نظریاتی اساس کی حفاظت قومی تعمیر کے لیے اہم ہے

سیاست میں غیر حقیقی جذباتی بیانیے اور مقبول نعرے جس کمال کامیابی سے عوامی استحصال کے لئےایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں، اس سے توہر کوئی بخوبی آگاہ ہے۔

البتہ کسی بھی قوم کے اندر پائی جانے والی جن جذباتی خواہشات، امنگوں یا ضروریات کو مقبول نعروں کا رنگ دے کر سیاسی مقاصد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، دراصل وہی اس قوم کے اصل اور خالص نظریات اور دل کی آواز ہوتی ہیں۔  سیاستدانوں کا بار بار انہیں نعروں کی بدولت لاکھوں انسانوں کو اپنے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہو جانا، ایک طرف تو سیاستدانوں کی شاطرانہ ذہنیت کا پردہ چاک کرتا ہے تو دوسری طرف عوام  کا اپنے نظریات اور خواہشات  پر ثابت قدم ہونے کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔

اگر ہم اس نکتے کا پاکستانی سیاست کے تناظر میں جائزہ لیں تو ہمارے سارے سیاسی عمل میں صرف یہی ایک مثبت بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ عوام میں ملکی معاشی خود مختاری کو قائم کرنے اور قومی فیصلوں میں غیر ملکی  ڈکٹیشن نہ لینے، جیسی خواہشات نہ صرف قائم و دائم ہیں بلکہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوئی ہیں۔  سیاستدانوں کے تمام نعرے خواہ وہ  فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہوں یا امریکی تسلط سے آذادی کے حق میں، اور ان کوعملی جامہ پہنانا "زمینی حقائق" کے برعکس ہی کیوں نہ ہو، یہ نظریات اور خواہشات عوام کے دلوں میں ہمیشہ قائم رہنا، ہماری قوم کی فکری بیداری کی علامت ہے۔ 

قومی خودداری اور غیرت کے معاملات کو ناموافق زمینی حقائق کا بہانہ بنا کر کسی طور بھی نظرانداز  نہیں کیا جا سکتا۔ ان قومی نظریات کی حامل خواہشات کو عملی جامہ پہنانا، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کی اولین ذمہ داری  ہے۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ اس  طرح کے اہم اور عظیم مقاصد صرف کھوکھلے نعروں یا دشمن کو کھلم کھلا للکارنے کی بجائے  انتہائی داشمندی، خاموشی اور رازداری سے سعی پیہم سے آگے بڑھنے کی پالیسی کے متقاضی ہوتے ہیں۔ زمینی حقائق ہمیشہ ان مقاصد کی راہ میں حائل ہوتے ہی ہیں اور حالات کو اپنے حق میں موافق بنانے کے لئے لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سب سے پہلے "اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا" کرنے کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔ سیاستدانوں کو اپنی اس ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے ہمارے پاس صرف عوامی دباؤ کا سہارا ہی  ہے۔  یہ بات خوش آئند اور باعث اطمینان قلب ہے کہ عوام کے اندر اس چیز کا احساس موجود ہے اور ان کے سینے تمناؤں سے شررآباد ہیں۔

میری نظر میں موجودہ حالات میں سب سے اہم اور بنیادی کام ہماری قوم کا اپنی فکر کو مضبوط تر کرتے ہوئے اپنے ان نظریات پر قائم رہنے کی جستجو جاری رکھنا ہے۔ ان نامساعد حالات میں قوم کا اپنے نظریات پر غیر متزلزل یقین قائم رکھنے کی تگ و دو کو ہی اس کی عملی کوشش سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔  کوئی بھی قوم اپنی بنیادی نظریاتی اساس سے کٹ کر زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا پہلا سب سے مؤثر ہتھیار کسی قوم کے اندر نظریاتی بے یقینی پیدا کرنا ہوتا ہے اور اس کے لئے کسی قوم کی خودداری، خودمختاری اور قومی غیرت جیسے اوصاف پر ضرب لگا کر اسے دشمن سے مرعوبیت کا شکار بنایا جاتا ہے۔

ان نامسائد ذمینی حقائق  کے باوجود قوم کو شجر تمنا بےقرار سے ہر حال میں پیوستہ رہ کر امید بہار قائم رکھنی ہے۔ نظریاتی طور سے بھٹکی ہوئی قومیں زیادہ دیر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ قوم کی نظریاتی اساس قائم ہوگی، تبھی ذمینی حقائق کے موافق ہونے کی صورت میں حالات سے صحیح طور فائدہ اٹھا کر اپنا مقصد حاصل کر سکے گی۔

ہمارے  پڑھے لکھے اور دانشور طبقے کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کی ان امنگوں کو زندہ رکھنے میں اپنے قلم سے بھرپور کردار ادا کریں۔ عوام کے تمام طبقات کو ایوان اقتدار کے پیدا کردہ دورظلمت سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنے حصے کی شمع روشن کرنی چاہیے۔