جنوبی کوریا میں مارشل لا کا حشر
- تحریر نصرت جاوید
- جمعرات 05 / دسمبر / 2024
گزشتہ کئی برسوں سے انٹرنیٹ نے ہمارے ذہنوں میں کشادگی لانے کے بجائے ہمیں کنوئیں کے مینڈکوں میں بدل دیا ہے۔ بین الاقوامی حالات سمجھنے کی ذرہ برابر کوشش نہیں ہوتی وگرنہ دیگر ملکوں کا بغور جائزہ ہمیں اپنے حالات کو بہتر انداز میں جاننے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔
بہرحال کنوئیں کے مینڈک ہوئے میرے ذہن کو جب منگل کی شب یہ خبر ملی کہ جنوبی کوریا کے صدر نے اپنے ملک میں مارشل لا کا اعلان کردیا ہے تو میں نے فوراً طے کرلیا کہ یہ لمبے عرصے تک مسلط رہے گا۔ جنوبی کوریا کے حالات ہم سے بہت ملتے ہیں۔ ہم دونوں امریکہ اور سوویت یونین کے مابین برسوں تک چھڑی سرد جنگ میں سرمایہ دارانہ ممالک کے حلیف رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد البتہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے مابین جنگ چھڑی تو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اس میں امریکہ کی براہ راست معاونت سے انکار کردیا۔ ہم نے امریکہ کی بارہا درخواستوں کے باوجود جنوبی کوریا کے ’’دفاع‘‘ کے لئے امریکی افواج کی کمان میں قائم نام نہاد ’’امن فوج‘‘ کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔
ہم پر یہ دباؤ بھی ڈالا گیا کہ ہم روپے کی قدر میں کمی کریں۔ لیاقت علی خان کی حکومت نے وہ دباؤ بھی نظرانداز کردیا۔ کوریا میں چھڑی جنگ کے دوران فوجیوں کو بارش اور نمی سے محفوظ رہنے کے لئے پٹ سن سے بنی ترپالوں وغیرہ کی ضرورت تھی۔ ان دنوں آج بنگلہ دیش کہلاتا مشرقی پاکستان ہوا کرتا تھا۔ وہ دنیا بھر میں پٹ سن پیدا کرنے والے ممالک کی صف اوّل میں شامل تھا۔ کوریا میں چھڑی جنگ کی وجہ سے مشرقی پاکستان کی پٹ سن کی بدولت ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر قیام پاکستان کے دوران نازل ہوئی معاشی مصیبتوں کے باوجود توانا تر ہوگئے۔ بازار میں رونق لگ گئی۔
خود کو شمالی کوریا میں ضم ہونے سے بچانے کے باوجود جنوربی کوریا جمہوری نظام تشکیل نہ دے پایا۔ اسے بھی امریکہ کے دیگر اتحادیوں کی طرح جمہوری نظام بھلاکر ’’قوم کو ترقی دینے‘‘ کے لئے مارشل لا کے ذریعے نمودار ہوئے دیدہ وروں کی ضرورت محسوس ہوئی۔ بالآخر پارک نامی آمر کی صورت وہ دیدہ ور مل گیا۔ اسی دوران پاکستان بھی فیلڈ مارشل ایوب خان کی صورت اپنا ’’دیدہ ور‘‘ تلاش کرچکا تھا۔ پاکستان اور جنوبی کوریا کی اشرافیہ سرد جنگ کی راحتوں سے مالا مال ہونا شروع ہوگئیں۔
دونوں ممالک میں تاہم فوجی آمریتوں کی مزاحمت بھی ابھری۔ ہمارے ہاں اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی عمل میں آئی۔ بعدازاں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران آئینی حکومت کا وقفہ بھی آیا۔ 1977 میں لیکن ایک بار پھر مارشل لا کی چھتری تلے جانا پڑا۔ جنوبی کوریا میں چند برسوں کے جمہوری وقفے کے بعد 1979 میں دوبارہ مارشل لا لگ گیا۔ اس مارشل لا کی مزاحمت کے دوران 18مئی 1980 کے دن ایک یونیورسٹی میں دو ہزار کے قریب طالب علم فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے میں مارے گئے۔ اس کے بعد کئی برسوں تک اس ملک میں خوف کا راج رہا۔ جمہوری نظام کی طرف لوٹنے میں بہت برس لگے۔
