جنگی نہیں سیاسی چالیں

پی ٹی آئی خود کو سیاسی جمہوری پارٹی اور اپنے بانی کو سیاستدان یا جمہوری لیڈر قرار دیتی ہے لیکن اگر حقائق کی کسوٹی پر ان کے اس دعوے کو پرکھا جائے یا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو ایسا شدید رد عمل آتا ہے کہ بندہ سوچ میں پڑ جائے کہ میں نے بھڑوں کے کس چھتے کو ہاتھ ڈال دیا ہے۔

 ابھی اپنے پچھلے کالم 'احتجاجی کال کا ایسا انجام کیوں؟‘ میں بڑی نرم روی یا مہذب زبان میں ان کی کچھ بے اعتدالیوں پر اظہار خیال کیا تو اس پارٹی سے منسلک نوجوانوں نے جنہیں میڈیا میں یوتھیا کہا جاتا ہے، ایسی سنائیں کہ جس کی توقع کسی سیاسی پارٹی کے ورکرز سے نہیں کی جاسکتی۔ طالبان، حماس یا بوکوحرام کی طرح ان لوگوں کا عجب رویہ ہے۔ حملہ آور ہوتے ہوئے "الجہاد الجہاد" کے نعروں میں قتل و غارت گری بھی جائز ہے۔ لیکن جب جوابی طور پر ان کا مکو ٹھپا جاتا ہے تو ٹسوے بہاتے ہوئے فوری مظلومیت کی سیاہ چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ پھر اس حوالے سے اتنی مبالغہ آرائی کرتے ہیں کہ جیسے جھوٹ بھی ثواب کی نیت سے بولا جا رہا ہو۔

ابھی ان کی 26 نومبر کی رات ہونے والی مبینہ شہادتوں پر تضاد بیانی قابل ملاحظہ ہے اور ہمارے قومی میڈیا میں اس کی دھوم ہے۔ ایک بوڑھا بیرسٹر جو ایک طرف اپنی توتلی زبان میں اپنے سے شاید چھوٹی بشریٰ بیگم عرف پنکی پیرنی صاحبہ کو اپنی ماں کہہ رہا تھا، حالانکہ عین ممکن ہے کہ بشریٰ بیگم ایک بزرگ کی طرف سے خود کو ماں کہلوانا پسند بھی نہ کریں۔ ایسے ہی جیسے میڈم نور جہاں کو کسی نے اس طرح کہا تو وہ لڑ پڑی تھیں، یہ کہتے ہوئے “مویا تیری اپنی ٹانگیں قبر میں ہیں اور مجھے کیا کہہ رہے ہو”۔ ویسے یہ بات ہماری پی ٹی آئی میں کیسی عجیب ہے کہ پچھلے دور میں ہمارے ایک معروف صحافی نے خوشامد کی اخیر کرتے ہوئے سابقہ زوجہ عمران ریحام خان کو "مادر ملت" کا خطاب دے ڈالا۔ اور کئی ایسے منچلے بھی ہوں گے جو اپنے بانی کی مطلقہ انگریز بیوی جمائما خان کو جو خیر سے کھلاڑی کے بچوں کی ماں بھی ہے، ان کو بھی سابق ماما یا مدر آف کے پی کہہ کر مخاطب کر سکتے ہیں۔ شاید وہ بھی خود کو اس طرح مخاطب کیا جانا پسند نہ فرمائیں۔

پہلے اپنے سیاسی مفاد کیلیے لیڈروں کو باپ بنانے کا رواج تو تھا جیسے مسٹر بھٹو ایوب کو ڈیڈی کہا کرتے تھے لیکن سیاسی ماں بنانے کا رواج کم تھا۔ جیسے جناح کی بہن کو بنایا گیا۔ لیکن سابق صدر جنرل ایوب خان نے ان کے متعلق کیسے شدید ترین الفاظ بول دیے تھے کہ “یہ کیسی مادر ملت ہے جس نے ایک پلے کو بھی جنم نہیں دیا”۔ بہرحال ہمیں تو دنیا بھر کی تمام ماؤں کا احترام ہے۔ لیکن لوگوں کو خوشامد میں اس قدر گرنا نہیں چاہیے۔

بات ہو رہی تھی ایک بزرگ بیرسٹر کی جنہوں نے میڈیا کے سامنے بے سروپا دعوی کر ڈالا کہ 26 نومبر کی رات جب طاقتوروں نے احتجاجیوں کو ڈی چوک سے نکالا تو ہماری 278 شہادتیں ہو گئیں۔ لیکن دوسرے بیرسٹر نے چند روز بعد وضاحت فرما دی کہ میں غلط بیانی نہیں کروں گا، ہمارے احتجاجیوں کو مار بھگانے کی کارروائی میں پی ٹی آئی کارکنان کی ایک درجن شہادتیں ہوئی ہیں۔ حالانکہ اس وضاحتی بیان کے بعد بھی درجنوں بیسیوں اور سینکڑوں کی گردانیں ان کی اپنی صفوں میں زبان زد عام و خواص ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے یہ رٹا ہنوز جاری ہے کہ بانی کا حکم تھا سنگجانی میں دھرنا دینا ہے جبکہ بشریٰ بیگم اپنی من مانیاں کرتے ہوئے ڈی چوک پہنچنے اور وہاں سے کسی صورت نہ اٹھنے پر حلف لے رہی تھیں۔ اور پھر اپنے جوشیلے کارکنان کو بحرظلمات میں بے یار و مددگار پھینکنے کے بعد اسی شتابی میں واپسی کی راہ لی۔

