قومی حکومت کی منطق کیوں؟

اسلام آباد کے سیاسی حلقوں یا سیاسی پنڈتوں میں آج کل قومی ریاستی یا سیاسی بحران کے حل کے تناظر میں قومی حکومت کی تجویز پر بحث جاری ہے۔ قومی حکومت کی یہ تجویز کوئی نئی سوچ اور فکر نہیں بلکہ سیاسی بحران کی بنیاد پر مختلف ادوار میں اس فارمولے کی حمایت ہمیشہ سے کی جاتی رہی ہے ۔

لیکن طاقت کے مراکز یا فیصلہ کرنے والی قوتوں میں اس فارمولے کو سوچ بچار کے باوجود پزیرائی نہیں مل سکی ۔ اہم سوال یہ ہے کہ اسلام آباد میں وہ کون سے افراد یا گروہ ہیں جو ان حالات میں قومی حکومت کی تجویز پیش کررہے ہیں۔ اور اس قومی حکومت کو بنیاد بنا کر وہ کیا نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں۔ اگر طاقت کے مراکز یعنی اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت موجودہ حالات سے مطمئن ہیں اور ان کے بقول ملک عملاً سیاسی اور معاشی بنیادوں پر ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے تو پھر قومی حکومت کی یہ تجویز کی پزیرائی کون کررہا ہے یا اس تجویز کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے ۔

ویسے تو موجودہ حکومت کو بھی ایک حد تک ہم قومی حکومت کا نام دے سکتے ہیں ۔ اس حکومت میں ایم کیو ایم ، بلوچستان نیشنل پارٹی ، استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ ق، براہ راست مسلم لیگ ن کی حکومت کا حصہ ہیں۔ جب کہ پیپلزپارٹی اور جے یو آئی حکومت میں نہ ہونے کے باوجود حکومت کی حمایت کرتی ہیں۔ اگر موجودہ حکومتی بندوبست کا ریموٹ کنٹرول پس پردہ قوتوں کے پاس سمجھا جائے تو قومی حکومت کی تجویز کو پزیرائی ملتی ہے تو اس کا ریموٹ کنٹرول بھی سیاسی لوگوں سے زیادہ کسی اور کے ہاتھ میں ہوگا۔

اسی طرح اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت متفقہ طور پر ایک حکومت کے طور پر کام کرسکے۔ ان سب کا مشترکہ بنیادوں پر چلنا کسی سیاسی معجزہ سے کم نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس وقت ملک میں سیاسی تقسیم گہری ہے جس میں سیاسی اختلافات نے دشمنی کی شکل اختیار کرلی ہے، وہاں ان سب کو ایک کرنا آسان اور ان کا مل کر کام کرنا ناممکن ہوگا۔ یہ مسئلہ بھی ہوگا کہ سب ایک وزیر اعظم پر کیسے متفق ہوں گے اور کیسے اس بات کی ضمانت ہوگی کہ قومی حکومت کی سربراہی کسی کو دی جائے جو واقعی خود مختار بھی ہو اور سب کو لے کر چلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اگر قومی حکومت کی سربراہی کسی غیر سیاسی فرد یا کسی کمزور جماعتی فرد کے پاس ہوگی تو بڑی جماعتیں کیوں کر اس کی سربراہی میں کام کریں گی ۔ اسی طرح اگر قومی حکومت سیاسی لوگوں کے مقابلے میں پروفیشنل یا ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہوگی تو ان کا براہ راست ٹکراؤ سیاسی قوتوں سے ہوگا۔

اسی طرح اگر اس تجویز کی بنیاد پر کوئی بڑی قوت سب کو اکٹھا کرکے قومی حکومت کی شکل دیتی ہے تو یہ عمل اتفاق رائے کی بجائے دباؤ کی بنیاد پر ہوگا۔ جو اس قومی حکومت کی ساکھ اور صلاحیت سمیت ان میں بڑی سطح پر جلد ٹکراؤ کا ماحول بھی پیدا کرے گا۔ منطق یہ دی جا رہی ہے کہ قومی حکومت کی مدت دوبرس  ہوگی اور اس کے بعد ملک میں انتخابات ہوں گے ۔ اگر قومی حکومت میں سب جماعتیں شامل ہوں گی تو پھر ان انتخابات میں ان کی حیثیت کیا ہوگی اور کیسے ہم اس قومی حکومت کو ایک مکمل غیر جانبدار یا بڑی طاقتوں کی حمایت سے محروم حکومت سمجھ سکتے ہیں۔

یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ قومی حکومت کا کھیل محض مرکز تک محدود ہوگا یا اس کی شکلیں ہمیں صوبائی سطح پر بھی دیکھنے کو ملیں گی اور پارلیمنٹ کیا ہوگی یا اس کا خاتمہ ہوگا۔ اگر یہ کھیل مرکز تک محدود رہتا ہے اور صوبوں میں پہلے سے موجود سیاسی جماعتوں کی حکومتیں موجود رہتی ہیں تو اس قومی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔ ویسے پنجاب اور سندھ میں مسلم لیگ ن اور پی پی پی اپنی صوبائی حکومتوں کے خاتمہ میں کیوں کر حمایت کریں گی ۔ یہ قومی حکومت کس آئین کے تحت بنے گی اور کیا اسے قانونی تحفظ دیا جائے گا یا یہ عدالتوں میں چیلنج ہوں گی یا پارلیمنٹ میں بیٹھی تمام جماعتیں محض قومی حکومت کا حصہ ہوں گی اوراس کی سربراہی موجودہ وزیر اعظم یا کسی اور کے ہاتھ میں دے دی جائے گی ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت اور ریاستی نظام مشکلات کا شکار ہے۔ معیشت میں بہتری ضرور آئی ہے لیکن ابھی استحکام کی منزل حاصل نہیں ہوئی ہے۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ موجود حکومت عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے۔ گورننس کے معاملات وہ نہیں جو آج کی ضرورت ہیں ۔ لیکن قومی حکومت ان مسائل کو حل کر پائے گی ؟ اگر قومی حکومت کا مقصد و ہدف نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانا ہے، پس پردہ قوتوں کی مداخلت کو ختم کرنا، الیکشن کمیشن یا عدلیہ کے سیاسی کردار کو محدود کرنا ہے تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ نتائج کو سب تسلیم کرلیں گے۔ دوسرا قومی حکومت کے بجائے اسے عبوری نظام کہا جائے اور اس کی مدت کم سے کم ہواور وہ اپنی توجہ کا مرکز الیکشن کرانے تک محدود رکھے ۔

کیا قومی یا عبوری حکومت سیاسی ٹمپریچر میں کمی اور نفرت کے ماحول کو کم کرسکتی ہے ؟ وہ اسی صورت میں ممکن ہوگا جب بانی پی ٹی آئی کو بھی سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ کیا آئین اور قانون کی رو سے ایسا ممکن ہوسکے گا؟ بانی پی ٹی آئی کے بغیر پی ٹی آئی قومی یا عبوری حکومت میں کیسے شامل ہوگی؟ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ملک کو سیاسی بنیاد پر سیاسی اور جمہوری عمل کو مضبوط بنانا اور لوگوں کا ریاستی، سیاسی اورانتخابات کے نظام پر اعتماد کی بحالی ہونا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ اس وقت عملًا ہمارا ریاستی اور سیاسی نظام ملک کے داخلی اور خارجی  محاذوں پر ہمیں سوالیہ نشان کے طور پر پیش کررہا ہے اور یہ عمل ہمیں کمزور جمہوری نظام یا کمزور ریاست بناتا ہے ۔

اس کے برعکس اگر ہم موجودہ سیاسی بندوبست سے جان چھڑا کر قومی حکومت یا چوں چوں کا مربہ بنا کر ساری جماعتوں کے ساتھ ملک میں مصنوعی سیاسی کھیل کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یہ عمل ہمیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے گا۔  وقت آگیا ہے کہ ہم اس حالیہ بحران سے نکلنے کے لیے حالات کی نزاکت کا احساس کریں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہم خراب حالات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان تمام برے حالات سے بچنے کے لیے یا ملک میں سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی استحکام سمیت اپنے ہی نظام کی ساکھ بنانے کے لیے ہمیں مصنوعی طور پر سیاسی کھیل کھیلنے کی بجائے جمہوری کمٹمنٹ کا راستہ ہی اختیار کرنا ہوگا۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ کمزور حکومتوں نے مجموعی طور پراس ملک کی سیاست، جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کے نظام کو کمزور کیا ہے۔ اس کمزوری کا ایک نتیجہ عوامی مفادات کی سیاست پر بھی پڑرہا ہے اور لوگوں میں مجموعی طور پر حکومتی نظام یا گورننس کے نظام پر اعتماد اٹھ رہا ہے۔ اس لیے ریاست، حکومت اور گورننس کے نظام پر لوگوں کے اعتماد کی  بحالی کے لیے ہمیں ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات درکار ہیں۔ لیکن اس کا فریم ورک جمہوری اور آئینی ہونا چاہیے۔