھا مگر دوبارہ اسی کالج کا دور طالب علمی یاد آ رہا ہے۔ یہاں میرے دو قریبی دوست تھے۔ ایک ابراہیم جس کے بھائیوں کی مٹھائی کی دکان تھی۔ دوسرا دوست مرزا تھا۔ اصل نام تو جانے کیا تھا، وہ مرزا ہی کے نام سے مشہور تھا۔ ایک دفعہ میں کسی وجہ سے دوہفتے کالج نہ گیا تو جب واپس آیا تو سب کلاس فیلو مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کیونکہ مرزا نے اس دوران مشہور کر دیا تھا کہ عطا ایک حادثے میں فوت ہو گیا ہے۔ چنانچہ میرے لئے دعائے مغفرت بھی کرائی گئی تھی۔ میں نے اس حوالے سے جوابی کارروائی کے لئے تین ماہ کا انتظار کیا۔ ایک دن میں بہت مغموم چہرے کے ساتھ کالج آیا اور دوستوں سے کہا مرزا اپنی زمینوں پر گیا تھا وہاں گھوڑ سواری کے دوران وہ گھوڑے سے گر گیا۔ اور زیادہ برا یہ ہوا کہ اس کا پاؤں پائیدان میں پھنس گیا۔ چنانچہ وہ ایک میل تک گھسٹتا ہوا گیا اور یوں بہت عبرتناک طریقے سے اس کی موت واقع ہوئی۔ مرزا کا ایک جانی دوست تھا جس کا نام ضیا تھا۔ انتہائی معصوم ، پرلے درجے کا بیوقوف اس نے یہ خبر سنتے ہی رونا شروع کر دیا۔ اور سائیکل پکڑ کر سیدھا اس کے گھر جا پہنچا۔ بیل دی تو اندر سے مرزے کا چھوٹا بھائی برآمد ہوا۔ ضیا نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا سخت صدمہ ہوا۔ اتفاق سے تین چار دن پہلے ان کی نانی فوت ہوئی تھی۔ اس نے کہا سب اللہ کے کام ہیں جی ۔یہ سن کر ضیا نے کہا کیا قد کاٹھ تھا کیا چوڑی چکلی چھاتی تھی۔ اس پر مرزا کے بھائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، اس نے اس کے جواب میں ضیا کے ساتھ جو کیا، اس کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی ۔ (جاری ہے)
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)