شام میں صبح صادق یا کاذب؟

الحمدللہ شام میں 54 برس پر محیط سیاہ رات کا خاتمہ بالخیر ہوگیا ہے۔ یہ انقلاب کس طرح وقوع پذیر ہوا؟ یہاں نصف صدی سے جاری تحریک مزاحمت عرب سپرنگ سے ہوتے ہوئے کن مراحل سے گزری؟ ظاہر ہے اس کی طویل داستان ہے اور آج دنیا کے لیے اس سے بھی اہم یہ سوال ہے کہ شام میں آگے کیا ہونے جارہا ہے؟

کیا شام موجودہ انتشار میں اپنی علاقائی سالمیت قائم رکھ سکے گا؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ سوال کہ یہ نیا انقلاب کیا شامی عوام کے لیے امن و سلامتی اور ترقی خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گا؟ یا مزید بربادی، خونریزی اور خانہ جنگی پر منتج ہوگا؟ اس انقلاب کے پس پشت کون سی قوتیں کارفرما ہیں؟ نئی باغی قیادت کا اسرائیل کے ساتھ معاملہ کیا خودکش حملوں یا دہشت گردی جیسی جہادی کاروائیوں کا آغاز ہوگا؟ یا امریکی تعاون سے امن و سلامتی کی کوئی نئی صورت نکلے گی؟ بہت سے احباب غلط طور پر اس نوع کے جائزے پیش فرما رہے ہیں کہ شام میں اتنی بڑی تبدیلی قطعی حیران کن اور غیر متوقع تھی۔ درویش کے لیے یہ جو کچھ ہوا ہے، یہ سب زمینی حقائق کی عین مطابقت میں دیوار شہر پر تحریر کی طرح تھا۔ ہمارے لوگ اصل میں اپنے خود ساختہ تصورات میں معاملات کو مخصوص خواہشات یا چشموں سے دیکھتے ہیں۔

بالخصوص ہمارا میڈیا اسرائیل دشمنی میں اس قدر پاگل ہے کہ اس جنون میں یہ لوگ نہ صرف یہ کہ حقائق کا درست ادراک کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں بلکہ بالعموم اپنے عوام کے سامنے بھی انہیں مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ اسرائیل کے حوالے سے ایسی منفیت خود عربوں میں نہیں ہے جس کے پھیلاؤ میں ہمارے یہ صحافی نما دانشور تلے رہتے ہیں۔ انہیں یہ ادراک ہی نہیں ہے کہ عربوں میں شیعہ سنی کی تقسیم گراس روٹ لیول تک کتنی شدید ہے اور اسرائیل خطے کی کتنی بڑی واحد جمہوری طاقت ہے چاہے کوئی بدتر سے بدترین ڈکٹیٹر ہو جو شام کی علوی حکمرانی کی طرح چاہے اپنے عوام کا قیمہ بناتا ہو، ہمارے سماج میں اسے محض اس وجہ سے ہیرو بنا کر دکھایا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف خوب گرجتا ہے۔

اسرائیل کے خلاف گرجتا تو ہمارا خلیفتہ المسلمین طیب اردوان بھی خوب ہے لیکن کیا آج تک وہ اس حوالے سے کہیں برسا ہے؟ اور کیا اسے برسنا چاہیے بھی؟ اس حوالے سے اس نے بڑی حد تک درست اقدام اٹھایا ہے۔ درویش کو 2015 میں استنبول یونیورسٹی کی دعوت پر ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے وہاں تھوڑا قیام کرنے اور معاملات کو براہ راست سمجھنے کا موقع ملا۔ استنبول جیسے شہر میں جگہ بہ جگہ شامی پناہ گزینوں کو ملاحظہ کیا۔ اپنے ایک ترک دوست کی مدد سے ان سے بات کرتے ہوئے ان کے مسائل اور دکھوں کو سمجھنے کی کوشش بھی کی۔ یہ لوگ 2011 کی عرب سپرنگ کے نتیجے میں ہونے والی مزاحمت اور اسدحکومت کے استبداد پر اپنا ملک چھوڑنے اور یہاں پناہ گزین بننے پر مجبور ہوئے۔ ترکی میں ان کی تعداد 30 سے 50 لاکھ تک بتائی گئی۔ آج جب علوی جبر کے باغیوں نے شام پر قبضہ کیا ہے تو دمشق کی نواحی جیلوں سے جنہیں انسانی مذبح خانے کہا جاتا ہے، ایسی مشینیں برآمد ہوئی ہیں جن سے اسد استبداد کے باغیوں کا مثلہ یا قیمہ بنایا جاتا تھا۔

