امام صاحب

جنوبی وسطی بنگلہ دیش میں دریائے کیرتنکھولا کے کنارے پر واقع بیریسال کے ایک گاؤں پیروج پور(فیروز پور) کا ایک کسان شمس الرحمن لاولد تھا۔ بہت کوششوں کے باوجود اس کا گھر سُونے کا سُونا رہا۔

ذہنی طور پر بہت پریشان شمسو کو جو بھی جو مشورہ دیتا وہ بیچارہ اپنی صلاحیت کے مطابق کرنے کی کوشش کرتا۔ بھارت کے ایک پیر صاحب ہر سال بیریسال کے دورے پر آتے۔ ان کی کرشماتی سرگرمیوں کے بارے میں اس علاقہ میں بڑا چرچا تھا۔ پیر صاحب کے ایک مرید نے شمسو کو مشورہ دیا کہ وہ پیر صاحب کو اپنی پریشانی بتائے تاکہ کوئی حل مل سکے۔ مشورہ کے مطابق شمسو نے پیر صاحب سے ملاقات کی۔ انہوں نے تعویز دیے، چند آیات کے ورد بتائے اور مخصوص دن کے حوالے سے بھی مشورہ دیا۔ جب جوڑے جماع کریں تو ماں حاملہ ہوسکتی ہے۔ اسی طرح چار سال کے بعد شمسو کے گھر وہ خوش خبری آئی جس کا اسے برسوں سے انتظار تھا۔ اس خبر سے شمسو پہلے کے بہ نسبت زیادہ پھرتیلا اور چست نظر آنے لگا۔

اس وقت شمسو کی خوشی کی انتہا نہیں رہی جب اس نے اپنے بیٹے کو اپنی آغوش میں تھام کر اس کا چہرہ دیکھا۔ اس نے اس کا نام شفیع الرحمن رکھا اور دل ہی دل میں تہیہ کیا کہ شفیع کو وہ بریلوی شریف کے مدرسہ میں پڑھنے بھیجے گا، جہاں سے ہر سال پیر صاحب بیریسال تشریف لاتے ہیں ۔
شفیع جوں جوں بڑاہوتا گیا شمسو میں جنون بڑھتا گیا کہ اسے ایک پائے کا عالم بنائے۔ کم سنی میں ہی اسے مقامی مدرسہ میں بھیجا گیا۔ پھر بیریسال شہر کے مشہور مدرسہ میں تعلیم کا بندوبست کیا۔ جب اس نے قرآن کا حفظ مکمل کر لیا تو شمسو نے اسے ہندوستان بھیجنے کی تیاری شروع کردی ۔

اس ضمن میں اس نے پیر صاحب سے مشورہ کیا تو انہوں نے بھی شفیع کی تعلیم کے سلسلہ میں ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ہندوستان سفر سے پہلے شمسونےنم آنکھوں سے شفیع کوالوداع کہا کیونکہ اب اسے وہاں کم سے کم پانچ سال گزارنے تھے۔ اس دوران  شاید وہ واپس نہ آسکے۔ کیونکہ شمسو نے بیحد تگ و دو کے بعد اس کی ہندوستان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے رقم اکٹھا کی تھی ۔ اس کے لئے شمسو کواپنے آبا کی زمین بھی بیچنی پڑی۔

خیر شفیع ہندوستان پہنچ گیا۔ اب وہ گاہے گاہے اپنے والدین کو خط ارسال کرتا۔ شمسو اس کے خط کے لئے بے چین رہتا۔ خط ملتے ہی وہ اسے مدرسہ کے مولوی صاحب کے پاس لے جاتا اور اسےسنتا۔ کبھی کبھار زار و قطار روتا، کبھی ہنستا، کبھی اس کی چھاتی فخر سے پھول جاتی ۔ وہ بہت ہی سنجیدگی کے ساتھ خط کا جواب لکھواتا اور شہرجا کر خود ہی پوسٹ کرتا۔ لوگ اسے کہتے بھی کہ خط ڈاکیے کو دے دو وہ بھیچ دے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتا۔ اس دوران بنگال کی  قحط سالی نے یہاں کے دیہاتی علاقے کو بری طرح متاثرکیا۔

