کشتیوں کا پل اور 25 کروڑ مسافر
- تحریر وجاہت مسعود
- منگل 03 / دسمبر / 2024
یہ 19 ویں صدی کی باتیں ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1843 میں سندھ اور 1849 میں پنجاب پر قبضہ کر لیا۔ ابھی یہاں بنیادی بندوبست کے معاملات چل رہے تھے کہ 1857 کا ہنگامہ برپا ہو گیا۔ ایک برس بعد 1858 میں برطانوی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی ختم کرکے ہندوستان پر براہ راست حکومت شروع کر دی۔
1881 میں پہلی بار ہندوستان میں مردم شماری کی گئی تو پنجاب کی آبادی دو کروڑ جبکہ سندھ کی آبادی پچیس لاکھ شمار ہوئی ۔1861 میں کراچی سے کوٹری تک ریلو ے لائن بچھائی گئی۔ دریائے سندھ پر پل نہ ہونے کے باعث سندھ اور پنجاب کے درمیان ملتان تک کا سفر دخانی کشتیوں کے ذریعے ہوتا تھا۔ اس مقصد کے لیے سکھر، مٹھن کوٹ اور ڈیرہ غازی خان کے مقام پر تین بڑی کشتیاں تیار کی گئیں۔ 1889 میں دریائے سندھ پر سکھر پل تعمیر کر دیا گیا تھا تاہم دیگر مقامات پر کشتیوں کے ذریعے ہی دریا پار کیا جاتا تھا۔ سندھ طاس معاہدے کے بعد دریائے ستلج خشک ہو گیا تو یہ کشتیاں دریائے سندھ میں ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان کے گھاٹ پر پہنچا دی گئیں۔ ان دخانی کشتیوں میں ایک وقت میں پانچ سو مسافر سفر کر سکتے تھے۔ کچھ مقامات پر چھوٹی کشتیوں کو ایک دوسرے سے باندھ کر ہلکے پل بھی زیر استعمال لائے جاتے تھے۔
لاہور کے پاس دریائے راوی پر 1876 میں تعمیر ہونے والا پل زیادہ خستہ ہو گیا تو عارضی طور پر ساٹھ کی دہائی میں چھوٹی کشتیوں کا ایک متوازی پل بھی بنایا گیا تھا۔ کشتیوں سے بنائے گئے پلوں پر سفر کرنے والی مغربی پاکستان کی آبادی 1961 کی مردم شماری کے مطابق چار کروڑ تیس لاکھ تھی۔ یہ بات تو ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ پچیس کروڑ کی موجودہ آبادی کے لیے کشتیوں کے پل قابل عمل نہیں ہیں۔ کبھی ہم نے اس پر بھی غور کیا کہ اگر دریا کے پل مرور ایام اور بڑھتی ہوئی آبادی کا ساتھ نہیں دے پاتے تو عام شہریوں کی روزمرہ کی ضروریات مثال کے طور پر ہسپتال اور سکول بھی تو اسی تناسب سے توجہ اور وسائل کا تقاضا کرتے ہیں۔
پاکستان میں ہر روز 19 ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں اور تقریباً پانچ ہزار اموات واقع ہوتی ہیں۔ گویا ہر چوبیس گھنٹے میں چودہ ہزار نئے شہری سکول، ہسپتال اور دوسری شہری ضروریات کا تقاضا لیے آبادی میں شامل ہوتے ہیں۔ ہر برس بیس لاکھ نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں۔ کیا زراعت میں افرادی قوت کی کم ہوتی ضرورت اور صنعتی ترقی میں جمود بلکہ انحطاط کے پیش نظر ان بیس لاکھ نوجوانوں کے روزگار کی کوئی صورت ہم نے سوچی۔ سٹاک ایکسچینج تیزی سے ترقی کر رہی ہے لیکن ملکی آبادی کا کتنا حصہ اس معاشی امکان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ افراط زر کی شرح میں یقیناً کمی واقع ہوئی ہے لیکن یہ کوئی جادو کا کھیل نہیں۔ آئی ایم ایف سے ساڑھے سات ارب ڈالر کے قرض سے متصل دیگر بیرونی امداد بھی ملکی معیشت کا حصہ بنی ہے۔
