دھمکیوں و الزامات کے جلو میں مذاکرات کی دعوت
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 12 / دسمبر / 2024
تحریک انصاف نے سیاسی مکالمہ پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ قومی اسمبلی میں پارٹی کے چئیرمین گوہر ایوب اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے ایک ہی لب و لہجہ میں واضح کیا ہے کہ عمران خان نے مذاکرات کے لیے جو پانچ رکنی کمیٹی قائم کی ہے وہ پارلیمنٹ کے دائرہ کار کے اندر بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتی ہے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومتی نمائیندوں نے گو کہ اس پیش کش کو مثبت اور ضروری قرار دیا ہے تاہم نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار یا وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپوزیشن کی طرف سے بات چیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کسی ٹھوس لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا۔ نہ ہی پارلیمنٹ یا اس سے باہر حکومت کی طرف سے بات چیت کے لیے کسی ایجنڈے یا طریقہ کار کا اعلان کیا گیا ہے۔ بیرسٹر گوہر ایوب نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بات چیت کے ذریعے ان کی شکایات دور کی جائیں اور پارٹی کو ایک بار پر احتجاج کرنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بات چیت کی خواہش کو پارٹی کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔
البتہ اس بات کا شدید اندیشہ موجود ہے کہ حکومت بات چیت کے لیے تحریک انصاف کی پیش کش کو پارٹی کی کمزوری سمجھ کر اسے نظر انداز کرے گی یا اس حوالے سے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں ہوگا۔ موجودہ حکومت کا شروع سے یہی طرز عمل رہا ہے کہ مسائل حل کرنے کی بجائے ، انہیں ٹالائے۔ اور ایک بار خطرہ ٹل جائے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ معاملہ حل ہوگیا حالانکہ کسی مسئلہ کو نظر انداز کرکے اسے حل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ شہباز شریف اس وقت پورے طمطراق سے ملک پر حکمرانی کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ انہیں امید ہے کہ 26 نومبر کو تحریک انصاف کے ناکام احتجاج کے بعد اب پارٹی میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ جلد ہی کسی نئے احتجاج کا اہتمام کرسکے۔ یہی اطمینان درحقیقت حکومت کی طرف سے لاتعلقی کا سبب بنے گا۔ یہی رویہ ملک میں سیاسی الجھنوں کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دے گا۔
اس وقت نہ تو حکومت کو سمجھ لینا چاہئے کہ تحریک انصاف کے احتجاج کو دبا کر وہ کامران ہوگئی ہے اور اب اسے اپوزیشن سے بات چیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ اس طرح مسئلہ بدستور اپنی جگہ موجود رہے گا اور اسی کی بنیاد پر بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ جب تک چند بنیادی نکات پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا ملک میں سیاسی استحکام کا خواب دیکھنا ممکن نہیں ہے۔ حکومت کو تحریک انصاف کے لیڈروں کے تبدیل شدہ رویہ کو اپنی کامیابی اور ان کی شکست سمجھنے کی بجائے، اسے ملک کو آگے بڑھانے کا ایک عمدہ موقع سمجھنا چاہئے۔ یہ مقصدحاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کام کو پارلیمنٹ میں مصالحانہ طرز عمل پر خوشی کا اظہار کرنے سے آگے بڑھایا جائے اور اہم اختلافی نکات پر بات چیت کے لیے حکومت کی طرف سے کسی باقاعدہ کمیٹی کا اعلان کیا جائے۔
