احتجاجی کال کا ایسا انجام کیوں؟

26 نومبر کی رات اسلام آباد کے ڈی چوک میں جو کچھ ہوا اس پر اتنے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور اتنی کہانیاں گھڑی جا رہی ہیں کہ ان پر یہ تک نہیں کہا جا سکتا کہ اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی۔ البتہ داستان گوئی کے ذریعے اسے افسانوی رات ضرور بنایا جا رہا ہے۔

اگرچہ درویش یہ کہنا چاہتا ہے چھوڑو یار، رات گئی بات گئی اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ اس سب کے باوجود یہ ماننا پڑے گا کہ پی ٹی آئی کی بہت سی الجھنیں اسی رات کی سیاہی میں پیوست ہیں۔ آج بڑے وثوق سے کہا جارہا ہے کہ جب بانی پی ٹی آئی سنگجانی میں دھرنا دینے پر مان گیا تھا اور پارٹی قیادت بشمول علی امین یہی چاہتی تھی تو پھر زوجہ بانی پنکی پیرنی صاحبہ ڈی چوک پہنچنے پر کیوں مصر تھیں؟ بغیر لگی لپٹی کے، ٹھوس جواب یہ ہے کہ بشریٰ بیگم میں یہ کرنٹ خود کھلاڑی نے ہی بھرا تھا۔ کیونکہ انہیں اپنے پارٹی عہدیداران پر شک تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے کمپرومائز ہو جاتے ہیں۔ جیسے کہ علی امین گنڈا پور کے خلاف حتیٰ کہ بیرسٹر گوہر کے حوالے سے بھی اس نوع کے پروپیگینڈے کی پی ٹی آئی کارکنان میں بہت زیادہ چرچا تھی۔

کارکنان برملا کہتے تھے کہ علی امین بہانہ ڈال کر کسی وقت بھی رفو چکر ہو جائیں گے۔ اسی پس منظر میں بشریٰ بیگم  نے احتجاجی جلوس کی کمان وزیراعلی کے پی سے چھین لی اور کنٹینر سے اپنی تقاریر میں پیہم وہ کارکنان سے یہ عہد اور حلف لے رہی تھیں کہ ڈی چوک پہنچنا ہے اور کھلاڑی کو رہا کروائے بغیر کسی صورت وہاں سے نہیں اٹھنا۔ چاہے بات مرنے مارنے تک پہنچ جائے۔

پی ٹی آئی کے لیے اصل المیہ یہ ہوا کہ پولیٹیکل وزڈم کے حوالے سے پنکی پیرنی صاحبہ اپنے موجودہ شوہر نامدار سے بھی زیادہ فارغ تھیں۔ ان میں جوش اور خلوص ضرور تھا لیکن سیاست اس سے قطعی مختلف چیز ہے۔ سیاست میں لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔ معاملات دو اور دو چار کی طرح نہیں جانچے جاتے۔ موقع محل دیکھ کر مخالف کے کمزور پہلوؤں پر حملہ آور ہوا جاتا ہے۔ مشکلات یا ناکامی کی صورت میں بھی وقار اور بھرم نہیں چھوڑتے۔ یہ نہیں کہ ایک طرف اتنے بلند بانگ دعوے اور اتنا جوش کہ کفن پوش ہو کر یہ اعلان کریں کہ اگر ہم واپس نہ آئیں تو گھر والے ہمارے جنازے پڑھ لیں۔ دوسری طرف ایسی پسپائی کہ کارکنان کو بے یار و مددگار شیر کی کچھار میں چھوڑ ، فوری واپسی کیلیے یکطرفہ پٹوسیاں۔ بیچارا علی امین تو اس حد تک جانا ہی نہیں چاہتا تھا، افسوس ہے اس روحانی جوش پر، اگر وہ کربل جیسی صورتحال میں پھنس گئی تھیں تو بتیاں بجھتے ہی اعلان کرتیں کہ حالات خراب ہیں جنہوں نے واپس جانا ہے چلے جائیں۔ خود طاقتوروں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہتیں کہ ہم  نے واپس نہیں بھاگنا۔ آپ ہمیں مار دیں یا گرفتار کر لیں۔ درویش کا اعتراض یہ ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ کے شدید دباؤ پر انہوں نے کارکنان کو وہیں بے یار و مددگار چھوڑتے ہوئے یکطرفہ اور بالا بالا واپسی کی راہ کیا سوچ کر اختیار کی؟