اس نوع کی باتیں جب ان پناہ گزینوں نے کی تھیں تو یقین نہیں آرہا تھا 1970 سے 2000 تک فوجی ڈکٹیٹر حافظ الاسد کے تیس سالہ ظلم و ستم کی بہت سی کہانیاں بیان کی جاتی تھیں مگر جب جون 2000 میں لندن سے پڑھ کر آنے والے آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر بشار الاسد جیسے سپوت نے اقتدار سنبھالا تو لوگوں کی توقعات تھیں کہ وہ اپنے باپ جیسا قصائی ثابت نہیں ہوگا۔ مگر جب اس نے اپنے مخالف نوجوانوں کی آنکھوں سے بینائی چھیننی شروع کی تو ان لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ داعش کے علاوہ القاعدہ کے النصرہ فرنٹ کی کارروائیوں کو اس پس منظر میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ بلا شبہ ان گروپوں نے بھی دہشت گردی کی لیکن عوام جس طرح سینڈوچ بنے رہے، کتنی بڑی شامی آبادی ملک بدر ہوئی، مزاحمتی تحریک کو جس ظالمانہ طور پر کچلا گیا، اس سے عوامی غم و غصے کا ادراک کیا جا سکتا ہے۔

شامی عوام مناسب موقع کی تلاش میں تھے۔ شام کی آبادی مذہبی طور پر 80 فیصد سے زائد شافعی الفقہ سنی العقیدہ ہے۔ جبکہ علوی شیعہ 10 سے 13 فیصد ہیں۔ خمینی کے ایرانی انقلاب نے اس علوی حکمرانی کو سنبھالا دے رکھا تھا۔ لبنانی شیعہ انتہاپسند تنظیم حزب اللہ اس حوالے سے پیش پیش تھی جنہیں روسی و ایرانی اسلحہ شام کے ذریعے ہی لبنان پہنچایا جاتا تھا۔ مڈل ایسٹ میں روسی مفادات بھی علوی حکمرانی کو شروع سے تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔ حالیہ 10 روزہ مزاحمتی بغاوت کے دوران ابتدا شامی حکومت سے مل کر روسی طیاروں نے باغیوں پر فضائی حملے بھی کیے لیکن عوامی سطح پر اسد رجیم کے خلاف نفرت اس قدر شدید تھی کہ باغی دنوں میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ شامی افواج نے ان کے خلاف کھڑے ہونے یامزاحمت سے انکار کر دیا، جس پر اپنی خفت مٹانے کے لیے آج ایرانی یہ کہہ رہے ہیں کہ باغیوں کو روکنا شامی افواج کی ذمہ داری تھی نہ کہ ہماری۔

یہی وجہ ہے کہ اس پسپائی میں یہاں موجود ایرانی فورسز نے جہاں عراق کی راہ لی وہیں حزب اللہ ملیشیا بھی لبنان کی جانب اسی شتابی سے بھاگی جیسے ڈی چوک سے پی ٹی آئی۔ اس پسپائی کا بڑا کارن اسرائیل کی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کامیاب کارروائی ہے جس نے حسن نصر اللہ ہی نہیں حزب اللہ کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ باغیوں کو جہاں ترک صدر اردوان کی واضح حمایت حاصل تھی، وہیں سعودی عرب اور امریکا کی خاموش معاونت بھی میسر تھی۔ بظاہر امریکیوں نے یہی کیا ہے کہ ہم اس تنازعہ میں شامل نہیں ہیں۔ البتہ باغیوں کی کارروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ باغیوں کی قیادت کرنے والے "ھیئت تحریر الشام" جس کے معنی ہیں “تنظیم آزادی شام” مختلف النوع گروپوں کا مجموعہ ہے جس کی قیادت ماضی میں امریکا کو مطلوب ابو محمد الجولانی کر رہے ہیں۔ جو 1982 میں بمقام ریاض سعودی عرب پیدا ہوئے کیونکہ ان کا خاندان وہاں ہجرت کر گیا تھا۔ مگر پھر جلد ہی شام واپسی کی راہ لی اور جولان ہائٹس کے علاقے میں ان کی پرورش ہوئی۔ اصل نام احمد الشرع ہے۔ جولان
کے حوالے سے اپنا نام الجولانی اختیار کیا۔ اب پھر اپنے اصل نام پر آنا چاہ رہے ہیں۔

