تحریک انصاف اور علی امین گنڈا پور کا بیانیہ
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 16 / دسمبر / 2024
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا یہ بیان مجھے تو کم از کم ہضم نہیں ہوا کہ اگلی بار ہم اسلام آباد کی طرف نکلیں گے تو امن والی بات نہیں کریں گے۔ اسلحہ لے کر آئیں گے پھر دیکھتے ہیں بھاگتا کون ہے۔
مجھے تو یہ کسی مولا جٹ جیسی فلم کا ڈائیلاگ لگا ہے، جس کا سیاسی جدوجہد کے حوالے سے دور دورکا بھی کوئی تعلق نہیں۔ علی امین گنڈا پور نے ساتھ ہی عمران خان کو خدا کا واسطہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن کا بیانیہ چھوڑ دیں،ریاست قاتل بن کر اپنے لوگوں کو بغاوت پر اُکسا رہی ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے مجھے یوں لگ رہا ہے عمران خان بُری طرح کچھ لوگوں کے ہاتھوں بے بس ہو گئے ہیں۔ اُن کا بیانیہ اور گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے جو قیادت باہر ہے،وہ آپس میں اُلجھی ہوئی ہے۔یہ بات بھی اب حقیقت ہے کہ پارٹی پر خیبرپختونخوا کی شخصیات کا قبضہ ہے۔پنجاب کی قیادت جیلوں میں ہے۔ جو باہر ہے اُسے عمران خان سے ملاقات تک نہیں کرنے دی جاتی۔اس میں رکاوٹ کوئی اور نہیں، بلکہ تحریک انصاف کے وہ عہدیدار ہیں جو ملاقات کے لئے ناموں کی منظوری دیتے ہیں۔
عمران خان کی بلاشبہ مقبولیت ساتویں آسمان پر ہےمگر اِس مقبولیت سے تو پارٹی کے معاملات نہیں چلائے جا سکتے۔ عمران خان کی بہنیں جو بات اُس سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتاتی ہیں،بیرسٹر گوہر بحیثیت چیئرمین اُس کی نفی کر دیتے ہیں۔ اب عمران خان کو جو ایک برس ہونے کو آ گیا جیل میں ہیں۔ علی امین گنڈا پور کی طرف سے پُرامن سیاسی جدوجہد کی بجائے مسلح جدوجہد کا واسطہ دینا، ایک ایسی مایوس کن صورتحال کو جنم دے رہا ہےجو تحریک انصاف کو دہشت گرد جماعت کی صف میں تو شامل کرا سکتی ہے، سیاسی کامیابی حاصل کرنے میں معاون ثابت نہیں ہو سکتی۔ اس وقت تحریک انصاف کا ہاتھ اوپر ہے۔ 26نومبر کو جو کچھ اسلام آباد میں ہوا،اُس کی وجہ سے حکومت بیک فٹ پر گئی ہے۔ اس واقعہ نے بہت سے سوالات اور شکوک کو جنم دیا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے نہتے سیاسی کارکنوں پر تشدد اور مبینہ طور پر گولیاں چلانے کے الزامات نے عالمی سطح پر بھی حکومت کو جوابدہی کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔مگر ایسے بیانات جو صوبے کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور دے رہے ہیں ،حکومت کے لئے بڑی آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ پھر حکومتی موقف کو تائید ملے گی کہ تحریک انصاف طاقت کے بل بوتے پرا سلام آباد میں دھرنا دینا چاہتی ہے ،اس لئے اُس کا راستہ روکنا ضروری ہے۔
سوال یہ ہے علی امین گنڈا پور ایسے بیانات کسے متاثر کرنے کے لئے دے رہے ہیں۔کیا وہ عمران خان کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اُن کی خاطر ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ کیا اُن کی اِس بات سے عمران خان واقعی متاثر ہوں گے۔کیا وہ اس کی اجازت دیں گے کہ اسلام آباد پر مسلح چڑھائی کی جائے۔میرا خیال ہے ایسا سوچنا بھی حماقت ہے۔ کیونکہ26سال تک سیاسی جدوجہد کرنے والا ایک رہنما اس راستے کا انتخاب کیسے کر سکتا ہے جو کسی بھی سیاسی جدوجہد، کسی بھی سیاسی جماعت اور کسی بھی سیاسی بیانیے کے لئے زہر قاتل ہے۔