اس کے بعد سابق کھلاڑی تو اپنی سیاسی وزڈم کی بلندیوں پر فائز ہونے کے پروپیگنڈے کی برکت سے بری ہوگیا ہے اور سارا ملبہ بیچاری بشریٰ بیگم پر ڈال دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ کس قدر زیادتی کی بات ہے بشریٰ بیگم  نے ایک پرعزم مذہبی خاتون اور وفاشعار مشرقی بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر نامدار کے ساتھ محض وفا نبھائی۔ ان کاجیل میں بیٹھا خاوند اپنے احتجاجی قافلے کو جہاں پہنچانا چاہتا تھا، پیرنی صاحبہ نے اسے وہیں پہنچایا۔ اس پر انہیں ہمت دکھانے کی داد بنتی ہے۔ البتہ جس شتابی سے انہوں نے پلٹا کھایا اور جس ہربراہٹ میں وہ واپس پدھاریں، اس سے ان کی بہادری پر مبنی قلعی ڈی چوک کر چوراہے میں کھل گئی۔

اب ہم اصل بات پر آتے ہیں کہ ہمارے سابق کھلاڑی ہیرو کی اس آخری کال کا اصل مدعا آخر کیا تھا؟ کیا وہ اسلام آباد پہنچ کر محض ایک احتجاجی جلسہ کرنا چاہتے تھے؟ یا طویل دھرنا دینا مقصد تھا؟ اور پھر اس دھرنے میں حقیقی ٹارگٹ کیا تھا؟ وہ اس آخری کال کے ذریعے حاصل کیا کرنا چاہتے تھے؟ اس سلسلے میں ان کے بیانات یا ارادے قطعی ڈھکے چھپے نہ تھے۔ انہوں نے ڈھاکہ میں طلبہ احتجاج کی تحسین کرتے ہوئے جس طرح اس کامیابی کو بطور مثال پیش کیا تھا، ان کا مدعا انہی لائینوں پر دھرنا دیتے ہوئے یہ تھا کہ چند دنوں میں بتدریج اتنی زیادہ عوامی شمولیت ہوجائے گی کہ کسی رات دھاوا بولتے ہوئے انتہائی قرب میں واقعہ پارلیمنٹ اور پرائم منسٹر ہاؤس پر قابض ہو جائیں گے۔ جس سے پورا نظام حکومت مفلوج و جام ہوکر رہ جائے گا۔

 دوسرے لفظوں میں عمرانی انقلاب کا سورج طلوع ہوگا۔ یہ خطرناک منصوبہ کس درجہ قابل عمل تھا؟ جذبہ جنوں کو اس سے کیا غرض؟ ایسی جنونی ذہنیتیں نتائج کی پرواہ کیے بغیر “بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق” جیسے ترانے پڑھتے آگے بڑھتی ہیں۔ اور حرم شریف میں داخل ہوتے ہوئے خانہ کعبہ پر قابض بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ کہتے ہوئے کہ امام مہدی کا ظہور ہو گیا ہے لہذا پورا عالم اسلام ان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہو۔ “شعور و جنوں” کی یہی وہ کشمکش یا ٹسل ہے جو یہ درویش ہمیشہ اپنے لوگوں پر واضح کرتا رہتا ہے کہ حضور آپ صدیوں پہلے کی افسانوی و رومانوی تاریخ میں جینا چھوڑ دیں۔ تب اس نوع کے جنوں اگر کام آ بھی جاتے ہوں گے مگر آج کی وزڈم و شعور کی دنیا قطعی مختلف ہے۔
آج آپ کا استدلال ہے کہ 12 شہادتیں ہوئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک بھی نہیں ہوئی۔ خدا کا شکر کریں جو ہوا ہے بہتر ہوا ہے۔ بصورت دیگر اگر 126 دن والے سابقہ دھرنے کی تاریخ دہرائی جاتی تو کسی بھی جنونی دھاوے کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والی ہلاکتیں شمار کرنا مشکل ہو جاتا۔ اور نتیجہ بھی حرم میں قبضے جیسا ہی نکلتا۔

یہاں اس فرق کو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جو دھرنا کسی انگلی کے اندرونی اشارے پر ہوتا ہے اور جو محض کھوکھلی جنونیت کے ایجنڈے پرہوتا ہے۔ پہلی صورت میں 126 دن طوفان اٹھائے رکھا جا سکتا ہے جبکہ دوسری صورت میں ایک 126 منٹ بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ درویش بھی ایک مرحلے پر ششدر رہ گیا تھا کہ شاید حافظ صاحب کی کمان میں کوئی گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے جیسا دوغلا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیکن حافظ نے ثابت کر دکھایا کہ ہماری ڈیموکریسی دنیا بھر میں بے مثال ولاجواب ہے۔

دوسری طرف ہے کھلاڑی بھی سچا کہ اقتدار کی دیوی سے محض آپ جناب کے چرنوں میں ہی ہم آغوش ہوا جاسکتا ہے۔ مگر کھلاڑی نے حصول لیلی کا جو راستہ اپنایا ہے، وہ طاقت سے ٹکراؤ کا ہے جس میں وہ یقیناً کامیاب نہ ہو پاۓ گا، لہذا وہ اپنا ٹریک بدلے یہ مان لے کہ اس کے پاس اتنی عوامی طاقت نہیں ہے جسے شاہین سے لڑایا جا سکے، ایسی صورت میں اقتدار کی دیوی کو جنگی چالوں سے نہیں صرف اور صرف سیاسی چالوں سے رام کیا جا سکتا ہے۔