ان کا ماضی بلا شبہ خطرناک رہا۔ القاعدہ کے النصرہ فرنٹ کو وہی لیڈ کر رہے تھے۔ ابو مصعب الزرقاوی کے ساتھ ان کی قربت رہی۔ جبکہ انہوں نے ابوبکر البغدادی کی بیعت سے انکار کر دیا تھا۔ پانچ برس عراقی جیل میں بھی گزارے۔ امریکیوں نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر رکھی تھی مگر ان کی کایا پلٹ کیسے ہوئی؟ ہوئی بھی ہے یا دوبارہ اصلیت پر آجائیں گے؟ اپنی کامیابی کے بعد انہوں نے دمشق کی تاریخی اموی مسجد میں جو خطاب کیا ہے وہ بڑی حد تک صلح جوئی پر مبنی بہت متوازن ہے۔ یہ تک کہا کہ ہم علوی شیعہ کمیونٹی کے خلاف بھی بدلے کی کوئی کاروائی نہیں کریں گے۔ دمشق میں سوائے ایرانی سفارت خانے یا حافظ الاسد کے مجسموں کو توڑنے یا ایوان صدر میں لوٹ مار کےکہیں کوئی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔ بشارالاسد کے روس فرار کے بعد الجولانی نے ڈمی شامی پرائم منسٹر غازی الجلالی کے ساتھ مفاہمتی رویہ اپناتے ہوئے مستقبل کے سیٹ اپ کو پرامن طور پر طے کرنے کی پالیسی اپنائی ہے جو خمینی انقلاب سے کہیں بہتر پالیسی ہے۔ اس طرح شام روایتی خون خرابے سے بڑی حد تک بچ گیا ہے۔ شامی فورسز نے بھی مزاحمت نہ کرتے ہوئے بہتر اسلوب اختیار کیا ہے۔ دیگر بالخصوص ایرانی فورسز نے عراق کی راہ لی ہے۔

اس دوران اسرائیل نے شامی اسلحہ اور خطرناک ٹھکانوں پر حملہ کرتے ہوئے حفظ ماتقدم یا پیش بندی کے طور پر آنے والے کئی خطرات پر قابو پا لیا ہے۔ بفر زون میں فورسز داخل کرنے پر اسے عالمی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ اسرائیل اور امریکا کے لیے اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ شام سے روسی و ایرانی اثر کا قطعی خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب اگر یہاں باغیوں کی حکومت قائم ہونے کے بعد اسرائیل پر حملے ہوئے تو وہ ان کا ایسے ہی سدباب کرے گا جیسے لبنان میں حزب اللہ کا کیا گیا۔

جہاں تک شام کی علاقائی سلامتی کا سوال ہے، اسے کرد ایشو کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ کرد ایسی بد نصیب مسلم قوم ہے جو چار ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ان کی سالمیت کے حوالے سے کسی کو بھی تشویش نہیں۔ شام میں مذہبی تقسیم بھی واضح ہے۔ ترکوں اور سعودیوں کے بھی مفادات ہیں۔ ہم لوگوں کی اپروچ ملکی یکجہتی سے آگے بڑھ کر عوامی و انسانی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے ہونی چاہیے۔ امن و سلامتی اور انسانی وعوامی خوشی یا ترقی و خوشحالی کے بالمقابل کوئی بھی جغرافیائی یا سیاسی تقسیم ہیچ ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ شام میں ظلم و استبداد کی سیاہ رات ختم ہونے کے بعد صبح کا ذب نہیں صادق طلوع ہوگی۔