للکارنے کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے!
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 03 / دسمبر / 2024
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ہمہ قسم دشمنوں کا مقابلہ کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح افواج قوم کی حمایت سے ملک کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے سرحدوں کو محفوظ رکھنے کے علاوہ ان تمام شر پسند عناصر سے نمٹنے کا وعدہ کیا ہے جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ البتہ اس دوران داخلی سیاست میں پایا جانے والا ہیجان مسلسل ملکی امن و امان اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے خطرہ کا سبب بنا ہؤا ہے۔
یہ باور کرنا ممکن نہیں ہے کہ ایک طرف ملک میں داخلی طور سے گروہ بندی، سیاسی بنیادوں پر تقسیم، سیاست میں فوج کے کردار کے بارے میں اختلافات اور سیاسی جماعتوں میں تصادم کی صورت حال موجود ہو اور دوسری طرف عوام اس اطمینان کے ساتھ سو سکیں کہ مسلح افواج چوکس ہیں اور پاکستان کی علاقائی سالمیت اور داخلی امن و امان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک طرف تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد سرگرم ہیں، جنہیں اب نئی پروپیگنڈا مہم جوئی میں خوارج قرار دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف بلوچستان میں علیحدگی کا مطالبہ کرنے والے قوم پرست گروہوں کی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ جبکہ خیبر پختون خوا کے کرم کے علاقے میں قبائل عقیدے کے اختلافات اور زمینوں پر قبضے کے تنازعہ میں آمنے سامنے ہیں۔ اب تک ایک سوسے زائد لوگ جاں بحق ہوچکے ہیں اور صوبائی حکومت سرکاری وفود بھیجنے اور جرگہ منعقد کرانے کی کوششوں کے باوجود علاقے میں امن قائم کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
ان عسکری چیلنجز کے علاوہ ملکی سیاست میں تصادم کی موجودہ صورت حال پریشان کن حد تک تشویشناک ہے۔ جیسے گزشتہ سال 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کو تنہا کرنے، اس کی قیادت کو قید کرکے نشان عبرت بنانے کی کوششیں کی گئی تھیں، اب 26 نومبر کو ڈی گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے ناکام احتجاج کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان حائل ہونے والی خلیج بھرنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ کوئی بھی ملک اگر کسی بیرونی خطرے یا انتہاپسند گروہوں کے حملوں کا سامنا کررہا ہو تو اس کے شہریوں میں یکسوئی اور اتحاد کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ایسے کسی موقع پر شہری اگر آپس میں ہی گتھم گتھا ہوں گے اور کسی قومی مسئلہ کو اہمیت دینے کی بجائے، گروہی اختلافات ہی اہم قرار دیے جائیں گے تو اس قومی حمایت کو ’تلاش‘ کرنا ممکن نہیں رہتا جس کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل عاصم منیر بیرونی اور اندرونی دشمنوں سے یکساں طور سے نمٹنے کا عزم ظاہر کررہے ہیں۔
دیکھا جاسکتا ہے ایک طرف ایک لیڈر کی رہائی یا ایک حکومت کے خاتمہ کو ہی آخری اور ضروری معرکہ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس سے کم پر کوئی بات کرنے کی صورت حال سامنے نہیں آرہی۔ دوسری طرف شہباز شریف اور مریم نواز کی حکومتوں نے مسلسل تحریک انصاف کے خلاف شدید بیان بازی کرتے ہوئے کسی بھی قیمت پر پارٹی کو ضعف پہنچانے اور اس کے لیڈروں کو طویل المدت سزائیں دلانے کے اعلانات کیے ہیں۔ مرکزی حکومت نے 26 نومبر کے تصادم کے بعد جس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا تھا، اس کا مقصد بھی درحقیقت تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو ٹارگٹ کرنا ہی ہے۔ اسی لیے عمران خان کو متعدد مقدمات میں نامزد کرکے، ان پر دباؤ میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
