جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد، عمر ایوب زیر حراست

  • جمعرات 05 / دسمبر / 2024

جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے جب کہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر فرد جرم عائد کردی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے شیخ رشید، عمر ایوب، شیخ راشد شفیق سمیت دیگر پر فرد جرم عائد کی۔ عدالت نے حاضر 100 ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔ ملزمان پر بغاوت، دہشتگردی، اقدام قتل، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور سازش مجرمانہ کے الزامات شامل ہیں۔ فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد بانی پی ٹی آئی سمیت تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔

فرد جرم عائد کیے جانے کے موقع پر بانی پی ٹی آئی، شیخ رشید، صداقت عباسی، عمر ایوب، زرتاج گل، شیخ راشد شفیق، واثق قیوم عباسی، ملک احمد چٹھہ، راجا بشارت، عثمان ڈار، اشرف خان سوہنا سمیت دیگر عدالت موجود تھے۔ عدالتی فیصلے کے بعد قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو حراست میں لے لیا گیا جب کہ سابق وزیر قانون راجا بشاورت کو بھی جیل سے نکلتے ہی گرفتار کرلیا گیا۔ پی ٹی آئی کارکن عظیم کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنما احمد چٹھہ کو بھی حراست میں لے کر پولیس چوکی اڈیالہ منتقل کردیا گیا۔

راولپنڈی پولیس نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب سمیت 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔ تمام رہنماؤں کو فائنل کال پر پُرتشدد احتجاج کے تناظر میں درج مقدمات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کی شہادت طلب کرلی۔

قبل ازیں کیس کی سماعت میں پیش ہونے کے لیے عمر ایوب، زرتاج گل، راشد شفیق، صداقت عباسی، واثق قیوم عباسی، جاوید کوثر، ساجد قریشی، مسرت جمشید چیمہ، محمد احمد چھٹہ، عثمان ڈار اڈیالہ جیل پہنچے۔

عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کے تمام ملزمان کو آج طلب کررکھا تھا، اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی سمیت 120 ملزمان پر فرد جرم عائد ہونی تھی۔ کیس کے سلسلے میں عدالت نے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی لاہور جیل سے طلب کیا ہے۔

عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، شبلی فراز ، شیریں مزاری، زرتاج گل ،زین قریشی ،طیبہ راجہ کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

ان کے علاوہ دیگر تمام غیر حاضر 45 ملزمان کو بھی گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ وارنٹ گرفتاری والے ملزمان پیش نہ ہوئے تو انہیں اشتہاری قرار دینے کی قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