پاکستانی جمہوریت آہنی ہاتھوں میں ہے!
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 02 / دسمبر / 2024
پاکستان میں جمہوریت کے مریضوں کا تسلی بخش علاج کیا جاتا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے (ویسے یہاں ہر قسم کی جمہوریت دستیاب ہے)۔ پاکستان کی جمہوریت تمام دنیا سے مضبوط ہے کیونکہ یہ ہمیشہ آہنی ہاتھوں میں رہی ہے۔
جو بھی حکومت آئی جب اس میں سے کسی نے بھی جمہوریت میں ڈنڈی مارنے کی کوشش کی ہے تو پھر آہنی ہاتھ اس کی گردن دبوچ لیتا ہے۔ جب یہ جمہوریت کچھ زیادہ بگڑ جائے یا تھک جائے تو پھر اسے کچھ وقفہ دےکر آہنی ہاتھ خود ملک چلانے لگتا ہے۔ اور جمہوریت کو بگاڑنے یا تھکا دینے والی سیاسی قیادت کو جمہوری دورے پڑنے لگتے ہیں اور وہ مختلف طریقوں سے شرپسندی پھیلانے لگتے ہیں۔ جب اس بیماری کے دورے بڑھنے لگتے ہیں تو پھر آہنی ہاتھ حرکت میں آتا ہے اور اس بیماری کا علاج شروع ہو جاتا ہے۔ یہ علاج شروع میں زیادہ سخت نہیں ہوتا، لیکن اگر کوئی مریض زیادہ بگڑ جائے تو پھر اس کی دوا بھی سخت کر دی جاتی ہے۔ جس سے کوئی مریض ٹھیک ہوتے ہوتے مر بھی سکتا ہے۔ کچھ مریضوں کو علاج کی خاطر بیرون ممالک بھی بھیج دیا جاتا ہے اور گاہے بگاہے ان کی طبعیت کا حال پوچھا جاتا ہے۔ اگر کچھ افاقہ ہو جائے تو اسے واپس لا کر دوبارہ آہنی ہاتھوں کے ذریعے جمہوری نظام میں کام پر لگا دیا جاتا ہے۔
50 کی دہائی میں متحدہ پاکستان میں ایسے مریضوں کی خاصی تعداد تھی جنہیں جمہوری دورے پڑتے تھے۔ اور ان کا ہلکا پھلکا علاج جاری رہتا تھا۔ لیکن جب یہ مرض بڑھنے لگا تو پھر اس دہائی کے اواخر میں آہنی ہاتھ نے حکومت خود سنبھال لی اور کچھ عرصہ بعد نئے سرے سے جمہوریت کو جلا بخشنے کے لیے بنیادی جمہوریت کے نام سے نئی نرسری قائم کر کے نئے جمہوروں کو متعارف کروایا۔ اس طرح ملک میں امن کے ساتھ ساتھ جمہوریت مضبوط ہونے لگی، پھر بھی کچھ شرپسندوں نے جمہوریت کو کمزور کرنے کی کوشش کی اور قائداعظم کی بہن کو ورغلا کر بنیادی جمہوریت کے بانی کے سامنے لا کھڑا کیا۔ مگر آہنی ہاتھوں کے سامنے تو اگر خود قائد اعظم بھی ہوتے تو کامیاب نہ ہوتے۔ چہ جائیکہ قائد کی ناتواں بہن مقابلہ کر سکتی۔ 60 کی دہائی کے آخر میں ایک مرتبہ پھر جمہوری بیماری کے چند مریض سامنے آئے اور ان کو جمہوری دورے اس قدر پڑنے لگے کہ آہنی ہاتھ بھی تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور پرانے لوہے کی جگہ نئے لوہے کے ہاتھ بنا کر مریضوں کا علاج شروع کیا گیا جن میں سے ایک مریض پاکستان کا آدھا جسم لے کر ہی بھاگ گیا۔ جبکہ دوسرے مریض کو باقی ماندہ جسم دے کر چند برس آزمانے کی کوشش کی گئی۔
مگر اس نے موقع ملتے ہی ایک ایسا آئین پاس کروا لیا جس میں آہنی ہاتھوں کو کمزور کر کے جمہور کو بااختیار کرنے کی سازش ہوئی۔ لیکن وہ بھول گیا کہ ہماری جمہور تو صدیوں سے غلامی کے مرض میں مبتلا ہے اور وہ ایک دم سے جمہوریت کی پنسلین برداشت نہیں کر سکے گی۔ لہذا آہنی ہاتھوں کو ایک بار پھر حرکت کرنا پڑی اور اس بار مریض کو ہسپتال لانے سے پہلے اسلامی نظام والے حکیموں سے دوا پلا کر مدہوش کیا گیا۔ اس کی حالت کچھ زیادہ خراب دیکھتے ہوئے اسے عدالتی سرجن سے انجیکشن لگوا کر اگلے جہاں بھیجنا پڑا۔ اور پھر اس کے آئین کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دے کر کسی الماری میں رکھا اور ملک میں دور خلافت کی بنیاد ایسی رکھی کہ اس کے بعد کئی بیماریوں کا علاج دریافت کر لیا گیا۔ آہنی ہاتھوں کو کئی دم درود والے حکیم بھی میسر آ گئے جس کے بعد جو بھی آیا وہ اپنی نرسری سے اگایا، پھر بھی کچھ مریضوں کو دورے پڑتے رہے اور ان کا علاج ہوتا رہا۔