آپ نے اپنے پرعزم کارکنان کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی بلکہ دھوکہ دہی کیوں کی؟ کیا اس ذلت سے کہیں بہتر نہ ہوتا کہ جب آپ کو یہ کہا گیا کہ بی بی آپ نکل جائیں ہم آپریشن کرنے والے ہیں تو آپ کہتیں کہ میں اپنے ان بچوں کو چھوڑ کر ہرگز نہیں بھاگوں گی۔ اس جگ ہنسائی یا تذلیل سے بہتر ہے کہ میں کنٹینر سے خود دھرنا ختم کرنے کا اعلان کروں تاکہ ہماری واپسی باوقار ہو۔ اپنے بچوں کو بنا قیادت یوں اذیت اور ٹئیر گیس میں روتے چھوڑ کر بھاگنا کسی معزز خاتون کو زیب نہیں دیتا۔ اب کیوں مظلومیت کا واویلا ہے۔ کوئی کہتا ہے آٹھ مرے کوئی 20 کا دعویدار ہے ایک کھوسہ وکیل ہانکتا ہے کہ 278 مرے۔ چیف منسٹر بڑھک مارتا ہے کہ سینکڑوں شہید ہوئے۔ ہر ایک کے لیے ایک کروڑ کا اعلان، کیا یہ مبینہ شہادتوں پر شیرنیاں بانٹنے کا اہتمام ہے؟

جانے دو یار کچھ شرمندگی ہوتی ہے۔ درویش اس لیے تمہاری پارٹی کو چوں چوں کا مربہ اور پریشر گروپ قرار دیتا ہے۔ اور تمہارے کھلاڑی کو سیاست کا اناڑی۔
دکھ تو ان جواں عزم نوجوانوں کا ہے جو بیچارے تمہاری ان مفاداتی گیموں کا چارہ اور ایندھن بنتے ہیں۔ اپنی صلاحیتیں تم لوگوں کی محبت میں برباد کر بیٹھتے ہیں اور بعد میں ساری زندگی سوائے پچھتاوے کے انہیں کچھ نہیں ملتا۔ ناچیز نے بربادی کا یہی مظاہرہ سنتالیس میں بھی ملاحظہ کیا ہے۔ اور ستر میں بھی دیکھا ہے۔ لمبے چوڑے سبز باغ دکھانے والوں کی چھپی و اصلی غرض محض اپنی بلے بلے کرواتے اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔

غرض تو اب بھی یہی ہے مگر کیا کریں کہ یہ مفاداتی کھیل اسٹیبلشمنٹ کی چھتر چھایا کے بغیر ممکن نہیں ہوتا۔ غرض پرست اقتدار کے حریصوں کو عام آدمی چھوڑ اپنے ملک سے بھی کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ چاہے ملک ٹوٹے یا دو پھانگ ہو جائے۔  عوام رل جائیں، بس ان کی حکمرانی کا الو سیدھا ہونا چاہیے۔ اس لیے میرے ملک کے نوجوانو! غصہ نہ کریے، ناراض نہ ہو جائیے۔ ان بہرپیوں کی نعرہ بازی سے نکل جائیے۔ اپنے بہتر مستقبل کا سوچیے۔ یہ جن دھرنوں اور احتجاج میں آپ لوگوں کو لگاتے ہیں، اگر یہ اتنے ہی اچھے ہیں تو پھر اپنے بچوں کو ادھر کیوں نہیں لاتے؟کھلاڑی کے اپنے بچے کہاں ہیں؟ پنکی پیرنی اپنے بچوں کو دھرنے میں کیوں نہیں لائیں؟

