ماہر تعلیم مسز نرگس رضا اوڈھو

"رہنما" ایک ایسی شخصیت ہوتی ہے کہ جو اپنے چاہنے والوں اور مقلدوں سے کوئی تعمیری کام اس آسودگی سے انجام دلوائے جیسےکہ اس کام کی تکمیل خود افراد کے خانۂ دل میں نہاں ہو۔

تعلیمی میدان میں رہنماکا مقام جن شعار کا متقاضی ہوتاہے ان میں ادارے کے اعداد و شمارکی بنیاد پر مسلسل اور نمایاں کامیابیوں سے رعنائی نہایت ضروری ہے تاکہ وہ رہنما شخصیت اپنی موجودہ اور آئندہ حیثیت بہ طور تعلیمی و انتظامی رہنما تغیر کا شکار نہ ہو۔ تعلیم کے شعبے میں تاج وری اور تخت سرائی اسی شخصیت کے حصے میں آتی ہےجو الفت، تعاون اور سہولت پہنچانے جیسی شخصی خوبیوں کو اپنی حیات ِ کار کے زریں اوراق میں ہم پہلو اور جاوداں رکھے۔ کیوں کہ یہ طلبہ اور ادارے، ہر ایک کی کارکردگی، مہارت اور نتائج پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

پاکستانی درس گاہوں کے سربراہان کا عمومی نقطہ نظر یہ ہوتا ہے کہ "میں اسکول اور کالج چلاتا ہوں"، یا "میں کسی تعلیمی ادارے کی چار شاخوں کا منتظم ہوں"۔ ایک عام جواب یہ بھی ملتا ہے کہ"تدریسی اور غیر تدریسی عملے پر مشتمل ایک سو پچاس افراد میرے ماتحت ہیں۔" چند ایک اہل بصیرت ہی کا اظہاریہ اس طرح ہوتا ہے کہ "میرا ضمیر اس مقصد کے لیے پختہ ہے اور میں اس بات کی ذمہ دار خود کو سمجھتی ہوں کہ پاکستانی طلبہ کو آج کیسی تعلیم اور مہارتوں کی ضرورت ہے اور مستقبل قریب میں تعلیم اور ٹیکنالوجی میں ان طلبہ کی سوزِ آرزو کیا ہوگی؟"مسز نرگس رضا اوڈھو، پرنسپل پاکستان انٹرنیشنل اسکول دوحہ قطر ، تعلیم و تدریس کے میدان میں ایسی ہی ایک نایاب دلِ بیدار رہنما ہیں جو ہر تعلیمی سال کے آغاز میں اپنی درس گاہ ، اس کے کتب خانے اور تجربہ گاہ کو جدید تقاضوں سے مرصع کرنے کے بعد جدوجہد ِعمل اور پورے تعلیمی سال کی ایسی منصوبہ سازی پر یقین رکھتی ہیں جو طلبہ کو مستقبل میں اپنے متعلقہ شعبے کے رہنما کا مقامِ فیض دلوائے۔

تعلیم کے شعبے میں مہر و مہ و انجم کی تخلیق کی کاوشیں اسی وقت شروع ہوگئی تھیں کہ جب پاکستان ۱۴/اگست ۱۹۴۷ کو عالمی بھائی چارے، برداشت اور اسلامی تعلیمات پر مبنی سماجی انصاف کے جمہوری اصولوں کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا۔ آج ان مایہ ناز اصولوں کے ان پہلوؤں اور جہات کی تلاش کی جائے جو بہ اندازۂ رعنائی نموپذیر ہیں تو یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ پاکستانی تعلیم اس سفر پرخار میں کتنے آگی نکل پائی اور کس چیز پر اسے فخر و ناز ہے تو اس کی جمعیت خاطر اور مصدقہ علامات آپ کے تعلیمی ادارے کامیابی کے وہ اعداد وشمار ہیں جو مسز اوڈھو کی رہنمائی میں ان کے تعلیمی ادارے نے حاصل کیے۔ اسکول کی تعلیم نے عالمی سطح پر ، بالخصوص برطانوی اور امریکی تعلیمی معیارات کے ہم رتبہ اپنا جاویداں مقام  حاصل کیا ہے۔ آپ کے شوقِ علم و عمل اور انتظامی تاثیر نے صرف قطر میں آپ کے تدریسی ادارے کا ہی نہیں بل کہ اندرون اور بیرون پاکستان تمام تعلیمی ادارہ جات کے انتظامی امور کی انجام دہی اور طریقہ تدریس کا ساز بدل ڈالا ہے اور تعلیم کے ذریعے پیشہ ورانہ مہارت کی تخلیق سے نوجوان طلبہ متحرک اور راہ راست پر رواں ہیں۔

