سو سالہ پرانی تاریخ اور آج کا شام
- تحریر خالد محمود اوسلو
- جمعرات 12 / دسمبر / 2024
اس وقت پوری دنیا میں اور خاص کر یورپ میں شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے پر مختلف زاویوں سے بحث جاری ہے۔ اور شام میں بشار حکومت کے ظلم اور بربریت کی داستانیں ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بشارالاسد کی حکومت ایک بد ترین فسطائیت تھی جس نے شامی عوام پر خانہ جنگی کے بعد بہت ظلم ڈھائے۔ لیکن یہی ذرائع ابلاغ شام کی ہمسائیگی میں غزہ میں اسرائیل کی طرف سےتاریخ کی بد ترین ظلم وبربریت کو شام کے نام پر سرد خانے میں ڈالنے میں مصروف ہیں۔ شام میں حکومت کی تبدیلی اور باغیوں کی کامیابی کو اگر تاریخ کے دریچے سے جھانکیں تو آپ کو 1920 کے حالات سے بڑی واضع مماثلت نظر آئے گی۔ جب پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیوں سے ہونے والی جنگ کے دوران برطانیہ نے اس وقت کے عرب راہنما شریف ابن علی کو یہ جھانسہ دیا کہ اگر وہ ترک سلطنت عثمانیہ کی افواج کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے برطانیہ کا ساتھ دے گا تو اس کو انعام کے طور پر بحیرہ روم سے لے کر ایرانی سرحد تک اور جزیرہ نما عرب کے سارےعلاقے پر مشتمل اس کی سلطنت قائم کر دی جائے گی۔
برطانیہ کی طرف سے یہ وعدہ (Hussein -McMahon ) حسین میکماون ، خطوط کے نام سے تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔ میکماون مصر میں برطانوی سفیر تھا۔ جب برطانیہ شریف آف مکہ سے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرنے پر یہ وعدہ کر رہا تھا تو اس وقت وہ اُس معاہدے کوخفیہ رکھا جو سائیکس ۔ پیک (psykes- picot) کے نام سے مشہور ہے۔ جس کے تحت سلطنت عثمانیہ کے خاتمے پر عرب علاقوں کو فرانس، برطانیہ اور روس کے درمیان بانٹا جائے گا۔ اور فلسطین کے علاقے میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے لیے راہ ہموار کی جائے گی۔ یہ معاہدہ انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔ حتی کہ اس عرصہ کے دوران عربوں کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر اکسانے والا لارنس آف عربیہ بھی اس سے بے خبر تھا۔
اس معاہدے کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب روس میں کیمونسٹ انقلاب آنے کے بعد شاہی محل پر انقلابیوں کے قبضہ کے نتیجہ میں سرکاری دستاویزات منظر عام پر آئیں۔ لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی اور سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کرنے والے عرب راہنما اب برطانیہ اور فرانس کے رحم و کرم پر تھے۔ ان کی طرف سے خیرات میں جو مل رہا تھا اسی پر اکتفا کرنے پہ مجبور تھے۔ کیونکہ وہ اپنی سلطنت کے خلاف بطور باغی تو برطانیہ اور فرانس کے لیے کارآمد تھے۔ لیکن خود اتنےطاقتور نہیں تھےکہ کیے گئےمعاہدے کے مطابق اپنا حصہ مانگ سکیں۔ وہ فاتح اور طاقتور قوتوں کےفیصلے کے آگے سر تسلیم خم کرنے میں ہی اپنی عافیت جان رہے تھے ۔ جو فیصلہ ان پہ ٹھونسا گیا اُسے بلا چوں چراں قبول کر کے اپنی نام نہاد حکمرانیاں لے کر بیٹھ گئے۔ وہ علاقہ جہاں عرب ریاست نے معرض وجود میں آنا تھا وہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوگیا۔
یہیں سے شام، عراق، اُردن، سعودی عربیہ، متعدہ عرب امارات، بحرین اور قطر وغیرہ دنیا کے نقشے پہ نمودار ہوئے۔ اور فلسطین، برطانیہ اور فرانس کی باجگزار بن گیا۔ جہاں بعد میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے لیے فلسطینی عربوں کو جلا وطن ہونا پڑا۔ اور جو آج تک اُس وقت کے فیصلوں کی پاداش میں دربدر ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ اب اگر موجودہ حالات کا تجزیہ تاریخ کے تناظر میں کرنا ہے تو پھر دیکھنا ہو گا کہ تاریخ اپنے آپ کو کیسے دہرا رہی ہے۔ تاریخ سے نا بلد آج کے باغی کن وعدوں کے عوض فتح کے جشن منا رہے ہیں۔ اور کون سے درپردہ معاہدوں سے بے خبر ہیں۔ اور یہ کہ یہ بدنصیبی اسی خطہ کے نام کیوں لکھی ہوئی ہے۔
بے شک اس وقت عوامی بغاوت سے غیروں کو فائدہ ہے اور باغی نادانستہ طور پر دوسروں کے آلہ کار لگ رہے ہیں۔ لیکن ان کی نیت پہ شک نہیں اور اس کی ساری ذمہ داری ارباب اقتدار پر آتی ہے، جو کئی دہائیاں اقتدار پر قابض رہ کر بالآخر ذلت کے ساتھ تخت سے سبکدوش ہوتے ہیں۔ اور قوم کی ذلت کا باعث بھی بنتے ہیں۔ صرف اپنے ذاتی اقتدار کی خاطر اپنے ملکوں کو اس نہج پہ پہنچا دیتے ہیں اور جمہوریت اور عوام کی اقتدار میں شرکت کے راستے میں حائل ہوتے ہوئے طاقت کے زعم میں پورے ملک کو تباہی کی دہانے پہ لے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کا اقتدار ہی نہیں جاتا بلکہ پوری قوم کی بقا ہی داؤ پہ لگ جاتی ہے۔
نہ جانے یہ سب درست ہونے میں ہمیں کتنی اور صدیاں درکار ہوں گی۔