میری کہانی (12)
- تحریر عطاالحق قاسمی
- جمعرات 05 / دسمبر / 2024
مہاراجہ رنجیت سنگھ کی نواسی شہزادی بمباوالی جس کا ذکر میں نے اپنے پچھلے کالم میں کیا۔ ماڈل ٹاؤن اے بلاک میں چونکہ میرے گھر کے بہت نزدیک رہتی تھی۔ لہٰذا میرا روزانہ ادھر سے گزر ہوتا تھا یہ کوٹھی اے بلاک کے خصوصی ڈیزائن والے بس اسٹاپ کے بالکل سامنے تھی جس کے ساتھ دلدار کا کھوکھا تھا۔
ایک روز میں دلدار کے کھوکھے سے کچھ خریدنے کے لئے اپنی سائیکل پر شہزادی بمباوالی کے گھر کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک ناگ پر پڑی وہ شہزادی صاحبہ کے درختوں سے گھرے ’’محل‘‘ کی جھاڑیوں سے نکل کر سڑک کی طرف آ رہا تھا۔ وہ میرے بالکل قریب تھا۔ میں نے پہلے سوچا کہ سائیکل اس پر سے گزار کر اسے زخمی کرتا ہوں مگر میرے دیکھتے ہی دیکھتے جب وہ سڑک کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ گیا اور ابھی اس کا بقیہ حصہ شہزادی بمباوالی کی کوٹھی سے سرکتا سرکتا باہر آ رہا تھا۔ چنانچہ میں ’’ناگ دیوتا‘‘ کے احترام میں اپنی جگہ جم کر کھڑا رہا کہ یہ دیومالائی قسم کی مخلوق گزر جائے تو میں منزل کی طرف قدم بڑھاؤں۔ ایک دفعہ تو میرے دل میں خیال آیا کہ سائیکل اس پر سے گزار دوں اللہ کا شکر ہے کہ میں اس ایڈونچر سے باز آ گیا۔ ورنہ وہ مجھے اور میری سائیکل کو چشم زون میں نگل سکتا تھا۔ اس نے چند لمحوں میں ہمارے ہضم ہونے پر ایک آدھ ڈکار ہی تو مارنا تھا۔
بہرحال یہ بھینس جیسا موٹا اور کم از کم ایک فرلانگ لمبا ناگ سامنے والی کوٹھی کے باغیچے میں گھس گیا اور ابھی اس کا بقیہ دھڑ شہزادی بمباوالی کے گھرسے مسلسل اپنی منزل کی طرف رواں تھا۔ میرے لئے ایک بات بہت حیرت انگیز تھی کہ میں نے اس گھر میں سے صرف ایک شخص کو آتے جاتے دیکھا اس کی عمر پچاس کے لگ بھگ تھی۔ میں نے اسے کسی سے بات کرتے کبھی نہیں دیکھا تھ۔ا وہ صرف نماز پڑھنے مسجد کو جاتا اور پھر وہیں سے ’’اچھے بچوں کی طرح‘‘ گھر کو لوٹ آتا۔ البتہ ایک کردار اور تھا جو شہزادی صاحبہ کی بھینسوں کی رکھوالی پر مامور تھا، وہ بھینسوں سے باتیں کیا کرتا تھا اور لگتا تھا وہ اس کی زبان سمجھتی تھیں۔ البتہ وہ جواب میں کبھی کبھی ڈکرانا شروع کر دیتیں۔ شاید اس کی کسی گستاخی پر غصہ میں آجاتی ہوں۔ شہزادی 1957 میں انتقال کر گئی مگر مجھے کچھ علم نہیں کہ اس کی وفات ماڈل ٹاؤن میں ہوئی یا پاکستان سے باہر کسی ملک میں ہوئی۔ کیونکہ میں نے نہ اس کا جنازہ اٹھتا دیکھا اور نہ کہیں اس کا مزار بنتے دیکھا۔
ہمارے ہمسائے میں ایک صاحب بھی رہتےتھے ان کا پورا نام یاد نہیں وہ ایس پی ریٹائرڈ تھے۔ چنانچہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے اپنا رعب داب قائم رکھا ہوا تھا۔ ان کے گھر کے سامنے والے پلاٹ میں انہیں اگر کوئی فطری تقاضے سے’’مجبور‘‘ اُکڑوں بیٹھا نظر آتا تو وہ ہوائی فائر کرتے اور اس کے ساتھ ہی وہ مظلوم اپنا ’’ضروری کام‘‘ ادھورا چھوڑنے کی کوشش کرتا۔ مگر ادھورا چھوڑتے چھوڑتے فطرت اس کا کام خودبخود پورا کردیتی۔ ریٹائرڈ ایس پی صاحب مگر بدنصیب واقع ہوئے تھے کہ ان کی ایک جوان بیٹی اور ایک جوان بیٹا ان کی زندگی میں فوت ہو گیا۔ سب سے چھوٹے بیٹے کا دماغی توازن برقرار نہ رہا مگر ایک حیرت انگیز بات ، میں جب 1970 کی دہائی میں امریکہ سے واپس پاکستان لوٹا تو وہ مجھے عزیز کے کھوکھے کے پاس مل گئے۔ میں انہیں بہت پرتپاک طریقے سے ملا مگر ان کے چہرے پر بیٹ لگی تھی انہوں نے ایک نظر میری ٹائی پر ڈالی اور کہا عطا میکسیکن ٹائی باندھی ہوئی ہے۔ ایلیٹ کلاس کے افراد کو عالم دیوانگی میں بھی اس طرح کی باتیں یاد رہتی ہیں ۔
