ہیومن رائٹس چارٹر اور تضادستان
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 06 / دسمبر / 2024
10 دسمبر پوری دنیا میں "یونیورسل ہیومن رائٹس ڈے" کی حیثیت سے منایا جاتا ہے اور نوبل پرائز ونرز کا اعلان بھی اسی روز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس روز 30 آرٹیکلز پر مشتمل یونیورسل ہیومن رائٹس چارٹر یا ڈیکلریشن کی منظوری دی گئی تھی۔
1945 میں دوسری بدترین و ہولناک عالمی جنگ کے اختتام پر لیگ آف نیشن کی جگہ جہاں 24 اکتوبر کو امریکی قیادت میں یو این کی بنیاد رکھی گئی، وہیں اس کے ضوابط طے کرتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر یا دستور و منشور پر کام کا آغاز کر دیا گیا۔ اس مقصد کے تحت ایک آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں اس وقت کی تقریباً تمام عالمی طاقتوں امریکا، برطانیہ، فرانس، سوویت یونین، چائنہ، کینیڈا، آسٹریلیا کے علاوہ لبنان سے ایک ایک نمائندہ لیا گیا۔ اس کمیٹی کی سربراہی سابق امریکی صدر روزویلٹ کی شریک حیات ایلینور روزویلٹ نے کی۔
کمیٹی نے اپنا پہلا مسودہ ستمبر 1948 کو بمقام جنیوا پیش کیا جس کی منظوری 10 دسمبر 1948 کو پیرس میں دی گئی۔ تب کے 58 ممالک میں سے 48 نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا۔ مخالفت کسی نے نہیں کی۔ آٹھ غیر حاضر تھے اور دو نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یواین یونیورسل ہیومن رائٹس چارٹر کے متعلق ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اب تک کی انسانی آگہی، شعوری، ترقی و سربلندی اور انسانی عظمت کی مظہر دستاویز ہے جس کی فکری بنیادیں قدیم یونانی تہذیب کے معماران و فلاسفرز کی شعوری بیداری و عرق ریزی میں ہی نہیں، رومن سولائزیشن سے ہوتے ہوئے جدید دور کے عظیم الشان فلاسفرز جان لاک، روسو، کانٹ اور رسل جیسے داناؤں کے انسان نواز فکری نکھار میں ہیں۔ اس کی اٹھان 15 جون 1215 کے برطانوی میگنا کارٹا میں ہے بلکہ اس سے بھی پہلے 1037 میں جب برٹش کنگ نے پارلیمنٹ کی اتھارٹی مانتے ہوۓ اس کے اختیارات پر سر تسلیم خم کر دیا تھا، اس کے بعد ہی 1188 میں حبیس کارپس کا اصول مانا گیا۔ اور پھر 1679 میں پارلیمنٹ نے "بل آف رائٹس" منظور کرتے ہوئے کنگڈم پر بندشیں لگائیں۔
اس کا کریڈٹ انقلاب فرانس کے ساتھ ساتھ امریکی آئین کے معماران کو بھی جاتا ہے۔ جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن اور انسانی غلامی اور فروخت کا خاتمہ کرنے والے عظیم امریکی صدر ابراہم لنکن اور پھر صدر روز ویلٹ بھی نمایاں ہیں۔ اس حوالے سے یو این ہیومن رائٹس چارٹر کا امریکی آئین سے تقابلی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی حقوق کا 30 دفعات پر مشتمل یہ چارٹر جدت و قدامت کا امتزاج اور انسانی شعوری و تہذیبی ارتقا کا مظہر و عکاس ہے۔ اور یہ ارتقا جامد نہیں ہوا بلکہ وقت کے ساتھ جنیوا کنونشنز، مستقبل کے انسانی حقوق کی دستاویزات، علامیوں اور معاہدوں کے ذریعے ان میں نکھار آرہا ہے جو شعوری ارتقا کے ساتھ آگے بڑھتا رہے گا۔
درویش یہ کہہ سکتا ہے کہ آج کی ڈیموکریٹ لبرل، سیکولر ، مہذب دنیا کا ایمان اگر "ہیومینٹی" ہے اور اس کا ٹارگٹ عالمی امن، انسانی بہبود اور تعمیر و ترقی کے ذریعے عالمگیر ہیومن سوسائٹی یا برادری کا قیام ہے تو یونیورسل ہیومن رائٹس چارٹر اس کی مقدس ترین دستاویز ہے۔ جس کا نفاذ اور پھیلاؤ جس طرح یو این کی ممبر تمام ریاستوں کا اولین فریضہ ہے، اسی طرح ان ریاستوں کے تمام اداروں اور شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ انسانی شعور کی معراج و مظہر دستاویز میں طے کیے گئے آدرشوں کی مطابقت میں اپنے اپنے معاشروں کو ڈھالنے کے لیے تگ و دو کریں۔ اور اپنا حصہ ڈالیں۔ انسانیت کی راہ میں حائل ہونے والے جبر و دہشت اور قدامت پسندی کے اندھیروں سے تب تک لڑیں جب تک جیو اور جینے دو کے اصول پر دنیا شعوری روشنی سے منور نہیں ہوجاتی۔