جنوبی کوریا کی تاریخ سے تھوڑا واقف ہوتے ہوئے میں نے فرض کرلیا کہ وہاں کے عوام بھی ’’جمہوری تجربے‘‘ سے اکتاچکے ہوں گے۔ مجھے یہ خبر تو تھی کہ وہاں کا صدر یون سک یول عوام میں غیر مقبول ہے۔ وہ سرکاری وکیل رہا ہے۔ اس کی بیوی پرکرپشن کے شدید الزامات ہیں۔ اس کے خلاف غصے میں عوام نے تاہم رواں برس کے اپریل ہی میں ہوئے پارلیمانی انتخاب کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کی بھرپور حمایت کی تھی۔ وہ اس جماعت کے رہ نماؤں کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنانے میں مصروف ہوگیا۔ بطور بااختیار صدر وہ اپوزیشن جماعت کی حکومت کے حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کی راہ میں روڑے بھی اٹکاتا رہا۔ بالآخر تنگ آکر منگل کے روز مارشل لا کا اعلان کردیا۔
جنوبی کوریا کے صدر نے مارشل لا لگایا تو مجھے 1958 کا پاکستان یاد آگیا۔ کنوئیں کا مینڈک ہوئے ذہن نے طے کرلیا کہ شاید جنوبی کوریا کی فوج سے اب کوئی ’’ایوب خان‘‘ ابھرے گا اور جنوبی کوریا ایک بار پھر طویل برسوں کے لئے فوجی آمریت کی نذر ہوجائے گا۔ ذہن کو سازشی تھیوری گھڑنے کے لئے استعمال کیا تو یہ سوچا کہ یون سک کی جگہ بالآخر نمودار ہوا ’’ایوب خان‘‘ ٹرمپ انتظامیہ کو بھی پسند آئے گا۔ ٹرمپ چین کے خلاف محاذ آرائی کو تلابیٹھا ہے۔ امریکہ جب بھی روس یا چین سے محاذ آرائی کو ڈٹ جائے تو پاکستان اور جنوبی کوریا جیسے ملکوں میں آمروں کی پشت پناہی کرتا ہے۔ آمراسے انگریزی محاورے والی ’ون ونڈو‘ فراہم کردیتے ہیں۔ ریگن کو افغانستان ’’آزاد‘‘ کروانے کے لئے پاکستان میں جنرل ضیا ملا۔ اس ملک میں ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ لڑنے کے لئے بش کو مشرف کی ضرورت محسوس ہوئی۔ منگل کے روز جنوبی کوریا میں لگایا مارشل لا ٹرمپ کو چین سے محاذ آرائی کے لئے جنوبی کوریا سے کوئی ’’جنرل ضیا یا مشرف‘‘ فراہم کرسکتا تھا۔
رات سونے سے قبل مگر لیپ ٹاپ کھولا تو میرے ذہن میں آئی تمام سازشی تھیوریاں ریت کا ڈھیر ثابت ہوئیں۔ عالمی میڈیا کی براہ راست نشریات کے پھیروں سے معلوم ہوا کہ جنوبی کوریا کے عوام کی کماحقہ تعداد پارلیمان کی عمارت کے گرد جمع ہونا شروع ہوگئی ہے۔ وہاں کی قومی اسمبلی کے سپیکر نے اجلاس طلب کرلیا تھا۔ اس اجلاس میں شرکت کے لئے 300میں سے 190اراکین فوج اور پولیس سے لڑتے جھگڑتے قومی اسمبلی پہنچ گئے۔ مارشل لا کے خلاف قرارداد منظور کی۔ صدر یون کو فوراً اس قرارداد کی تعمیل کرنا پڑی۔ مارشل لا اٹھالیا۔ اب اس کے خلاف مواخذے کی تحریک پیش کردی گئی ہے جس کا فیصلہ دو دنوں میں متوقع ہے۔ دریں اثنا اراکین اسمبلی کا ایک گروہ اس امر پر بھی اصرار کررہا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے پولیس اور فوج کے ان افسران اور اہل کاروں کی نشاندہی ہو جنہوں نے اراکین پارلیمان کو منگل کی رات قومی اسمبلی میں روکنے کی بزور قوت کوشش کی۔ نشان دہی کے بعد ان کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز ہو۔ دیکھنا ہوگا کہ اس مطالبے پر بھی عمل ہوتا ہے یا نہیں؟!
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)