گزشتہ روز پی ٹی آئی کے چئیرمین گوہر علی نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد امید افزا باتیں کی تھیں۔ انہوں نے پارٹی کے بعض حلقوں کی طرف سے سینکڑوں کارکنوں کی ہلاکت کے مضحکہ خیز دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پارٹی کے خیال میں اس دن 12 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ عمران خان کو بھی یہی تعداد بتائی گئی تھی ۔ بیرسٹر گوہر نے عمران خان کا یہ امید افزا پیغام بھی میڈیا کو پہنچایا کہ انہیں کسی بھی طرف سے گولی چلنے اور کسی بھی قسم کی ہلاکتوں ہر صدمہ ہؤا ہے۔ اس طرح انہوں نے پارٹی کارکنوں کے علاوہ رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے جاں بحق ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ گوہر علی نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے پھیلائی گئی افواہوں کو مسترد کیا اور بتایا کہ تحریک انصاف کے بانی مکمل طور سے توانا ہیں۔ اس بیان ہی کی روشنی میں گزشتہ روز کے اداریے میں امید ظاہر کی گئی تھی کہ یہ متوازن اور معتدل رویہ ملکی سیاست میں مفاہمت کے ایک نئے باب کا نقطہ آغاز بن سکتا ہے۔
بدقسمتی سے سرکاری حلقوں نے اس معاملہ کو مثبت طریقے سے دیکھنے اور بیرسٹر گوہر علی جیسے متوازن لیڈر کو انگیج کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ اس کے برعکس وزیر دفاع خواجہ آصف نے سینکڑوں ہلاکتوں کے دعوؤں سے ’لاتعلقی‘ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جن لوگوں کے مرنے کی بات کی جارہی ہے، ان کے کوائف فراہم کیے جائیں۔ اس معاملہ میں حکومت نے ڈی گراؤنڈ سے ہجوم ہٹانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا تھا۔ اصولی طور سے ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری بھی حکومت اور اس کے زیر انتظام کام کرنے والے اداروں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ البتہ حکومت اس افسوسناک تصادم میں کسی بھی قسم کے جانی نقصان کو مسترد کرنے کی اپنی سی کوشش کررہی ہے۔ رینجرز اور پولیس کے جانی نقصان کو خاص طور سے نمایاں کیا جاتا ہے اور زخمی پولیس اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں بھی تفصیلات دی جارہی ہیں لیکن شہریوں کے بارے میں معلومات دینے سے گریز کیا جارہا ہے۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ جس تصادم میں پانچ چھے رینجرز اور پولیس والے جاں بحق ہوئے اور 170 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے، اس میں کسی شہری کو گزند نہ پہنچی ہو۔ اپنے ہی ملک کے باشندوں کے بارے میں حکومت اور اس کے ترجمانوں کا یہ رویہ شرمناک اور افسوسناک ہے۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ مسلسل یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اس موقع پر ایک بھی شہری جاں بحق نہیں ہؤا۔ لیکن دوسروں سے ثبوت مانگنے والی حکومت خود اپنے زیر نگرانی کام کرنے والے ہسپتالوں کو زخمیوں یا ہلاک ہونے والے لوگوں کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات دینے سے منع کررہی ہے۔ یہ رویہ شکوک پیدا کرتا ہے اور مخالف بیانیہ بنانے والوں کو آسانی سے حکومتی مؤقف کی کمزوریاں عیاں کرنے کا موقع ملتا ہے۔ حکومت کی اسی کمزور و ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سیاسی تناؤ کم ہونے میں نہیں آتا۔ یوں لگتا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت اب مفاہمت کی بجائے تحریک انصاف کو نشان عبرت بنانے کے مختلف ہتھکنڈوں پر غور کررہی ہے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو سیاسی کارکن ہونے کے ناتے تصادم سے گریز کرنا چاہئے۔ حکومت ضرور امن و امان خراب کرنے والوں سے نمٹنے کا اعلان کرے لیکن اس کے ساتھ ہی ملک کی قابل ذکر سیاسی قوت کو مناسب احترام دینے اور سپیس فراہم کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ تاکہ قومی اتفاق رائے کی وہ فضا پیدا ہوسکے جس کی جانب عسکری کامیابی کے لیے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اشارہ کررہے ہیں۔
