لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر فرد جرم عائد

  • منگل 10 / دسمبر / 2024

فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اگلے مرحلے میں پاک فوج کے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر باضافہ طور پر فرد جرم عائد کردی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ر) کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ فیض حمید پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ فرد جرم میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو سیاسی سرگرمیوں اور آفیشل سکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزیوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل (ر) فیض حمید کی ریاست کی سلامتی اور مفاد کو نقصان پہنچانے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مرتکب بھی قرار دیا گیا ہے۔ سابق ڈی جی آئی ایس آئی پر سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور افراد کو ناجائز نقصان پہنچنانے کا مرتکب بھی قرار دیا گیا ہے۔ ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پُرتشدد واقعات میں فیض حمید کے ملوث ہونے سے متعلق تفتیش بھی جاری ہے۔ ان پرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ان متعدد پرتشدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایما اور ملی بھگت بھی شامل تفتیش ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے واضح کیا ہے کہ فیلڈجنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران فیض حمید کو تمام قانونی حقوق فراہم کیے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 12 اگست کو سپریم کورٹ کے حکم پر ٹاپ سٹی کی کورٹ آف انکوائری شروع کیے جانے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے۔