شام میں بشار الاسد کی حکومت ختم ہوگئی، باغیوں کا دمشق پر قبضہ

  • اتوار 08 / دسمبر / 2024

باغی فورسز نے شام کے دارالحکومت دمشق کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔  اتوار کی صبح اعلان کیا گیا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ بشارالاسد گذشتہ 25 برس سے شام کے مطلق العنان حکمران تھے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اقتدار کے خاتمے کے بعد بشارالاسد گئے کہاں ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ شام کے معزول ہونے والے صدر ایک طیارے پر سوار ہو کر دمشق سے باہر چلے گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ دو سینیئر عسکری حکام نے بتایا ہے کہ بشارالاسد اتوار کو دمشق سے کسی نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔

ترکی کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی امکان ہیں کہ بشارالاسد شام چھوڑ چکے ہیں مگر انہوں نے بھی یہ نہیں بتایا کہ وہ آخر گئے کہاں ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے بھی ایک سینیئر اہلکار نے بھی اپنے ملک میں بشارالاسد کی موجودگی یا عدم موجودگی سے متعلق تصدیق یا تردید نہیں کی۔

ماضی میں روس اور ایران کی مدد سے بشارالاسد اپنے مخالفین کو کچلنے میں کامیاب رہے۔

لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہوا۔ اپنے اپنے تنازعات میں گھرے بشارالاسد کے اتحادیوں نے انہیں اس بار اکیلا چھوڑ دیا۔ اتحادیوں کی مدد کے بغیر ان کی فوج باغیوں کو روکنے میں ناکام رہی۔ کئی مقامات پر تو ایسا لگا جیسے وہ باغیوں روکنا چاہتے بھی نہیں تھے۔

گزشتہ ہفتے باغیوں نے حلب پر قبضہ کیا، اس کے بعد حماۃ اور کچھ ہی دنوں میں حمص کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ اگلے چند گھنٹوں میں ہی باغی دمشق میں داخل ہو رہے تھے۔

اس بغاوت کی قیادت ہیئت تحریر الشام کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کی جڑیں القاعدہ سے ملتی ہیں اور اس کا ایک پر تشدد ماضی رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں انہوں نے خود کو ایک قومی فورس کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے حالیہ بیانات بھی کافی مفاہمت دکھائی دیتی ہے۔

شام کے وزیرِ اعظم محمد غازی الجلالی نے عربی خبر رساں ادارے العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ملک میں آزادانہ انتخابات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے وہ باغی رہنما ابو محمد الجولانی سے رابطے میں ہیں۔

آج صبح العربیہ نے شامی وزیرِ اعظم کے حوالے سے کہا تھا کہ ان کی صدر بشارالاسد سے آخری بار گزشتہ شب بات ہوئی تھی۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں کہ صدر بشارالاسد اس وقت کہاں ہیں۔ اس سے قبل شامی وزیرِ اعظم کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ جو عوام کے حق میں بہتر ہوگا، وہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ عرب نیوز کے ادارے العربیہ کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ایرانی سفارتخانے کی عمارت کے بیرونی حصے کو پہنچنے والے نقصان کو دکھایا گیا ہے۔ اس عمارت کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور کمروں کی حالت بھی ابتر ہے۔

دمشق کی سڑکوں پر جشن منایا جا رہا ہے اور باغی شام کی آزادی کے جھنڈے لہرا کر اپنی فتح پر خوشی منا رہے ہیں۔ عام شہری گاڑیاں لے کر سڑکوں پر نکل آئے، جس سے امن کا تاثر ملتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اب زندگی کتنی خوشگوار ہو جائے گی۔  مظاہرین میں سے کچھ چلا رہے ہیں اور کچھ ہنس رہے ہیں۔

بی بی سی نے ایرانی سفارتخانے کے باہر دو نوجوانوں سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد کے دور میں زندگی بہت اجیرن تھی اور وہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے تھے۔ مگر اب بہتری آنے کے امکانات ہیں۔

بشارالاسد کے ملک چھوڑ جانے کی اطلاعات کے بعد شام میں اسد خاندان کے 50 برس کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اتوار کو جب شامی باغی دمشق میں داخل ہوئے تو اس وقت سرکاری فوج نے یا تو پسپائی اختیار کی یا پھر وہ ان باغیوں کے ساتھ مل گئی۔ باغیوں کی آمد کے بعد دمشق میں اس وقت مرکزی اموی سکوائر پر جشن منایا جا رہا ہے۔ اموی سکوائر وہ جگہ ہے جہاں سے سرکاری ٹی وی اپنی نشریات کرتا ہے۔ جشن کے طور پر اس وقت ہوائی فائرنگ بھی کی جا رہی ہے۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ صدارتی محل میں لوٹ مار بھی کی جا رہی ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ بشارالاسد نے فریقین سے بات چیت کے بعد اقتدار سے علحیدگی اختیار کی۔ روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بشارالاسد نے اپنا عہدہ اور ملک چھوڑنے سے قبل تنازع میں شریک تمام مسلح گروہوں سے بات چیت کی تھی۔ ماسکو کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں بشارالاسد نے پرامن منتقلی اقتدار کی ہدایات بھی دیں۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ ان مذاکرات کا کسی بھی طور پر حصہ نہیں تھا اور روس کے شام میں فوجی اڈے ہائی الرٹ پر ہیں مگر انہیں کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ شام کے تمام اپوزیشن گروہوں سے رابطے میں تھے۔ واضح رہے کہ روس بشارالاسد کا اہم اتحادی رہا ہے۔ اس سے قبل انہیں اقتدار میں رکھنے کے لیے ماسکو نے انہیں فوجی امداد کی بھی پیشکش کی تھی۔

مغربی ممالک شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’بالآخر جابر ریاست گر گئی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں اس غیریقنی صورتحال میں شام کے عوام کو ان کی بہادری اور تحمل پر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ میں ان کی سلامتی، آزادی اور اتحاد کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ فرانس مشرق وسطیٰ میں سب کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمنی کے چانسلر اولاف شالز نے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ایک اچھی خبر ہے۔ انہوں نے شام میں استحکام کے لیے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ بشار الاسد نے ظالمانہ انداز سے اپنے عوام سے رویہ رکھا۔ انہوں نے کہا وہ کئی قیمتی زندگیوں کے خاتمے کے بھی ذمہ دار ہیں اور ان کی وجہ سے کئی لوگ ملک چھوڑ کر جرمنی آئے۔

برطانیہ کے نائب وزیراعظم انجیلا رینر کا کہنا ہے کہ اگر اسد حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے تو پھر برطانیہ اس پیشرفت کا خیر مقدم کرتا ہے۔