ایک مریض نے ایک دو بار آہنی ہاتھوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن پھر ایک ایسا آہنی ہاتھ آیا جس نے ہوا میں اڑتے ہوئے بھی پاکستان کی زمین کا کنٹرول لے لیا اور سیاسی مریض کو اٹھا کر ہسپتال(جیل) پہنچا دیا۔ اور کئی برس کا پروانہ دیا کہ اس کا دماغ ٹھیک ہونے تک ہسپتال ہی میں رکھا جائے اور اسے جھٹکے لگاتے رہیں۔ وہ مریض نازک تھا لہذا اس نے کچھ دے دلا کر اور باہر کے ڈاکٹروں سے سفارش کروا کر بیرون ملک سے علاج کی درخواست منظور کروائی پھر اسے خاندان سمیت گناہوں کی معافی منگوانے اللہ کے گھر کے قریب پہنچایا گیا۔ اسی دوران ایک اور مریضہ کو بھی جب ہلکی پھلکی دوا سے افاقہ نہ ہوا تو اسے بھی بیرون ملک بھجوا دیا گیا۔
پھر اسی علاج کے دوران ان دونوں مریضوں نے آپس میں معاہدہ کر لیا کہ آئندہ سے ہم اپنا علاج خود کیا کریں گے۔ اور آپس میں مل کر خود ہی جمہوریت کو مضبوط کریں گے اور واپس ملک جا کر ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے۔ مگر آہنی ہاتھوں نے اس معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی ایک مریض کو اوپر پہنچا دیا۔ اور دوسرے کو کالاکوٹ پہنا کر اسی کے ہاتھوں سے معاہدے پر کالی سیاہی پھینکنے کے لیے عدالت بھیج دیا۔ لیکن پھر جب کچھ عرصہ بعد اس کا مرض بڑھنے لگا تو پھر نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی گئی۔ اور پہلے مریض کو کچھ دوا پلائی تو اس نے ایک بار پھر ہاتھ جوڑ دئیے کہ میرا علاج بیرون ملک سے کروایا جائے جس کا معاوضہ بھی مجھ سے لے لیا جائے۔
اب پرانے تمام مریضوں کی بیماری مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور وہ خود کو آہنی ہاتھوں میں محفوظ پاتے ہیں۔ جبکہ نئے مریضوں کو وقفے وقفے سے انجیکشن لگ رہے ہیں۔ اب 26 نومبر کو دوا کی کچھ بھاری ڈوز دی گئی ہے جس سے امید کی جا رہی ہے کہ کچھ مریض ٹھیک ہو کر خود کو آہنی ہاتھوں کے حوالے کر دیں گے۔ اور جو ٹھیک نہ ہوا اس کی دوا بڑھائی بھی جا سکتی ہے۔ بیرون ملک سے علاج بھی ہو سکتا ہے یا پھر آخری انجیکشن لگایا جا سکتا ہے۔
آہنی ہاتھ سمجھتا ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی سویلین ایسا نہیں ہے جو ملک اور جمہوریت کو مضبوط کر سکتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے علاوہ کسی پر اعتبار نہیں کرتا۔ اس نے خود ہی ملکی حفاظت اور جمہوریت دونوں کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ جمہوریت کا پودا خود لگاتا ہے، اسے پانی دیتا ہے اور ہر دو تین سال کے بعد اس پودے کو اکھاڑ کر اس کی جڑوں کو دیکھتا ہے کہ کتنی لمبی اور مضبوط ہوئی ہیں۔
اب تو ہم مان گئے ہیں کہ جمہوریت وہی مضبوط ہے جو آہنی ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ دوسرے تمام جمہوری ممالک میں جمہوریت اتنی کمزور ہے کہ ہر شخص اپنے حقوق لینے کے لیے راستے میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں کسی کی جرات نہیں کہ وہ اپنے حق کی بات کر کے جمہوری حکومت کو کمزور کر سکے۔ کیونکہ ہماری جمہوریت آہنی ہاتھوں میں ہے۔