یونیورسٹیاں ڈگری بانٹنے والی فیکٹریاں
- تحریر نسیم شاہد
- ہفتہ 30 / نومبر / 2024
وہ میرا آج سے 25سال پہلے شاگرد تھا۔ ایک عام سے گھرانے کا فرد جس کا باپ اُسے پڑھانا چاہتا تھا۔ گورنمنٹ ایمرسن کالج جو اب یونیورسٹی چکا ہے، ایسے ہزاروں طالب علموں کی اُمید ہوا کرتا تھا جو سستی تعلیم حاصل کرنا چاہتے اور ان کے والدین انہیں پڑھانے کی خواہش رکھتے تھے۔
پھر وہ بی ایس سی کر کے یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لئے چلا گیا۔ بعدازاں اُس سے گاہے بہ گاہے رابطہ رہا۔ وہ کبھی کبھار ملنے چلا آتا۔اس کی تعلیم مکمل ہوئی تو میرے پاس آیا کہ جاب نہیں مل رہی۔کچھ مدد کریں۔ میں نے کہا سرکاری ملازمتیں نکلتی رہتی ہیں، درخواستیں دیتے رہو۔ایک دن وہ اپنے والد کو لے کر گھر آ گیا۔بات وہی ملازمت والی۔ میں نے کہا رفیق صاحب آپ اپنے بیٹے کو باہر کیوں نہیں بھیج دیتے۔ خاص طور پر مڈل ایسٹ میں بڑی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا پروفیسر صاحب یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے اگر اسے بھی باہر بھیج دوں تو یہاں ہمارا کون رہ جائے گا۔آپ اس کی کہیں ملازمت کا بندوبست کرا دیں۔ خیر میں نے ایک دوست سے بات کی جو ایک پرائیویٹ بڑے ادارے کے جی ایم تھے۔انہوں نے کہا بھیج دو دیکھتے ہیں۔ وہ وہاں گیا تو اُسے مناسب جاب مل گئی۔ پھر چند برسوں بعد مجھے معلوم ہوا وہ ایک سرکاری محکمے میں اچھے عہدے پر فائز ہو گیا ہے اور اِس وقت فیصل آباد میں ہے۔
وقت گزرتا رہا،اب چند دن پہلے وہ میرے پاس آیا۔ میں نے پوچھا بہت عرصے بعد چکر لگایا ہے، کہنے لگا بس مصروفیت کی وجہ سے حاضری نہیں دے سکا۔اُس نے بتایا اب وہ ایک سینئر پوزیشن پر کام کر رہا ہے اور ایک خاص مشورے کے سلسلے میں ملنے آیا ہے۔ پھر اُس نے بتایا اُس کے اکلوتے بیٹے نے بی ایس فزکس کی ڈگری حاصل کر لی ہے اور جاب کی تلاش میں ہے۔ میں اُسے کہہ رہا ہوں باہر چلے جاؤ یہاں کچھ نہیں رکھا۔مگر وہ کہتا ہے میں آپ کو چھوڑ کر بیرون ملک نہیں جانا چاہتا، یہاں بیروزگاری انتہا کی ہے، پھر سچی بات ہے حالات بھی بہت خراب ہیں۔ اس لئے میں اور میری بیوی یہی چاہتے ہیں یہ باہر چلا جائے گا اور اپنی زندگی بنائے۔اس کی بات سن کر میرے ذہن میں ماضی کی فلم چل گئی۔ آج سے بائیس سال پہلے اُس کاوالد میرے پاس آیا تھا تو اُس کا کہنا تھا اسے یہیں کوئی جاب دِلا دیں کیونکہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے جبکہ بیٹا کہتا تھا مجھے باہر بھیج دیں۔
آج وہ خود باپ بن کر یہ کہہ رہا ہے اُس کے بیٹے کو بیرون ملک جانا چاہئے،کیونکہ پاکستان میں اُس کا کوئی مستقبل نہیں۔ میں نے کہا باہر بھیج دو، پھر خود بھی چلے جانا، دنیا اب بہت سکڑ گئی ہے۔جتنی دیر میں ہم بذریعہ ٹرین فیصل آباد سے کراچی پہنچتے ہیں، اتنی دیر میں امریکہ پہنچ جاتے ہو۔ ہمت کرو اسے باہر جانے دو۔کہنے لگا میں تو چاہتا ہوں چلا جائے مگر یہ نہیں چاہتا اسے سمجھائیں۔ میں نے اُس کے بیٹے کو سمجھایا، باہر جاؤ اچھا کماؤ گے پھر انہیں بھی بُلا لینا۔اُس نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد آمادگی ظاہر کر دی۔ میرا شاگرد بہت خوش ہوا۔ جیسے اُسے من کی مراد مل گئی۔مجھے اپنا وقت یاد آیا جب30سال پہلے مجھے امریکہ کا ویزا ملا تھا اور میں جانا چاہتا تھا، مگر والدہ صاحبہ کی بیماری اور اپنے بچوں کی وجہ سے میری ہمت نہیں پڑ رہی تھی، اولاد کو خود سے جدا کرنا یا اولاد سے خود دور ہونا ایک بہت کڑا مرحلہ ہے۔مگر اب ہر دوسرا بندہ اسی مرحلے سے گزرنے کو تیار ہی نہیں بے تاب ہے۔
