اظہار رائے پر پابندی مسئلہ کا حل نہیں!

پاک فوج  نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ’بے لگام غیر اخلاقی آزادی اظہار رائے  کی آڑ میں زہر اُگلنے ، جھوٹ اور معاشرتی تقسیم کا بیج بونے  کے خاتمہ کرنے کے لئے سخت قوانین وضوابط بنا ئے جائیں  ان پر عمل درآمد کرایا جائے‘۔ فارمیشن  کمانڈرز کانفرنس کے بارے میں آئی ایس پی آر کی پریس  ریلیز میں واضح کیا گیا ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد میں فوج کی تعیناتی  پر بعض عناصر  کا طرز عمل قابل قبول نہیں ہے۔

آزادی اظہار اور فوج کے خلاف پروپیگنڈے کے حوالے سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور فوجی قیادت اکثر و بیشتر اظہار خیال کرتی رہتی ہے۔    البتہ فارمیشن کمانڈرز  کانفرنس جیسے اہم اور پروفیشنل فورم سے  ملک کے جمہوری نظام میں آزادی اظہار  پر پابندی لگانے کی باتیں کرکے اس فورم کی   اہمیت اور ملک میں جمہوری نظام کی ضرورت   کے بارے میں متعدد سوالات سامنے آئیں گے۔ ملک میں اس وقت سیاسی تقسیم کی بدترین  صورت حال دیکھی جاسکتی ہے۔ سیاسی پارٹیاں اس مشکل سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ سیاسی  مصالحت کی اگر کوئی امید باقی بچی بھی تھی تو وہ 26 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے  بعد تقریباً ختم ہوچکی ہے۔

وزیر اعظم سمیت پوری سرکاری مشینری اس وقت تحریک انصاف کو دبانے اور 9 مئی کے بعد 26 نومبر کو  ملک دشمنی پر محمول کرکے  کسی بھی طرح  پی ٹی آئی کی اعلیٰ ترین قیادت کو سخت سزائیں دلانے کا  ارادہ رکھتی ہے۔ البتہ اس حکمت عملی کے بارے میں  ملک میں سیاسی اتفاق رائے موجود نہیں ہے۔  حتی کہ ملکی عدالتیں بھی اس حکومتی و عسکری بیانیے  پر یکسو نہیں ہیں کہ 9 مئی کو ملکی فوج میں بغاوت کرانے کی کوشش کی گئی تھی یا 26نومبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا مقصد ملکی نظام کو تہ و بالا کرنا تھا۔  اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے گزشتہ روز اس حوالے سے ایک  درخواست  کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ اگر پی ٹی آئی نے عدالتی حکم کے باوجود اسلام آباد کی طرف مارچ کرکے غلط کیا تو حکومت نے بھی اسلام آباد  بند کرکے عدالتی خواہش کا احترام نہیں کیا۔ عدالت نے تو عام شہریوں  کو سہولت دینے اور کاروبار زندگی معمول کے مطابق بحال رکھنے کی  ہدایت کی تھی۔

اس صورت حال میں دیکھا جاسکتا ہے کہ  ڈیڑھ سال بیت جانے کے باوجود  حکومت ابھی تک سانحہ 9 مئی کے  ملزموں کو سزائیں دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔  اس دوران البتہ تحریک انصاف کے متعدد لیڈروں اور کارکنوں کو مسلسل حراست میں رکھا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے  آج ہی اڈیالہ جیل میں عمران خان اور دیگر لیڈروں پر گزشتہ سال 9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کی ہے اور حسب توقع سب نے اس الزام سے انکار کیا ہے۔  ابھی یہ معاملہ زیریں عدالت میں زیر سماعت ہے۔ وہاں سے سزائیں  ملنے کے باوجود ہائی کورٹ میں ان سزاؤں کو برقرار رکھنا شاید آسان نہ رہے۔  حکومت کی طرف جھکاؤ رکھنے والے بعض حلقے  عدالتوں میں تحریک انصاف کے حامی عناصر کی موجودگی   کواس صورت حال  کا ذمہ دار سمجھیں گے لیکن یہ بھی سچائی ہے کہ استغاثہ جیسے الزامات عائد کرتا ہے مروجہ طریقے اور قانون کے مطابق انہیں ثابت  نہیں کرسکتا۔ اسی لئے ماضی قریب میں بھی عدالتوں سے تحریک انصاف کے لیڈروں کے خلاف مقدمات خارج ہوتے رہے ہیں۔

