تحریک انصاف اور عمران خان کے موجودہ حالات کیسے تبدیل ہوسکتے ہیں؟
- تحریر محمد طارق
- منگل 17 / دسمبر / 2024
پاکستانی سیاست دان جب حزب اختلاف میں ہوتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت مثبت پرفارم نہیں کررہی ۔ جس کی وجہ سے عوام حکومت سے تنگ ہیں۔
عوام کی اس رائے کو سامنے رکھتے ہوئے اپوزیشن سیاست دان جلسے ، جلوس ، احتجاج، مظاہرے، لانگ مارچ شروع کر دیتی ہے۔ اور اس سے یہ امید لگائے بیٹھتے ہیں کہ ان مظاہروں کے ذریعے وہ حکومت کو ختم کرا سکتے ہیں۔ جب کہ پاکستانی سیاسی تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ مظاہروں، احتجاج سے بہت کم بلکہ کبھی بھی کوئی حکومت ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان میں جمہوری حکومتیں صرف اور صرف ان ہاؤس سیاست یا مذاکرات کے ذریعے ہی ختم ہوسکتی ہے۔
سب سے بڑی مثال 2022 میں تحریک انصاف کی حکومت ان ہاؤس سیاست ، سیاسی پارٹیوں، سیاست دانوں کے آپس کے مذاکرات ذریعے ختم ہوئی۔ حالانکہ تحریک انصاف حکومت کے خلاف سیاسی پارٹیوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام نے لانگ مارچ اور احتجاج کیا۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت ختم کرانے میں ناکام رہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ تحریک انصاف نے آنے والے وقت میں اگر اپنے لیے کوئی آسانیاں حاصل کرنا ہیں تو پھر اسے قومی اسمبلی میں موجود دوسری سیاسی پارٹیوں سے رابطہ کاری کو تیز کرکے ایک مشترکہ اپوزیشن اتحاد تشکیل دینا چاہئے۔ اسے اس طریقے سے شہباز شریف حکومت کے خلاف پارلیمان میں عدم اعتماد تحریک کی کوشش کرنا ہوگی۔ کیونکہ جب ملک میں کسی بھی طرح سے وجود میں آئی ہوئی حکومت اور پارلیمان موجود ہو تو پھر اسے اسی طریقہ کار سے ہٹایا جاسکتا ہے، جو طریقہ آئین میں درج ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد اور تحریک انصاف کی مرکز میں اپنی حکومت قائم ہونے کے بعد عمران خان کی رہائی بھی ممکن ہوگی اور تحریک انصاف کے حالات بھی سدھر جائیں گے۔
جب کہ دوسری طرف مسلسل 2 سال میں پاپولر سیاسی بیانیوں ، دھرنوں، لانگ مارچ اور بیرون ممالک میں لابنگ سے خواری، پریشانیوں کے علاوہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ موجودہ ملکی سیاسی حالات یہی بتا رہے ہیں کہ اگر تحریک انصاف نے اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیلی نہ کی ، اپنے مقاصد کا ازسر نو جائزہ نہ لیا اور زمینی حقائق کے برعکس سیاسی بیانیے پر سیاست جاری رکھی تو اگلے 2 سال بھی نتیجہ یہی رہے گا۔