دریں اثنا ایک روز پہلے پارٹی چئیرمین اگر مصالحانہ گفتگو کے ذریعے ماحول ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے تھے تو آج عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اور پارٹی کے بانی کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیانات میں ’حقیقی آزادی ‘ کی جد و جہد جاری رکھنے کے دعوے کرتے ہوئے عمران خان کا یہ بیان پیش کیا گیا ہے کہ ان کے پاس ایک ’آخری پتہ‘ موجود ہے جسے وہ وقت آنے پر کھیلیں گے۔ عمران خان اس قسم کے ہتھکنڈے ماضی میں بھی استعمال کرتے رہے ہیں ۔ سیاست کوئی ایسا کھیل نہیں ہے جس میں آخری مرحلے پر یکہ دکھا کر بازی پلٹ دی جائے۔ اس میں حکمت، حوصلے اور آپشنز کھلے رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ علیمہ خان کا یہ دعویٰ کہ ’ 12 لاشیں صرف اس لیے ہیں کہ بہت سے لوگ لاپتہ اور جیلوں میں ہیں۔ لواحقین بہت بڑی تعداد میں اپنے بچوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ بہت سی لاشیں ابھی تک لاپتہ ہیں‘۔ یعنی بیرسٹر گوہر علی نے گزشتہ روز ہلاکتوں کے بے بنیاد دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کو پرامن سیاسی قوت ثابت کرنے کی جو کوشش کی تھی، علیمہ خان نے اپنے تئیں اسے خراب کیا ہے۔ اور ہلاکتوں کی افواہوں کو ایک نئی توانائی دی ہے۔ یہ صورت حال تحریک انصاف کی اندرونی سیاست میں جوڑ توڑ اور پریشان حالی کی کہانی سناتی ہے۔ ایسے میں مصالحت اور قومی یکجہتی کا کام نہ تو ممکن ہے اور نہ بظاہر کسی کا مطمح نظر دکھائی دیتا ہے۔
آرمی چیف کو قومی حمایت کی بات کرتے ہوئے ان عوامل پر بھی نگاہ رکھنی چاہئے جو اس وقت وسیع تر قومی بے چینی کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ پاک فوج ملک کی سے سب سے بڑی سیاست قوت کو علی الاعلان ’دشمن ‘ قرار دے کر وہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی جسے جنرل عاصم منیر خود قومی سلامتی اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ فوج سیاست میں مداخلت سے دست بردار ہوچکی ہے اور صرف سیاسی قیادت کے فیصلوں کے مطابق ذمہ داریاں پوری کررہی ہے تو بھی وہ خود اور متعدد فوجی افسر ایپکس کمیٹی، سرمایہ کاری کونسل اور دیگر متعدد فورمز پر حکومت کے ساتھ مل کر معاشی و سیاسی منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔ انہیں ’خود مختار‘ سیاسی حکومت کو جوش و غصے کی بجائے حکمت اور زیرکی سے کام لینے کا مشورہ دینا چاہئے۔ مزید براں خیبر پختون خوا کے علاوہ بلوچستان میں شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے فوجی ایکشن کے ساتھ ساتھ شہری حقوق اور مطالبات کے لیے کام کرنے والے محب الوطن گروہوں سے مکالمہ کا آغاز کرنے اور قومی منظر نامہ میں انہیں احترام دینے کے طریقہ کا آغاز کرنا چاہئے۔
پاک فوج کا ضرور یہ فرض ہے کہ وہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کرے البتہ عسکری قیادت کو ایسے غیر ضروری بیان دینے سے گریز کرنا چاہئے جن سے یہ تاثر قوی ہو کہ فوج دشمن قوتوں کو مقابلے کے لیے للکار رہی ہے۔ پاکستانی قوم کو یہ سبق یاد کرانے کی ضرورت ہے کہ نہ تو مسائل جنگوں سے حل ہوتے ہیں اور نہ ہی ملک مسلح تصادم کا متحمل ہوسکتا ہے۔