 دنیا کے تما م ممالک میں تعلیم انتہائی خطرناک اور نازک موڑ سے گزر رہی ہے کہ دس سال کی عمر تک کے بچوں کی دنیا میں کل تعداد کا نصف حصہ ایک سادہ جملہ بھی پڑھنے سے قاصر ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل اسکول دوحہ قطر نے مسز نرگس رضا اوڈھو کی سربراہی و رہنمائی میں بچوں اور نوجوان طلبہ کو ایک بہترین موقع فراہم کیا ہے کہ ان طلبہ کی مربوط تعلیمی معاونت اور ذکاوتِ شرق و فرنگ تک ان کی رسائی ممکن بناکر انہیں زندگی میں کامیاب بنایا جائے اور ان کی حیات باشرف کی نمو کے ہر ایک پہلو کو محکم ، اہم اور باوقاربنایا جائے۔  
قطر میں معاشی عدم مساوات اور دولت آفرینی کےمتنوع درجات و طبقات، مزدور اور ہنرمند طبقے کو متاثر کر رہےہیں۔ مسز اوڈھو نے زحمت کشی کا یہ چیلنج قبول کیا اور قطرمیں بسنے والی پاکستانی کمیونٹی اور دیگر قوموں کے طلبہ کی زندگیوں کو درست علمی اورخطوط اور جدید مہارتوں پرگامزن کیا۔ جس کی مثال وہ اشاریے ہیں جو کہنہ تدریسی نظام سے تبدیل ہوکر جدید طرز تعلیم کے گوہر فردا کی بصیرت دے رہے ہیں۔ اولاً یہ کہ ابتدائی عمر کے بچوں کی تدریس کے سلسلے میں آپ کی حکمت عملی  نے ان نونہالوں کو چار شعبوں:خواندگی و حساب دانی، جسمانی صحت، سماجی سطح پر اپنے جذبات پر قابو ، اور سیکھنے کے عمل میں صاحب امروز کیا ہے۔

دوسرا یہ کہ پاکستان انٹرنیشنل اسکول دوحہ قطر میں زیر تعلیم دس سال تک کی عمر کےطلبہ کا کسی ادبی اور سائنسی تحریر کو کامیابی سے پڑھ لینا ، ایک اور تقاضے کی تکمیل بھی کہ سیکنڈری سطح پر پڑھنے اور حساب کی مہارت طلبہ میں موجود ہو۔ حکومت قطر آپ کی اس کاوش کی ہر سال تصدیق بھی کرتی ہے۔ طلبہ میں ڈیجیٹل مہارت پیدا کرنے سے انہیں جدید ٹیکنالوجی کا شعور اور طریقہ استعمال سے آگاہی حاصل ہوتی ہے اور جس کی مکمل تکمیل آپ کی سربراہی و رہنمائی میں ہر طالب علم کے لیے عمل میں لائی جاتی ہے

پاکستانی اساتذہ اور تعلیمی منتظمین کے لیے مسز نرگس رضا اوڈھو کے وضع کردہ معیارات قابل تقلید اور قابل ستائش ہیں۔ آپ کا پہلا معیار یہ ہے کہ تعلیم خواہ درس گاہی ہو، بصیرت افزوں ہو، یا اخلاقی معیار کی بلندی کے مقصد کی حامل ہو، اسے معتبر و مستند ہونا چاہیے۔ آپ نےاپنی درس گاہ میں ایک دہائی پر محیط تعلیمی معرکہ آزمائی سےایسا بیش بہا تدریسی عملہ تیار کیا ہے جوطلبہ کی شخصیت کی علمی و تحقیقی جہات میں لا تخفکا جوہر تخلیق کرے۔ دوسرا معیار یہ ہے اور آپ نےاسے ممکن بھی کردکھایا ہے کہ اسکول کی تعلیم دراصل ایک بہتر معاشرے کی آشیاں بندی ہو اور یہ ہر طالب علم کی سماجی ذمہ داری کو کمال طریقے سے پورا کرے۔ اس معیار کی تکمیل کے باعث ہی قابل اساتذہ و منتظمین کی شکل میں وہ متاع بے بہا تخلیق ہوئی جس نے آپ کی رہنمائی میں آپ کی درس گاہ میں اخلاقی و مذہبی سطح پر ایک صفا کیش نظم و ضبط کو ممکن بنا دیا۔ تیسرا اور اہم ترین معیار یہ ہے کہ ہر ایک مضمون کی تدریس طلبہ کی ذہنی سطح کے مطابق ہو اور کسی ایک مضمون کی تدریس دیگر مضامین کے آبِ رواں کو متاثر نہ کرے۔

طلبہ میں جذباتیت کے مسائل، نفسیاتی گتھیاں اور نظم و ضبط کو تعلیمی اور نفسیاتی صلاحیت و لیاقت کے اصولوں پر قابو میں کیا جاتا ہے اور نفسیاتی و اخلاقی تربیتی نشستوں کے ذریعے انہیں درست خطوط پر گامزن کیا جاتا ہے۔ تعلیم و تدریس کا یہ آبِ رواں جس کے دھارے میں طلبہ اور اساتذہ دونوں ہی شامل ہوتے ہیں، ہر جماعت اور ہر کانفرنس روم میں مسز نرگس رضا اوڈھو کے سامنے ہر زماں بے حجاب ہوتا ہےجس پر آپ کی انتظامی لیاقتوں کے سحاب پیہم موجود رہتے ہیں۔ تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ طلبہ کی شخصیت میں زندگی اور جدید زمانے کی متقاضی صلاحیتیں اور مہارتیں، ہر ایک درست سمت میں نمود پارہی ہیں اور ان کے ضمیر باطن میں رواں بھی ہیں۔ قطر میں سکونت پذیر مختلف و متنوع قومیت کے طلبہ کی زندگی و قسمت پاکستان انٹرنیشنل اسکول دوحہ قطر کی لیڈرشپ پربنیاد ہیں۔

پوری پاکستانی قوم آپ پر فخر کرتی ہے اور بالخصوص اکیسویں صدی کی نوجوان نسل آپ کے احسانات کے قرض تلے ہے ۔ مسز اوڈھو نے نوجوان نسل کی ہزار گونہ فروغ کی خاطر اعلیٰ تعلیمی لیاقت و صلاحیت کے حامل اساتذہ، قیمتی و وقیع کتب، جدید آلات اور بیش قیمت تعلیمی ذرائع و مواقع تسخیر کیے ہیں جو ماقبل قطر میں زیر تعلیم پاکستانی و بین الاقوامی طلبہ کے لیے ایک خواب تھے۔