جذباتی سیاست

ہمارے ہاں آج کل کہا جاتا ہے کہ یہ بیانیہ جذباتی ہے، سیاست جذباتی اور سطحی ہو گئی ہے۔  اس میں عقلی دلائل کی کمی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔

جذباتی بیانیے سے مُراد یہی ہے کہ ایسا بیانیہ جو زمینی حقائق سے دور ہو۔ اور صرف اور صرف جذبات کی عکاسی کرتا ہو۔ جیسے امریکہ سے آزادی کا بیانیہ بنایا گیا۔ جو زمینی حقائق سے کوسوں دور تھا۔ اسی لیے اس سے اُلٹے پاؤں پھرنا پڑا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست اکثر جذبات کے ہی زیرِ اثر ہوتی ہے کیونکہ عوامی رائے اور سیاسی رویے میں جذبات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ گورننس میں عقلی تجزیے اور پالیسیوں پر گفتگو بنیادی اہمیت رکھتی ہے لیکن خوف، امید، غصہ اور فخر جیسے جذبات سیاسی فیصلوں اور رہنماؤں اور عوام دونوں کے رویوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔  آئیے دیکھتے ہیں یہ کیسے ہوتا یے۔

1: انتخابی مہمات میں جذباتی اپیل
سیاستدان اکثر ووٹرز سے جڑنے کے لیے جذباتی پیغامات کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر
  "Make America Great Again" جیسے نعرے امید یا ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاسی اور مذہبی دونوں قسم کے رہنما یہ حکمت عملی اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور عوام کی اکثریت پہ اثرانداز ہوتے ہیں۔ صرف اس ایک موضوع پہ ایک لمبی تحریر لکھی جا سکتی یے۔ لیکن شعیب بن عزیز  کہتے ہیں کہ:

دل بھی سو مصلحتیں دیکھتا ہے
دل بھی دیوانہ کہاں ہے یارو 

2: شناخت اور وابستگی

سیاسی نظریے اور پارٹیاں اکثر ثقافتی، نسلی یا سماجی شناختوں کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ یہ جذباتی وابستگی اور وفاداری کو جنم دیتی ہیں جو عقلی دلائل سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ بیانیہ ہوتا ہے جس میں عقلی دلائل میں کمی اور صرف جذبات کی بہتات کی وجہ سے اسے "جذباتی اور سطحی بیانیہ" کہا جاتا یے۔ پاپولسٹ رہنما اسی کی بنیاد پہ مقبول ہوتے ہیں۔ عوام کی اکثریت کی حمایت کے باوجود یہ بیانیے اور یہ طرزِ سیاست معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ کیونکہ یہ عقلی دلائل اور زمینی حقائق سے دور ہوتا یے۔

3: خوف اور تحفظ
امیگریشن، دہشت گردی یا اقتصادی عدم استحکام جیسے مسائل کو اکثر ایسے انداز میں پیش کیا جاتا ہے جو خوف پیدا کرے۔  اس کے نتیجے میں لوگ اُن رہنماؤں یا پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جو اُنہیں محافظ اور مسیحا نظر آتے ہیں۔ اب یہ "مسیحا" پہ منحصر ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ یا وہ صرف اپنی سیاست چمکانے کے لیئے یہ سب کر رہا ہے ۔


4: غصہ اور احتجاج

عوامی عدم اطمینان اجتماعی غصے کو جنم دیتا ہے جو اکثر احتجاجی تحریکوں یا انقلاب کا باعث بنتا ہے۔ یہاں بھی لیڈر کا رول اہم ہوتا ہے۔ ورنہ رابرٹ موگابے اور میخائیل ساکاشوِلی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔


5: قطبیت اور گروہی حرکیات
ہم بمقابلہ وہ جذبات معاشروں کو تقسیم کرتے ہیں، اور سیاسی جماعتیں یا گروہ وفاداری یا ناراضی جیسے جذبات کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔


6: میڈیا کا کردار
جدید میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز جذباتی بیانیوں کو بڑھاوا دیتے ہیں، جس سے جذبات پر مبنی سیاست مزید تقویت پاتی ہے۔ اگرچہ جذبات لوگوں کو متحرک اور متاثر کر سکتے ہیں، لیکن یہ عقلی مباحثوں اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو پس پشت ڈالنے کا خطرہ بھی رکھتے ہیں۔ جذباتی اپیل اور عقلی سوچ کے درمیان توازن برقرار رکھنا صحت مند سیاسی مباحث کے لیے ضروری ہے۔