حکومت کی طرف  سے الزامات  و مقدمات اور مخالف فریق کی طرف سے انکار کی موجودہ  صورت حال  میں سیاسی افتراق اور دوریوں میں اضافہ ہورہا ہے۔   سیاسی قیادت  یہ مسئلہ سمجھنے اور اس کا کوئی مناسب حل تلاش کرے  تاکہ ملک موجودہ تعطل سے باہر نکل سکے۔   سانحہ 9 مئی پر  فوج نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد  کو سخت سزائیں دی جائیں۔ لیکن یہ معاملہ مسلسل تعطل کا شکار ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ فوج کسی  لیڈر یا شہری کے خلاف فوج میں بغاوت   کے الزام کا مقدمہ قائم کرانے اور اس کے شواہد فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔  مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور  عسکری تنصیبات ، دفاتر یا رہائش گاہ پر حملے کو ریاست کے خلاف سازش  بتانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ البتہ ملکی قانون کے مطابق کسی سازش کا ایسا الزام  جس کا کوئی واضح ثبوت موجود نہ ہو قابل تعزیر نہیں ہوتا۔

فوج نے   آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اور کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید  کو گرفتار کرکے ان کا کورٹ مارشل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے پھر مزید کوئی معلومات  فراہم نہیں کی گئیں۔ فوج اگر فیض حمید کے اعتراف جرم کی تفصیل عام کرتی اور فوجی نظام میں  ان کے خلاف تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے انہیں  ریاست اور فوجی مفادات کے خلاف سرگرم رہنے کا  قصور وار قرار دیا جاتا تو بہت سے پس پردہ واقعات  کی پراسراریت ختم ہوسکتی تھی۔  اس طرح ایک تو یہ واضح ہوتا کہ عسکری حلقوں میں فیض حمید کے علاوہ کون  کون سے لوگ ملک پر ایک نام نہاد ہائیبرڈ نظام مسلط کرنے  کی سازش میں شامل تھے جس کی ناکامی ہی کی وجہ سے اب ملک میں سیاسی تقسیم اور پروپیگنڈے کا  طوفان بپا ہے۔ پاک فوج  یقیناً خود پر ہونے والی جائز  یا ناجائز تنقید اور  نامکمل معلومات کی بنیاد پر جھوٹ پھیلانے کی موجودہ صورت حال سے پریشان ہے۔ اسی پریشانی کا اظہار اب  84 ویں فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے  دوران بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ آئی  ایس پی آر نے سخت الفاظ پر مشتمل پریس ریلیز میں حکومت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم جس  بنیاد پر  چہ میگوئیوں اور الزا م تراشی کی موجودہ مہم استوار ہے، جب تک اس کی حقیقت  عوام پر فاش نہیں ہو گی، اس وقت تک جھوٹ  کا یہ  سلسلہ بند نہیں  ہوسکتا۔ سچ بتانے کے لیے فوجی قیادت کو خود احتسابی کے عمل کو  شفاف بھی کرنا ہوگا اور اس کے بارے میں عوام کو آگاہ بھی کرنا پڑے گا۔

