بوسیدہ نظام اور گڈ گورننس کا خواب
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 13 / دسمبر / 2024
سوچ رہا ہوں اس خبر پر خوش ہونا چاہیے یا حیران ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں، والا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ مرحلہ اس خبر کو پڑھ کے آیا ہے جس میں بتایا گیا گورننس کی بہتری کے لئے وزیراعظم شہباز شریف سے نئے ماہرین نے ملاقات کی ہے۔
خبر میں بتایا گیا ہے ماہرین کی تقرری کے بعد حکومتی فیصلوں میں نہ صرف بہتری آئے گی بلکہ ماہرین کی آرا اور تنقیدی جائزوں کے بعد جب یہ فیصلے ہوں گے تو ان کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے۔ اب یہ اچھی خاصی خوش فہمی ہے۔ یہ ماہرین آخر کہاں سے آئے ہیں۔ اسی ستر سالہ بوسیدہ نظام میں رہ کر ماہر بنے ہیں۔ ان کی مہارت اسی نظام کے اندر رہ کر مشورے دے گی جبکہ یہ گلاسڑا نظام اب اپنی طبعی سے بھی زیادہ عمر پوری کر چکا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا حکومت ایک ایسی کمیٹی بناتی جو ایک نئے دفتری نظام اور گڈگورننس کے لئے نئے پیرامیٹرز پر کام کرتی ،جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی گورننس کا جائزہ لیتی اور یہ طے کرتی اس ماڈل کو پاکستان میں کیسے متعارف کرایا جائے۔
اگر تو وزیراعظم صرف اپنے حکومتی منصوبوں کے حوالے سے ماہرین کی رائے حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اختیار ہے ۔مگر بات اگر گڈگورننس کی ہو رہی ہے تو اسے اس فریم ورک میں نافذ کیا ہی نہیں جا سکتا جو اس وقت ملک میں رائج ہے۔ کسی نے کیا سچی بات کی ہے ہمارے نظام میں محکمے اور اہلکار صرف عوام کو تنگ کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں ۔جہاں سڑک پر پڑے کچرے کو اٹھوانے کے لئے عوام واسا کے خلاف مظاہرہ کرنے پر مجبور ہو جائیں اور تب ان کی سنی جائے وہاں گڈگورننس کیسے آ سکتی ہے۔ ابھی دو دن پہلے یہ خبر چھپی کہ اسلام آباد جیسے ملک کے سب سے بااختیار شہر میں کئی سیکٹرز صفائی کی ناقص صورتِ حال کا شکار ہیں۔ اب اگر دارالحکومت میں گورننس کا یہ حال ہو تو سوچئے راجن پور، شکارپور، سبی یا گوجر خان جیسے چھوٹے اور دوردراز شہروں کا کیا حال ہوگا۔ ہماری گڈگورننس بس اتنی ہے کہ جتنی کارپوریشن کے عملہ تہہ بازاری کی ٹریکٹر ٹرالی کی آمد پر نظرآتی ہے۔ جب وہ سڑکوں پر سے تجاوزات کے نام پر ریڑھیاں، خوانچے اور دیگر سامان اٹھا رہی ہوتی ہے۔ کسی وی آئی پی نے گزرنا ہوتو گورننس میں کرنٹ دوڑ جاتا ہے۔ یا وزیراعلیٰ نے دورہ کرنا ہوتو تھرتھرلی مچ جاتی ہے، باقی وقت یہ گورننس لسی پی کر سوئی رہتی ہے۔
حیرانی ہوتی ہے اربوں روپے آخر کس نظام پر خرچ کئے جا رہے ہیں ،اگر وہ بے حِس،مردہ اور ناکارہ ہو چکا ہے۔ خود کار نظام کے تحت جب تک چیزیں نہیں چلتیں اور صرف دکھاوے کے اقدامات ہوتے ہیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہے ہم نے ایک ایسا نظام اوڑھ رکھا ہے جس کی اوپر سے کھال تو چاق و چوبند شیر جیسی ہے مگر اندر سے وہ ایک گدھا ہے جسے اپنی سمت کا بھی اندازہ نہیں۔ ہمیں اسی نظام کے پلے بڑھے ماہرین سے نظام بدلنے کی تجاویز لینے کے ضرورت نہیں، ان میں سکت ہوتی تو اپنے ادوار میں اس ملک کے لئے کچھ کر جاتے۔ہمیں ایسے ماہرین کی ضرورت ہے جن کی اقوامِ عالم پر نظر ہو اور انہیں تہذیبی ارتقاکے مراحل کا اندازہ ہو۔ ہم یہ کہتے ہیں ہمارے پاس خلفائے راشدین کی گورننس کا ماڈل موجود ہے مگر اس پر کام نہیں کرتے کہ یہ ماڈل اس جدید دور میں نافذ کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔ پھر اس کے لئے جو اخلاقی و سیاسی جرأت چاہیے وہ ہم میں موجود نہیں ہے۔