دوسری طرف تحریک انصاف کو بھی یہ باور کرنا چاہئے کہ وہ حکومت کو دباؤ کے ہتھکنڈوں سے بات چیت پر آمادہ نہیں کرسکتی۔ بیرسٹر گوہر اور شبلی فراز کی تقریروں میں اگرچہ عمران خان کی رہائی کا براہ راست مطالبہ تو نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ کہا گیا ہے کہ بات چیت صرف ’اصل اختیار‘ کے حامل عناصر کے ساتھ ہوگی۔ بلکہ بیرسٹر گوہر علی کا دعویٰ تھا کہ وہ اپنا مقدمہ اس لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کررہے ہیں تاکہ ’تیسری قوت پارلیمنٹ پر قابض نہ ہوجائے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ‘۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے سانحہ 9 مئی کو بھلانے اور آگے بڑھنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ حالانکہ اگر عدالتوں میں گزشتہ سال 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات کے فیصلے نہیں ہوسکے تو تحریک انصاف نے بھی اس روز ہونے والی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے اور اس پر معافی مانگنے کا اقدام نہیں کیا ہے۔ دن بدن یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ سانحہ9 مئی کے دوران رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کو فوج میں انتشار اور ملک میں امن و امان کی سنگین صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ تحریک انصاف اس معاملہ کی سنگینی کو تسلیم کرنے کی بجائے اسے محض سیاسی بیانات اور حجت کے ہتھکنڈوں سے ٹالنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ یہی رویہ درحقیقت تحریک انصاف اور عسکری اداروں میں دوریاں پیدا کرنے کا باعث بھی بنا ہے ۔ عمران خان کی طرف سے فوج کے ساتھ بات چیت کی متعدد کوششوں کے باوجود انہیں کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
گزشتہ روز ہی آئی ایس پی آر نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف چارج شیٹ عائد کرنے کا اعلان کیا۔ اسی بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فیض حمید کے خلاف 9 مئی کے واقعات اور ایسے ہی دیگر معاملات میں ملوث ہونے کی تحقیقات بھی کی جارہی ہیں۔ وہ بعض سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر تشدد کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں فیض حمید کے حوالے سے سانحہ 9 مئی کا ذکر درحقیقت تحریک انصاف کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ اگر فوج آئی ایس آئی کے سابق سربراہ پر تحریک انصاف کے ساتھ تعلق کی بنا پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتی ہے تو تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف بھی گھیرا تنگ ہوگا۔ اس صورت حال کا کوئی سیاسی حل موجود نہیں ہے ۔ اس کا جواب قانونی طور سے شواہد اور ثبوتوں کی بنیاد پر دینا پڑے گا۔ البتہ تحریک انصاف اگر اب بھی 9 مئی 2023 کے واقعات پر قوم اور فوج سے معافی مانگ لے اور اس روز ہونے والی غلطیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا حوصلہ کرلیا جائے تو اس سے سیاسی مکالمہ میں ان کا مقدمہ مضبوط ہوسکتا ہے۔ قومی سطح پر سیاسی بات چیت کا حصہ بن کر تحریک انصاف یہ توقع کرسکے گی کہ ایک احتجاج کے دوران ہونے والی کوتاہیوں کو نظر انداز کیا جائے۔ البتہ اگر ماضی کی طرح سانحہ 9 مئی کو فالس فلیگ آپریشن کا نام دیتے ہوئے خود کو معصوم اور دوسروں کو قصور وار بتایا جائے گا تو سیاسی بات چیت کے لیے میدان ہموار نہیں ہوپائے گا۔
بیرسٹر گوہر علی اور شبلی فراز نے مصالحت کی باتیں کرتے ہوئے 26 نومبر کے واقعات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے۔ انہوں نے 12 ہلاکتوں، براہ راست فائرنگ اور نسلی بنیادپر مظاہرین کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے 200 کارکن اس روز سے لاپتہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پارٹی ضرورت پڑنے پر اپنے ’شہیدوں‘ کی تعداد میں اضافہ بھی کرسکتی ہے۔ گوہر علی کا خیال ہے کہ حکومت اس واقعہ پر معافی مانگے، ذمہ داروں کا (گولی چلانے کا حکم دینے والوں) تعین کیا جائے اور متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ اسی طرح سیاسی ماحول بہتر ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پشتون مظاہرین کے خلاف تشدد کا الزام عائد کرکے وفاقی حکومت پر نسلی تعصب کے فروغ کا الزم بھی عائد کیا۔ البتہ وہ یہ جواب دینے پر آمادہ نہیں ہیں کہ تحریک انصاف کی خیبر پختون خوا میں حکومت کیوں سرکاری وسائل صرف کرکے بار بار ایک صوبہ کے عوام کو مرکز پر دھاوا بولنے پر آمادہ کرتی ہے۔ کیا تحریک انصاف اس طرح جان بوجھ کر پشتون عوام میں یہ تعصب راسخ کرانا چاہتی ہے کہ مرکزی حکومت اس صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھتی ہے اور وہاں کے لوگوں کے ساتھ براسلوک کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ اگر کسی ہجوم میں ایک ہی علاقے کے لوگ شامل ہوں گے تو جوابی کارروائی میں فطری طور سے اسی علاقے کے لوگ ہی متاثر ہوں گے۔ اس معاملہ پر نسلی یا صوبائی حساسیت کو سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کی بنیاد بنانا مناسب نہیں ہے۔
حکومت اور تحریک انصاف کو بات چیت کے لیے واضح نکات سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف اگر حکومت سے پسپائی کا مطالبہ کرے گی یا حکومت اگر تحریک انصاف سے یہ توقع کرے گی کہ وہ اپنے مطالبے بھول کر بس پارلیمنٹ میں تقریریں کرلیا کرے تو مذاکرات کی یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ پائے گی۔ فریقین کو اپنی پوزیشن کا اعلان کرنے کے ساتھ ایسے نکات بھی پیش کرنے چاہئیں جن پر اتفاق رائے سے سیاسی تصادم کم کیا جاسکے۔ حکومت عمران خان کے خلاف دھڑادھڑ مقدمات قائم کرنے سے گریز کا وعدہ کرسکتی اور بعض غیر ضروری مقدمات واپس لیے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف سانحہ 9 مئی کے بارے میں اپنی پوزیشن واضح کرسکتی ہے۔ حکومت انتخابی دھاندلی کا جواب دینے کے لیے 2018 میں دھاندلی کا حوالہ دینے کی بجائے انتخابی شفافیت کی یقین دہانی کرائے یا مڈ ٹرم انتخابات کا کوئی اشارہ دیا جائے۔ تاکہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم ہوسکے۔
شہباز شریف ان خبروں اور تبصروں سے آگاہ ہوں گے کہ بعض طاقت ور حلقے موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور پیپلز پارٹی کے تعاون سے موجودہ پارلیمنٹ میں حکومت کا متبادل لانا چاہتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی وزیر اعظم کے علم میں ہوگی کہ ان کی پارٹی مسلسل عوام میں غیر مقبول ہے اور کوئی نیا انتخاب مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پوزیشن کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔ ویسے تو یہ خواہش یا کوشش خود مسلم لیگ (ن) ہی کو کرنا چاہئے کہ وہ عوامی قبولیت کے موجودہ درجے کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت میں رہنے پر اصرار کی بجائے، حکومت کسی دوسری پارٹی کے حوالے کرکے عوامی رابطہ مہم کے ذریعے پارٹی پوزیشن بہتر کرنے کی کوشش کرے۔ البتہ ایسا حوصلہ مندانہ اقدام موجودہ مسلم لیگی قیادت کے بس کی بات نہیں ہے۔ شہباز شریف تو آخر وقت تک اقتدار سے چمٹے رہنے کی کوشش کریں گے اور اگر ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی صورت پیدا ہوتی ہے تو وہ اسے سازش کا نام دے کر خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم اس وقت تک شاید عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں بہت دیر ہوجائے۔
اس پس منظر میں بھی تحریک انصاف کی طرح مسلم لیگ (ن) کو بھی اپوزیشن سے بات چیت کرنے اور نئے سیاسی امکانات پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایسے کسی مذاکراتی دور میں دونوں پارٹیوں کو کچھ رعایت دینی پڑے لیکن اس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کو سیاسی سپیس مل جائے گی اور تحریک انصاف اپنا سیاسی وجود قائم رکھنے میں کامیاب رہ سکے گی۔