ہمارے دوست سید حیدر فاروق سچ کہتے ہیں کہ ہمارے ابا نے ہمیں اپنی جماعت سے ایسے دور رکھا جیسے پاؤڈر یا افیون بیچنے والا اپنے بچوں کو اپنے دھندے سے دور رکھتا ہے۔ میرے پیارے پختون نوجوانوں کو بھی اب غیور اور بہادر کے ڈھکوسلے کو سمجھ جانا چاہیے۔ آخر وہی معصوم اقتدار کی مفاداتی جنگ کا ایندھن کیوں بنیں؟ آپ پوچھیں جو اتنے زیادہ پنجابی لیڈر، بڑے عہدوں پر فائز ہیں، وہ کیوں نہیں نکلے؟ اکرم راجہ، اسلم اقبال، حماد اظہر وغیرہ ان کے بہکاوے میں کیوں نہیں آئے؟ وکیل سلمان اکرم اپنی جعلی وڈیوز بناتا پایا گیا، سوچنے کی بات ہے کہ ہمارا کھلاڑی سیاست کرتے ہوئے بھی سیاست دانوں کو برا کیوں کہتا ہے؟ مذاکرات ان سے نہیں صرف طاقتوروں سے کیوں کرنا چاہتا ہے؟کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اقتدار کی دیوی صرف انہی کے ذریعے مل سکتی ہے۔ پہلے تو اس نے ان کا صرف لاڈ پیار دیکھا تھا، اب پہلی مرتبہ طاقت کا ڈنڈا ملاحظہ کیاہے تو سارے سہانے سپنے ٹوٹ رہے ہیں۔

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ احتجاج کی اس فائنل کال کا اصلی مدعا ڈی چوک پہنچ کر پارلیمنٹ اور پرائم منسٹر ہاؤس میں گھسنا تھا تاکہ پورا سسٹم مفلوج اور جام کر دیا جائے۔ ڈھاکہ کی ایسی مثالیں یونہی نہیں دی جا رہی تھیں؟ کیا اندرخانے اسلحہ کے ساتھ وہ طالبانی موجود نہ تھے جنہیں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہاں بسایا گیا تھا؟ درویش کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن اسی پر اکتفا کرتا ہے کہ حافظ صاحب تم لوگوں سے زیادہ ہوشیار نکلے۔ پہلی رات ہی گھس بیٹھیوں کا مکو ٹھپ دیا۔ اب مسلح احتجاج کےمنصوبہ ساز مہینوں اپنے زخموں کو چاٹیں گے اور ایک دوسرے پر تبرے بھیجیں گے۔

ہمارے لالچی اور چاپلوس حکمران بھی آئینی و تہذیبی حدود سے آگے پھلانگنے کی کوششیں نہ کریں۔ اگر آج وہ جبر کا ہتھیار چلائیں گے تو کل خود بھی اس کا کڑوا پھل کھائیں گے۔ اپنے دماغوں سے یہ خناس نکال دیں کہ پی ٹی آئی کو بین کر دیں گے یا کے پی میں گورنر راج لاگو کرتے ہوئے پختونوں کے حقوق پر ڈکیتی ڈالیں گے۔ جس کا جو مینڈیٹ ہے، کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس پر جھپٹا مارے۔ ستتر سالہ ایسے کرتوت اب ختم ہونے چاہئیں۔ اگر ان لوگوں نے زیادتی کی ہے تو وہ اس کے نتائج بھی بھگت رہے ہیں۔ آپ لوگ اپنا سر اوکھلی میں ڈالنے سے باز رہیں اور غریب و بد نصیب عوام کے دکھوں کا سوچیں۔