شام کا مستقبل بدستور بے یقینی کا شکار ہے
- تحریر خالد محمود اوسلو
- بدھ 11 / دسمبر / 2024
شام میں حکومت کی تبدیلی پرمختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ گو یہ تبدیلی کوئی غیر متوقع نہیں تھی۔ بین الااقومی سیاسی امور کے ماہرین یہ تبدیلی دور اُفق پہ دیکھ رہے تھے۔
کیونکہ اسرائیل کی ایک سال سے غزہ میں جاری خونریزی اور لبنان پر حزب اللہ کے خلاف مہلک خیز جارحیت سے یہ نظر آرہا تھا کہ اسرائیل صرف سات اکتوبر 2023 کے انتقام اور حزب اللہ سے حساب چکانے تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس جنگ کی آڑ میں پورے خطےمیں اپنے طویل المدت تزویراتی مفادات کے تحفظ کو عملی جامہ پہنانے کی جانب بڑھے گا۔
شام میں بشارالااسد کی حکومت کا خاتمہ اس ایجنڈے کا حصہ تھا۔ جبکہ ہم سادہ نظر اس کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ شام میں بشارالااسد حکومت کے خلاف ہونے والی بغاوت گو بظاہر ایک ڈکٹیٹر شپ کا خاتمہ اور جمہوریت کی بحالی دکھائی جا رہی ہے۔ لیکن یہ دونوں عذر ایک بہانہ ہیں۔ اس کا اصل مقصد شام سے ایک ایسی حکومت کا خاتمہ تھا جو طاقتور علاقائی اور بین الااقوامی قوتوں کے سیاسی عزائم کی راہ میں حائل تھی۔ لہذا آج سے تیرہ سال پہلے 2011 میں عرب بہار کے نام سے چلنے والی تحریک کی آڑ میں شام کے اندر ایک خونی بغاوت کا اہتمام کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں انتشار پھیلا کرشام کی قومی ریاست کا شیرازہ بکھیر کر پورا ملک خانہ جنگی کی آگ میں دھکیل دیا گیا۔
شام کی مرکزی حکومت اور صدر اسد کے اقتدار کو بچانے میں لبنان سےحزب اللہ، اور ایران نے روس کے ساتھ مل کر کلیدی کردار ادا کیا۔ صدر بشار الااسد کسی حد تک بغاوت پر قابو پانے میں کامیاب ہوا۔ لیکن یہ سب عارضی اور ادھورا ہی رہا اور مستقل استحکام نہ آ سکا۔ لیکن اب جب غزہ کی جنگ کے نتیجہ میں حزب اللہ اسرائیل کی طرف سے لگائی گئی کاری ضرب کے نتیجہ میں کمزور ہوئی تو پھر بشارالاسد کے اقتدار کا مضبوط سہارا بھی ٹوٹ گیا۔ اس کے علاوہ ایران بھی اسرائیل کی طرف سے مختلف کارروائیوں کے نتیجہ میں کمزور ہو گیا۔ ادھر روس یوکرائن کی جنگ میں الجھ کر مشرق وسطیٰ پر اپنی گرفت ڈھیلی کر بیٹھا۔ لہذا صدر بشارالا اسد کو تنہا اور کمزور دیکھ کر بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی اور شہ پہ باغی عسکری تنظیمیں دمشق پر چڑھ دوڑیں اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
باغیوں کی کامیابی کو کوئی شیعہ سُنی کے تناظر میں دیکھ رہا ہے اور کوئی اسے شامی عوام کے لیے جمہوریت کی نوید سمجھتاہے۔ جبکہ حقیقت کچھ اور ہے۔ شامی عوام کے لیےجمہوریت کی نیک تمناؤں کے باوجود اس کے اندر پوشیدہ قوتوں کے عزائم ایک عذاب کا پیش خیمہ ہیں۔ بشارالا اسد کا فسطائی اقتدار شام کی تاریخ کا ایک تلخ و تاریک باب ہے۔ لیکن اس کا خاتمہ نہ تو فسطائیت سے نجات دلانا ہے اور نہ شامی عوام کی بھلائی مقصود ہے۔ بلکہ یہ طاقتور علاقائی اور بین الا اقوامی قوتوں کے مفادات کو عمل جامہ پہنانے کی کڑی ہے۔ جس کے لیے خودمختار شامی ریاست کا خاتمہ ناگزیر تھا۔ کیونکہ اسرائیل اسے اپنی دفاعی اسٹراٹیجی سے منسلک کرتاہے۔
اسرائیل حزب اللہ کے وجود کو خطرہ سمجھتا ہے لہذا حزب اللہ سے چھٹکارا اسرائیل کی اول ترجیع ہے۔ اور اسرائیلی نقط نظر میں شام کے اندر موجود خودمختار اور ایران دوست حکومت حزب اللہ کو دوام دیتی ہے۔ کیونکہ ایران سے خشکی کے راستے بذریعہ شام حزب اللہ کو اسلحے اور مالی وسائل کی ترسیل ہوتی ہے ۔ لہذا اسے روکنے کے لیے شامی حکومت کا خاتمہ لازم ٹھہرا۔ شام میں حکومت کی تبدیلی پرخوشی منانےوالے اس پہلو سے بےخبر دکھائی دیتے ہیں۔ اس تبدیلی سے بہرہ مند ہونے والے وہ نہیں جو نظر آ رہے ہیں ۔ اس کا ثبوت اسرائیل کی طرف سے شام کے فوجی اور اقتصادی ڈھانچے پر بمباری ہے۔ جو یہ بتاتی ہے کہ جو کام باغی کر سکتے تھے، وہ انہوں نے کیا اور بقایا کام خود اسرائیل انجام دے رہا۔
باغی لیڈر فتح دمشق کے جشن تو منا رہے ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرف سے شام کو تہس نہس کرنے کی کارروائی روکنے کی نہ تو سکت رکھتے ہیں اور نہ ہی لب کشائی کی جرات۔ شام پر بیرونی جارحیت سے یہی سبق ملتا ہے کہ ملکی اور قومی انتشار غیروں کے ہاتھوں نقصان کا موجب بنتا ہے۔
شام میں اب تک جو ہو چکا ہے، مستقبل میں اس سے بھی زیادہ بھیانک ہو سکتا ہے۔ جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ شام کے مستقبل کے خاکہ نشین آج جیسے ہی ہوں گے۔