اس کرۂ ارضی کی یہ واحد دستاویز ہے۔ یواین کے تحت جس کے 500 زبانوں میں تراجم کیے گئے ہیں اور ممبر ریاستوں کی یہ ذمہ داری ٹھہرائی گئی ہے کہ وہ اسے اپنے تعلیمی نصاب کا حصہ بناتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس کا بھرپور پھیلاؤ کریں۔ ہر اہم مقام پر اس کی اشاعت کی جائے۔ جی چاہتا ہے کہ یہاں ہیومن رائٹس ڈیکلریشن کی ایک ایک شق کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے لیکن مختصر کالم میں یہ ممکن نہیں۔ لہذا اپنے نونہالوں کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اس کے دیپاچے سے لے کر ایک ایک آرٹیکل تک کی سٹڈی کریں اور یہ جائزہ لیں کہ آج 21ویں صدی کا ربع حصہ گزارنے کے بعد بھی بحیثیت قوم ہم لوگ کس پستی میں کھڑے ہیں۔
یونیورسل چارٹر کی پہلی شق میں یہ کہا گیا کہ تمام انسان، حقوق اور عزت کے اعتبار سے برابر اور آزاد پیدا ہوئے ہیں۔ انہیں ضمیر اور عقل عطا کی کیے گئے ہیں تاکہ وہ باہم اخوت قائم کریں۔ آگے ہے کہ ہر شخص ان تمام حقوق اور آزادیوں کا حقدار ہے جو اس ڈکلریشن میں بیان کی گئی ہیں، بلا امتیاز رنگ، نسل، جنس، مذہب، زبان، سیاسی نظریہ، دولت یا خاندانی حیثیت۔ اس سے آگے بہت سی شقیں ایسی ہیں جو ہمارے روایتی سماج اور ہمارے مروجہ آئین سے ٹکراتی ہیں۔ ہمارے میڈیا اور ہمارے سماج میں آخر اس امر کی اجازت کیوں نہیں ہے کہ ہم ان تمام شقوں پر کھلے بندوں مباحثہ کر سکیں۔ جبکہ دوسری طرف ہم نے پوری عالمی برادری کے سامنے اس عہد نامے پر دستخط کر رکھے ہیں کہ بحیثیت قوم و ریاست ہم اس ڈیکلریشن پر عمل درآمد کے پابند رہیں گے۔
آج پوری دنیا کے دساتیر میں ہیومن رائٹس کا چیپٹر انہی آدرشوں کی پاسداری کا مظہر ہے حتیٰ کہ ریاستی طور پر یہ طے ہے کہ بالفرض اگر آئین معطل بھی ہو جائے، مارشل لا یا ایمرجنسی بھی لاگو ہو جائے، پھر بھی بنیادی انسانی حقوق کی یہ شقیں لاگو رہیں گی۔ اور سپریم جوڈیشری ان کی نگہبانی یا پہرےداری کرے گی۔ بلاشبہ ہر قوم کی کچھ اپنی مذہبی و تہذیبی روایات، عقائد و ضوابط یا ترجیحات ہوتی ہیں لیکن یو این کے عالمی عہد نامے پر دستخط کرنے کے بعد ہم پابند ہیں کہ اپنے ضوابط کو عالمی چارٹر کی شقوں کے مطابق ڈھالیں نہ کہ ان کے خلاف مخالفانہ پروپیگینڈہ اپنی قوم میں پھیلائیں۔
ہماری طرح انڈیا میں بھی بھاری میجارٹی کا ایک مذہب یا عقیدہ صدیوں بلکہ کئی ہزار برسوں سے موجود تھا اور موجود ہے لیکن اس کے باوجود بھارتی آئین سازوں نے ان مقدس عقائد کی پرواہ کیے بغیر جو انڈین آئین تخلیق کیا اس میں یو این ہیومن رائٹس چارٹر کی برتری کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی ایک شق بھی ایسی نہیں رکھی جو اس سے ٹکراتی ہو۔ اس کی برکت سے ان کے سماج میں کئی طوفانوں کے باوجود ایک نوع کا استحکام ہے۔ وہاں ہماری طرح بندوق بردار ریاست پر چڑھ نہیں دوڑتے۔ اور کبھی مارشل لا نہیں لگا۔ آخر ہمارے آئین سازوں نے اس نوع کا اہتمام کیوں نہیں کیا؟
یہ لکھنا کیوں ضروری سمجھا کہ یہاں کوئی قانون فلاں عقیدے سے ہٹ کر یا خلاف نہیں بن سکتا؟ حالانکہ لکھا یہ جانا چاہیے تھا کہ یہاں کوئی قانون یواین یونیورسل ہیومن رائٹس چارٹر کے خلاف نہیں بن سکتا۔ اگر ہمارے روایتی سماج میں ایسی کچھ بے اعتدالیاں ہیں تو انہیں یو این چارٹر میں بیان کردہ عالمگیر انسانی حقوق کی مطابقت میں ڈھالا جائے گا۔ آج نہیں تو کل بالآخر ہمیں اسی انسان نواز اصول پر آنا پڑے گا۔ ورنہ ہماری حالت اس سے بھی بدتر ہو جائے گی جس سے آج ہم سب گزر رہے ہیں۔ ہماری باشعور نوجوان نسل اس تضادستان کو چھوڑ کر یورپ اور امریکا بھاگ جانا چاہتی ہے۔ کوئی ایجوکیٹڈ نوجوان یہ نہیں چاہتا کہ وہ عربستان، افغانستان یا ایران کے خالص اسلامی معاشروں میں جا بسے اور وہاں اسلامی زندگی گزارے، آخر کیوں؟