ماڈل ٹاؤن کے اصل راستوں جن کے نام لکھ چکا ہوں کا تفصیلی ذکر تو بعد میں آئے گا، پہلے میں اپنے چند محترم جاننے والوں کا ذکر کیوں نہ کرلوں۔ سی بلاک میں محترم عبدالرشید تبسم رہتے تھے۔ وہ اپنے گھر پر ہر پندرہ دن کے بعد ایک مشاعرہ رکھتے تھے کہ اس کی صدارت انہوں نے خود کرنا ہوتی تھی۔ اس میں میں، ناصر زیدی، نذیر قیصر اور ایک استاد قسم کے شاعر بھی باقاعدگی سے شریک ہوتے۔ افسوس میں ان محترم شاعر کا نام بھول گیا ہوں۔ ایک دفعہ ان کا ایک افسانوی مجموعہ شائع ہوا۔ اس واقعہ کے تین ماہ بعد سر راہ ان سے ملاقات ہوئی اور میں نے ان سے پوچھا حضور آپ کے افسانوی مجموعے کی سیل کیسی جا رہی ہے ؟ تبسم صاحب کے لہجے میں مرزا ادیب کے لہجے کی حیرت سی ہوتی تھی فرمانے لگے قاسمی صاحب کمال ہوگیا۔ پاگل خانے سے ایک سو کتابوں کا ایک اور آرڈر آیا ہے۔ میں نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی پر قابو پایا ۔
تین ماہ بعد اسی طرح سرراہ ملے اور میں نے کتاب کا پوچھا تو اس دفعہ پہلے سے کہیں حیرت زدہ لہجے میں کہا ’’قاسمی صاحب پاگل خانے سے تین سو کتابوں کا ایک اور آرڈر آیا ہے۔ میں نے یہ بات امجد اسلام کو بتائی تو اس نے کہا بکواس نہ کرو، کوئی رائٹر اپنی کتا ب کا اس طرح تمسخر نہیں اڑا سکتا۔ اس واقع کے چند روز بعد میں اور امجد پاک ٹی ہاؤس سے باہر نکل رہے تھے کہ سامنے سے تبسم صاحب آتے نظر آئے۔ میں نے آگے بڑھ کر ان سے ہاتھ ملایا اور حال واحوال پوچھنے کے بعد کتاب کے حوالے سے بات کی تو بہت جوش وخروش سے بولے ’’آج ہی پاگل خانے سے پچاس کتابوں کا آرڈر آیا ہے ‘‘۔ یہ سن کر امجد اپنی ہنسی کو کھانسی کی شکل دیتے ہوئے وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر پاک ٹی ہاؤس کی بغل میں واقعہ سگریٹ پان کی دکان پر کھڑا ہو گیا۔ اور پھر جب میں اس کے پاس پہنچا تو شدید ہنسی کی وجہ سے اس کی یہ ہنسی واقعی کھانسی میں بدل گئی ۔
تبسم صاحب تین ماہ کیلئے اپنے بیٹے کے پاس امریکہ گئے تو واپسی پر میں نے ان کے گھر کے باہر نیم پلیٹ دیکھی تو لکھا تھا ’’ڈاکٹر عبدالرشید تبسم ایم اے پی ایچ ڈی امریکہ۔ میں بیل دے کر اندر گیا اور بہت پرجوش انداز سے انہیں پی ایچ ڈی کی مبارک باد دی۔ اور ساتھ ہی پوچھا کہ یہ ڈگری آپ کو کتنے میں ملی ہے؟ میری اس بات پر یہ شریف النفس شخص ناراض نہیں ہوا بلکہ کہا امریکہ والوں نے میرے مجموعی ادبی کام پر یہ ڈگری دی ہے۔ میں نے کہا چلیں یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ حق بہ حقدار رسید۔ مجھے بس فکر یہ تھی کہ کہیں آپ نے مہنگی نہ خریدی ہو ۔ آج کل اس کا ریٹ بہت ڈاؤن ہے۔ اس پر انہوں نے ایک دفعہ پھر ناراضی کا اظہار نہیں کیا ۔ بس چائے کا آرڈر کینسل کر دیا۔
میں نے یہ واقعہ اپنے ایک بیوروکریٹ دوست کو سنایا تو چھ ماہ بعد ان کی نیم پلیٹ پر بھی ایم اے پی ایچ ڈی امریکہ لکھا ہوا دیکھا۔ میں نے انہیں بھی وہی بات پوچھی جو تبسم صاحب سے پوچھی تھی تو ناراضگی کے عالم میں بولے ’’قاسمی صاحب کبھی سنجیدہ بھی ہو جایا کریں‘‘۔ میں نے کہا حضور آپ کا حافظہ کمزور ہو گیا ہے۔ تبسم صاحب والی بات میں نے ہی آپ کو بتائی تھی۔ اس پر انہوں نے بھرپور قہقہہ لگایا ۔اس کے بعد اتنی خاموشی اختیار کرلی کہ اس سناٹے سے گھبرا کر میں باہر نکل آیا۔ (جاری ہے)
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)