یہ ادھار کی معیشت ہے۔ قرض کا غازہ ہے۔ اس کا صنعتی ترقی، خدمات کے شعبے میں پھیلاﺅ اور پیداواری سرگرمی سے تعلق نہیں ہے۔ معیشت کے ماہر ہر چند برس بعد ہمیں معاشی ترقی کی نوید سناتے ہیں اور خوشگوار اعلانات کی یہ ہری گھاس وقفے وقفے سے زرد ہو جاتی ہے۔ حقیقی معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ ہماری اجتماعی زندگی کی کچھ حقیقتیں توجہ طلب ہیں۔ موجودہ سیاسی نظام معمول کی دستوری حکومت نہیں بلکہ ایک عبوری بندوبست ہے۔ ہم نے جمہوریت کے دودھ میں اس قدر پانی ملا دیا ہے کہ منتخب حکومتوں کے ہوتے ہوئے بھی کسی کو معلوم نہیں کہ آئندہ دو سے تین برس میں موجودہ سیاسی بندوبست کی کیا صورت ہو گی۔ ہم نے کہیں قانون کی اڑواڑ لگا کر اور کہیں ریاستی طاقت کے بل پر ایک عارضی بند باندھا ہے جو تاریخ کی آزمائش پر پورا نہیں اتر سکے گا۔
ہماری سلامتی کی صورت حال اطمینان بخش نہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بہت سے حصوں میں ریاستی عمل داری مخدوش ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ بیرونی دنیا میں ہماری قومی ساکھ پر گہرے نشانات ہیں اور ہم خواہش کے باوجود ان غلطیوں کے نتائج سے محفوظ نہیں رہ سکتے جو عشرہ در عشرہ اپنوں اور پرایوں کے سمجھانے کے باوجود ہم سے سرزد ہوئی ہیں۔ محترم بھائی محمد مہدی خارجہ امور میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ محب وطن ہوتے کے ناتے ہر تحریر میں امید بندھاتے ہیں۔ تاہم انہیں ٹھیک سے معلوم ہے کہ خارجہ محاذ پر سب اچھا نہیں۔ اگر ہم 2013 میں چین سے طے پانے والے سی پیک معاہدے کے بارے میں داخلی طور پر یکسو نہیں ہیں تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہم مشرق اور شمال میں دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان اس طرح دباﺅ میں ہیں گویا چکی کے دو پاٹوں میں اناج کا دانہ۔
اس پر سیاسی حلقوں میں خبر گرم ہے کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی روایتی سیاست، تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے۔ چنانچہ ایک نئی سیاسی قوت کے ظہور کی سوچ جنم لے رہی ہے۔ ’جنگ‘ کے اسی ادارتی صفحے پر جولائی 2011 میں ایک صاحب خبر نے ہمیں بتایا تھا کہ ’صاف ستھرے‘ سیاسی رہنماﺅں پر مبنی ایک سیاسی قوت میدان میں اتاری جائے گی۔ یہ تحریک انصاف کے اکتوبر 2011 والے جلسے کی خفی خبر تھی۔ ڈیڑھ عشرہ گزرنے کے بعد معلوم ہوا کہ خود کاشتہ سیاسی پودے بالآخر جھاڑ کا کانٹا بن جاتے ہیں۔
مشکل یہ ہے کہ ہم گزشتہ غلطیوں کے علاج کے لیے بھی پرانا نسخہ ہی استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ٹیلی ویژن پر مخصوص چہروں کی مسلسل رونمائی دیکھتے ہوئے مستقبل کی پیش بینی مشکل نہیں۔ آج کے ’صاف ستھرے‘ چہروں کو سیاسی قوت بخشنے کے لیے جو کمک فراہم کی جائے گی، وہ ماضی ہی کی طرح کشتیوں کا ایک عارضی پل ہو گا۔ کشتیوں کے پل پچیس کروڑ کی آبادی کی سیاسی، معاشی اور تمدنی ضروریات کے لیے کارآمد نہیں ہوا کرتے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)