کیا پاکستان میں مستقبل کی اُمید ختم ہو رہی ہے۔ کیا ہم نے نئی نسل کو مایوس کر دیا ہے۔کیا والدین اپنے بچوں کا مستقبل غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ آخر کیا ایسا ہوا ہے کہ ہجرت ایک رجحان بن گئی ہے۔ لوگ پہلے بھی باہر جاتے تھے مگر جوق در جوق نہیں جاتے تھے۔ پاکستان میں اتنی غربت، اتنی گھٹن اور اتنی تنگ دامنی پہلے نہیں تھی جتنی اب ہے۔ آئے روز یہ اعداد و شمار آ جاتے ہیں کہ اتنے لاکھ نوجوان ملک سے کوچ کر گئے ۔اسے برین ڈرین کا نام بھی دیا جاتا ہے۔کیونکہ باہر جانے والوں کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پرمشتمل ہے۔ایک وقت تو ایسا بھی آیا کہ پاسپورٹ چھاپنے کا کاغذ کم پڑ گیا۔
ایک دن میں ملتان انٹرنیشنل ایئر پورٹ گیا، کسی دوست نے عمرے پر جانا تھا۔ میں ڈیپارچر لاؤنچ کے باہر کھڑا تھا۔میں نے دیکھا ایک بوڑھی والدہ اور اس کے ساتھ چار نوجوان لڑکیاں ایک نوجوان سے لپٹ کر دھاڑیں مار کر رو رہی ہیں۔ وہ انہیں دلاسہ دے رہا تھا۔ اُن کے ساتھ چند مرد حضرات بھی آئے ہوئے تھے۔ میں نے ایک سے پوچھا خیر تو ہے، یہ اتنا رو کیوں رہی ہیں۔ اُس نے بتایا اس فیملی کا تعلق دیہی علاقے سے ہے۔یہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے، والد وفات پا چکا ہے۔ اسے ایم فل کرنے کے باوجود یہاں نوکری نہیں ملی تو آئر لینڈ میں اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا،جس نے وہاں جاب کا بندوبست کرا دیا ہے۔ یہ وہاں جا رہا ہے۔ میں نے کہا یار یہ تو خوشی کی بات ہے، رو کیوں رہی ہیں۔ اُس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا ہمارے دیہات میں یہ کہانیاں مشہور ہیں جو ایک بار ولایت چلا جاتا ہے،پھر واپس نہیں آتا ۔اِس لئے یہ اُسے ایسے رخصت کر رہی ہیں جیسے جنازے کو رخصت کیا جاتا ہے۔ میں نے سوچا ہم شہروں میں رہنے والے اس کرب کو نہیں سمجھ سکتے جو اکلوتے بیٹے کے بیرون ملک جانے سے ہوتا ہے۔ مائیں اور بہنیں دِل پر پتھر رکھ کر اُسے رخصت کرتی ہیں۔
معاملات بہت گمبھیر ہیں اور اتنے سادہ نہیں جتنے نظر آتے ہیں۔ نجی اور سرکاری یونیورسٹیاں بے مقصد تعلیم کی فیکٹریاں بن گئی ہیں۔بہرحال لاکھوں طلبہ و طالبات اعلیٰ ڈگریاں لے کر یونیورسٹیوں سے فارغ ہوتے ہیں۔ آگے اُن کے لئے کوئی جاب نہیں ہوتی، حالات اس حد تک خراب ہیں کہ ایم بی بی ایس کی پروفیشنل ڈگری بھی عوامی زبان میں ٹکے ٹوکری ہو چکی ہے۔ ہزاروں ڈاکٹر، ہر سال نکلتے ہیں اور آگے اُن کے لئے ہاؤس جاب تک کی سہولت موجود نہیں۔ہسپتالوں میں چند آسامیوں کا اعلان ہوتا ہے تو ہزاروں درخواستیں پہنچ جاتی ہیں۔اِن ڈاکٹروں کے لئے مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ پاکستان کی ڈگریوں پر بیرون ملک جاب نہیں کر سکتے جب تک اُن ممالک میں جا کر کورس نہ کریں۔
اندازہ لگائیں کہ تین چار کروڑ روپے (نجی میڈیکل کالجوں کی فیس کے حساب سے) خرچ کر کے ڈاکٹر بننے والے یہ نوجوان بیروزگاری کے ہاتھوں کس قدر ذہنی اذیت سے گزرتے ہیں۔ اگر ہم اپنے نظام تعلیم کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگی نہیں کریں گے اور مکھی پر مکھی مارتے رہیں گے تو پھر بیروزگاروں کی ایک فوج ظفر موج تیار کر کے معاشرے پربوجھ بڑھاتے چلے جائیں گے۔ یاد رہے کہ بیرون ممالک جانا بھی کوئی آسان نہیں اگر آپ مزید تعلیم کے لئے جانا چاہتے ہیں تو آپ کو لاکھوں روپے فیس کی مد میں جمع کرانے پڑتے ہیں۔اگر جاب کے لئے جانا ہے تو اُس کے لئے بھی زادِ راہ کے علاوہ رہائش اور دیگر اخراجات کے لئے رقم درکار ہوتی ہے۔یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے مگر ہمارے اور پالیسی سازوں کو اس کی رَتی بھر پرواہ نہیں۔
ملک میں اعلیٰ تعلیم کو کنٹرول کرنے والا ادارہ ایچ ای سی ایک سفید ہاتھی بنا ہوا ہے۔ ایک طرف وہ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو زوال پذیرہونے سے رونے میں ناکام ہے تو دوسری طرف وہ یونیورسٹیوں کو اِس امرکا پابند نہیں بنا سکا کہ وہ ایسے کورسز متعارف کرائیں جو فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ و طالبات کے لئے فوری روزگار کا باعث بنیں۔ اِس وقت تو ایک بھیڑ چال ہے جس میں بیروز گاروں کی بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)