شہباز شریف کی قیادت میں  قائم اتحادی حکومت نے فوج  کی حوصلہ افزائی اور مطالبے کی روشنی میں اظہار رائے کے متعدد راستے بند کرنے کی  کوشش کی ہے۔ الیکٹرانک مواصلات پر  پابندی لگانے یا کنٹرول کرنے کی کوشش میں ملک سے انٹرنیٹ کے ذریعے  کی جانے والی مختلف النوع تجارتی سرگرمیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ صحافیوں یا کسی دوسرے فورم سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے پر بھی متعدد پابندیاں  عائد ہیں اور سرکاری ادارے  مسلسل پکڑ دھکڑ میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی خواہش کی تکمیل میں گزشتہ دنوں اسلام آباد پولیس نے صحافی مطیع  اللہ جان کو منشیات کے ایک بوگس مقدمے میں گرفتار کرکے اعلیٰ حکام کو خوش کرنے کی کوشش  کی تھی۔ یہ مقدمہ چونکہ بے سر و پا الزامات پر مبنی تھا ، اس لیے ایک ہی روز میں عدالت نے ملز م کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔  فوجی قیادت  اگر  آزادی  رائے کو کچلنے کے لیے حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرے گی تو  مستقبل قریب میں ایسی ہی بدحواسیاں دیکھنے میں آئیں گی اور ملک کے اندر و باہر  ملک  اور اس کے حکمرانوں کے لیے شرمندگی کا سبب بنیں گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف ’سپہ سالار عاصم منیر‘ کی توصیف کرنے میں بعض اوقات  شائستہ گفتاری کی حدود بھی عبور کرجاتے ہیں۔ البتہ ایک جمہوری نظام میں ملک کی منتخب حکومت کے سربراہ کے طور پر ان کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ پاک فوج کے سربراہ کو ملک کے آئینی نظام کی خوبیوں اور پابندیوں و مجبوریوں کے بارے میں بھی آگاہ کرتے رہیں۔  ملکی آئین تمام شہریوں کو آزادی رائے کا غیر مشروط حق عطا کرتا ہے۔ یہ درست  ہے کہ بعض عناصر اس حق کو بے بنیاد یا جھوٹی خبریں پھیلانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔  فوجی قیادت تو شاید اس  مشکل کو نہ سمجھ سکے کیوں کہ ان کی تربیت حکم دینے اور ماننے کے اصول پر استوار ہوتی ہے لیکن ملک کا منتخب وزیر اعظم بہر حال اس حوالے سے  آرمی چیف کو مناسب تفصیلات بتا کر انہیں اطمیمنان دلا سکتا ہے کہ جھوٹ اگرچہ بعض اوقات تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن کوئی نظام، محض مخالفین کے جھوٹ پھیلانے سے ناکام نہیں ہوتا۔ جیسے دھمکی آمیز بیان  دینے سے  کوئی حکومت ختم نہیں ہوجاتی۔ جمہوری نظام کو کامیاب بنانے کے لیے مخالفانہ  رائے اور تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔  اسے مسلسل برا کہنے  کی بجائے اس کے مثبت پہلوؤں پر غور کرلیا جائے تو آگے بڑھنے کا مناسب راستہ دریافت کیا جاسکتا ہے۔

کوئی  جمہوری حکومت آزادی رائے پر غیر ضروری پابندیاں  عائد کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ملکی آئین میں اگر اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے تو اس کی حدود بھی مقرر ہیں۔ عدالتوں میں مختلف معاملات پر غور کے دوران یہ فیصلہ ہوسکتا ہے کہ کس شخص نے کس معاملے  میں  ملک  کی آئینی حدود کو پامال کیا ہے۔ فوج کی طرف سے مسلسل اظہار رائے کو محدود کرنے کے مطالبے اور حکومت کی طرف سے   فوج کو خوش کرنے کے لیے نت نئی قانون سازی اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے طریقے اس رجحان کی حوصلہ شکنی نہیں کرسکتے۔ اگر فوج یاحکومت کسی ایک گروہ کی طرف  سے ایک خاص نوعیت کا پروپیگنڈاکرنے کو اپنی ضد بنا لیں گے یا اس معاملہ کو مسلسل سیاسی و انتظامی ایجنڈے  پر رکھا جائے گا تو  متعدد ایسے اہم کام متاثر ہوں گے جن کی طرف توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔

اظہار رائے  پر پابندی کی بات کرنے کی بجائے ملک میں اسے قبول کرنے اور تمام عناصر کو  اس کی خوبیوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔  پابندیاں لگانے سے فاصلوں اور نفرتوں میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح قومی یک جہتی کا وہ مقصد کبھی حاصل نہیں ہوسکے گا جس  کے بارے میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر بہت حساس ہیں۔