جس معاشرے میں آئینی حقوق کو بھی یقینی نہ بنایا جا سکے، طاقتور طبقے اس میں بھی اپنی ایک علیحدہ دنیا بنا لیں، جس ملک میں بااثر اوربے اثر کی بحث شروع ہو چکی ہو جو اس امر کی نشاندہی کرے کہ قانون سب کے لئے یکساں نہیں، اس ملک میں صرف چند ماہرین کیسے گڈگورننس کی تجاویز دے سکتے ہیں۔ہمارے ہاں تو اچھے محکمے بھی وقت کے ساتھ اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا نادرا کا ادارہ ایک بڑی تبدیلی کے طور پر سامنے آیا تھا۔کہا جاتا تھاکہ یہاں صرف اور صرف میرٹ پر کام ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ آغاز میں اگر کوئی یہ الزام بھی دیتا تھا کہ نادرا میں رشوت سے کام ہو جاتے ہیں تو لوگ خود اسے جھوٹ قرار دیتے تھے۔مگر اب اسی ادارے کے بارے میں شکایات اور یہاں عوام کے ساتھ سلوک کی ان گنت خبریں گردش کرتی ہیں۔ گزشتہ دنوں تو کمال ہو گیا جب اسلام آباد سے یہ خبر آئی افغانیوں کو شناختی کارڈ جاری کئے جاتے ہیں۔ نادرا سے کتنے ہی اہلکار کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کی وجہ سے برطرف کئے جا چکے ہیں اس کا مطلب یہ ہے ہم کوئی ادارہ بھی فول پروف نہیں بنا سکے۔ہر جگہ ایسے خلا ضرور چھوڑ جاتے ہیں، جہاں سے نقب لگائی جا سکتی ہے۔
گڈگورننس کے کھوکھلے ماڈل ہم نے ہر دور میں اپنائے ہیں مگر اس کی کبھی پرواہ نہیں کی جب ایک مشین ہی بوسیدہ ہے تو وہ اچھی پیداوار یا پرفارمنس کیسے دے گی۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کسی دفتر کے باہر ایک بکس لگا ہوتا ہے، جس پر شکایات بکس لکھا ہوتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے اس نظام کو اتنا خونخوار کیوں بنا رکھا ہے کہ کوئی شہری متعلقہ افسر کے پاس شکایت کرنے کی بجائے شکایات بکس میں شکایت ڈالے۔ کبھی کسی خوش قسمت کو ان شکایت بکسوں کے ذریعے کوئی ریلیف ملا ہو تو بتایئے۔ زمانے نے ترقی کی تو حکومتوں نے شکایات کے لئے اپنے واٹس ایپ نمبر دینا شروع کر دیئے۔ اپنی ویب سائٹس متعارف کرا دیں۔ عمران خان کی حکومت میں وزیراعظم پورٹل کا نظام رائج کیا گیا تھا۔ یہ سب باتیں بذاتِ خود اس امر کا ثبوت ہیں کہ موجودہ نظام عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہے اس لئے کبھی کھلی کچہری،کبھی شکایات بکس، کبھی واٹس ایپ نمبر اور کبھی ای میلز دے کر خلقِ خدا کو کہا جاتا ہے شکایت کرو ۔اس ظالمانہ نظام میں ہر شکایت کو غلط اور جھوٹی ثابت کرنے کی اتنی سفاکانہ صلاحیت موجود ہے کہ سائل روتا مر جائے گا اپنی بات ثابت نہیں کر سکے گا کیونکہ نظام کے جبڑے اس قدر مضبوط ہیں اسے اپنے پنجے سے نکلنے ہی نہیں دیں گے۔
سب سے اہم ضرورت اس بات کی ہے ایک اعلیٰ سطحی ریفارمز کمیٹی بنائی جائے۔ جو ہر شعبے، ہر محکمے کے لئے سادہ، سہل اور قابلِ عمل قواعد و ضوابط بنائے۔ صوابدیدی اختیارات کو یکسر ختم کرے اور فائل ورک کو اتنا گنجلک نہ بنائے کہ اسے پہیئے لگانے کی ضرورت پیش آئے۔ باہر سے آنے والا ہر پاکستانی یہ رونا روتا ہے کہ یہاں ہر دفتر میں قصائی بیٹھے ہیں، یہ قصائی کیسے بن جاتے ہیں، صرف اس لئے کہ انہیں جس کرپٹ نظام کی چھتر چھاؤں میسر ہے۔ اس کے ہوتے ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)