اب تو مجھے عمران خان پر ترس آنے لگتا ہے،ایک مضبوط اعصاب کا مالک رہنماکس طرح اپنے ہی رہنماؤں کے ہاتھوں بے بس ہو رہا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف میں کیا صرف علی امین گنڈا پور ہی واحد رہنما رہ گئے ہیں یا دوسرے لفظوں میں کیا ایک وزیراعلیٰ ہی پارٹی کو لیڈ کر سکتا ہے۔یہ مانا جبر بہت زیادہ۔یہ بھی حقیقت ہے ریلیف ملنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں، عدالتوں سے رہا ہونے والوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا ہے،اس لئے سیاسی جدوجہد بہت مشکل ہو گئی ہے۔ تاہم یہ کوئی نئی بات نہیں۔ مزاحمت کے پُرامن انداز میں اور بھی بہت سے طریقے ہوتے ہیں۔ صرف عمران خان کا جیل میں رہنا ہی ایک بہت بڑی مزاحمت کا عکس ہے۔ لیکن کسی سیاسی جماعت کا کوئی رہنما اگر یہ کہتا ہے اب ہمیں سیاسی مظاہرے سے روکا گیا تو ہم مسلح ہوکر آئیں گے، ایک بہت بڑی حماقت ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے آپ ریاست سے ٹکرانے جا رہے ہیں،جس میں کامیابی ممکن ہی نہیں۔ پھر دنیا میں کہیں بھی سیاسی مقاصد کے لئے اسلحہ اٹھانا جائز نہیں سمجھا جاتا۔اس کی ہمیشہ مذمت کی جاتی ہے۔ پاکستان میں جبر اور گھٹن کی فضاضرور ہے تاہم یہاں کسی غیر ملکی قوت کا تسلط نہیں کہ اُس کے خلاف مسلح جدوجہد ضروری ہو جائے۔ علی امین گنڈا پور ایک ذمہ دار عہدے پر بیٹھے ہیں۔ وہ اگر خود ہی مسلح جدوجہد کی بات کریں گے تو اُن کے صوبے میں جو تنظیمیں اپنے حقوق کے لئے مسلح لڑائی پر یقین رکھتی ہیں ، انہیں کیسے روک سکیں گے۔
تحریک انصاف کو بھی یہ بات اب سمجھنی چاہئے کہ علی امین گنڈا پورکو دوبارہ اسلام آباد کی طرف مارچ کی قیادت سونپ کر سوائے ناکامی کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔کسی ایک شخص پرپوری جماعت کا انحصار اور باقی قیادت کا منظر سے غائب ہو جانا،ایک ایسا جوا ہے جس میں کامیابی کے امکانات صفر ہوتے ہیں۔جب پوری جماعت کے رہنما یہ سمجھتے ہوں علی امین گنڈا پور چونکہ وزیراعلیٰ ہیں ، اس لئے گرفتاری سے بچ نکلیں گے لیکن اگر ہم باہر نکلے تو دھر لئے جائیں گے تو ایسے میں کوئی تحریک کیسے چل سکتی ہے۔ عمران خان اڈیالہ جیل میں بیٹھے یہ سمجھتے ہیں لوگ اُن کی کال پر جوق در جوق نکل آئیں گے۔ ایسا ممکن بھی ہے لیکن جب اُن کی جماعت کے رہنما کارکنوں کی رہبری کرنے کو بھی تیار نہ ہوں تو کارکن کس کے پیچھے اور کہاں جمع ہو سکتے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں ملنے والے پارٹی رہنماؤں کو عمران خان تک یہ بات پہنچانی چاہئے کہ علی امین گنڈا پور کا بیانیہ پارٹی کے سیاسی تشخص کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ضیا الحق کے دور میں جب مرتضیٰ بھٹو نے اپنے ساتھیوں اور کارکنوں کو چھڑوانے کے لئے پی آئی اے کا طیارہ اغواکیا تھا، تو اپنے اس محدود مقصد میں کامیاب ہو گئے تھے مگر اُن کے سیاسی کیریئر پر اُس وقت ایک بدنام داغ لگ گیا تھا۔وہ بھٹو کی وراثت کے امین نہیں رہے تھے۔ وہ ہائی جیکر بن گئے تھے۔ سیاسی جدجہد میں صبر، تحمل، برداشت اور پُرامن رویہ ضروری ہے۔اُس کے بغیر جو بھی دوسرا راستہ ہے وہ ناکامی اور تباہی کا راستہ ہے۔
عمران خان نے جیل میں رہ کر بھی ہمیشہ یہی کہا ہے ہم پُرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں ۔اس بیانیے کے ساتھ اُن کا سیاسی وزن کہیں زیادہ ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اُن کی سیاسی قیادت مصلحتوں کا شکار نظرآتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر معاملہ اسلام آباد پر یلغار کے ذریعے ہی حل ہو۔ سیاسی جدوجہد کا ایک پُرامن انداز، پُرامن بیانیہ اگرچہ تھوڑا وقت لیتا ہے تاہم اُس کے نتائج اور اثرات بہت دائمی ہوتے ہیں،تاریخ اس کی گواہ ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)