شفیع کے بارہا خط بھیجنے پر کوئی جواب موصول نہ ہونے کے سبب وہ ذہنی طور پر پوری طرح ٹوٹ چکا تھا۔ پنجگانہ نمازوں میں وہ اپنے والدین کی خیرو عافیت کے لئے دعائیں مانگتا۔ ایک روز پوسٹ مین کی جانب سے ایک خط نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اس خط میں ڈاکیہ نے اس بات کا انکشاف کیا کہ اس قحط میں اس کے والدین جاں بحق ہوگئے۔ پھر کیا اب شفیع کے پیچھے کوئی نہیں بچا۔ اس لئے اس نے بریلی میں ہی مستقل قیام کا ارادہ کرلیا۔ ابھی اپنے ارادوں پر عملی جامہ پہنانے کی کوشش کررہا تھا کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات نے اسے لرزا دیا۔ وہ جبر و ظلم کا عینی گواہ تھا۔ لوگ اپنی جان بچانے بیل گاڑیوں پر سوار، پیدل یا پھر ٹرینوں کے ذریعہ بھاگ رہے تھے۔ شفیع بھی وہاں سےبھاگ نکلا۔ اسے بے حد پریشانیوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ٹرین میں ایک فیملی سے ملاقات ہوئی جو اپنے ایک رشتہ دار کے پاس مشرقی پاکستان کے شہر میمن سنگھ جارہے تھے۔

یہ شہر دریائے برہم پترا کے کنارے پر واقع ہے۔ طویل سفر کے دوران ان لوگوں نے شفیع کی بات سنی تو بہت افسردہ ہوئے۔ ان لوگوں نے اسےاپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ انہوں نے بتایا کہ میمن سنگھ میں بہت سارے اردو بولنے والے قیام پزیر ہیں۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ شفیع کے لئے وہاں کوئی سبب بن سکے۔ اس نے بھی ان کی باتوں پر حامی بھر لی کیونکہ آگے جانے کے لئےاس کے پاس کوئی جواز بھی نہیں کہ وہ کس کے پاس جائے۔ قہ اللہ پر توکل کر کے اس خاندان کے ساتھ میمن سنگھ اتر گیا۔

 شفیع بریلوی مسلک سے متاثر تھا کیونکہ اس کی تعلیم اسی نصاب کی تھی۔ اردو بولنے والوں کی اکثریت بھی بریلوی مسلک کو ماننے والی ہے جہاں نذرو نیاز، میلاد و فاتحہ کا رجحان ہے۔ اس لئے چند دنوں میں ہی اس علاقہ میں شفیع کا طوطی بولنے لگا۔ بنگلہ اس کی مادری زبان ہونے کی وجہ سے یکساں طور پربنگالیوں میں بھی اس کی مقبولیت پھیل گئی۔ دن گزرنے کے ساتھ شفیع کو مقامی مسجد میں پنجگانہ نماز میں امام کی ذمہ داری مل گئی اور اسی طرح شفیع امام صاحب کی حیثیت سےجانا جانےلگا۔ اسی دوران ایک بنگالی خاندان میں اس کی شادی ہوگئی۔

خیر دن گزرنے کے ساتھ اس کی چند سرگرمیاں لوگوں میں مشہور ہوگئیں۔ پنجگانہ نماز پڑھانا، کھانا، سونا اور بچے پیدا کرنا۔ کیونکہ کھانے اور سونے کی وجہ سے وہ روزافزوں بھاری بھرکم ہوتا جارہا تھا۔ ابھی شادی کو دس برس ہوئے تھے کہ اللہ کہ دئے ہوئے آٹھ بچے جن میں سات بیٹے اور ایک بیٹی کی نعمت سے سرفراز ہوا۔ بیٹی کا نام جنت الفردوس رکھا لیکن محلے والے اسے سات بھائی چمپا پکارتے جس سے شفیع بہت خفا ہوتا۔ اور لوگوں کو تنبیہ کرتا کہ وہ ان کی بیٹی کو جنت الفردوس پکاریں لیکن کون کس کی بات سنتا۔

شفیع کی سادگی کی وجہ سے وہ لوگوں میں بہت مقبول تھاا ور ہر کوئی اسے اپنے خاندان کا فرد مانتا۔ اس کے ہر چھوٹے بڑے مسئلہ پر ہر آدمی ممد کو پہنچتا۔ اتنی اپنائیت کہ بچوں کو یہ پتہ تھا کہ یہ پورا محلہ ان کے عزیز و اقارب  ہیں۔ بچوں کی نشو ونما اور تعلیمی اخراجات میں خود کفیل لوگ شانہ بشانہ کھڑے ہوجاتے ۔ اس طرح بچوں کی اچھی تعلیمی سلسلہ بھی جاری تھا۔ دسمبر ۱۹۷۰ میں ملک میں آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کی وجہ سے سیاسی بحران نے شفیع کے اندر ۲۴ سال قبل بھارت میں ہونے والے سانحہ کے دہرائے جانے کا اندیشہ ہوا۔ اور وہ ڈرا سہما رہنے لگا۔ ہر نماز کے بعد وہ ملک میں امن و سکون اور بھائی چارگی کو برقرار رکھنے کے لئے دعائیں مانگتا۔ نماز کے وقت یا میلاد کے موقع پر وعظ کے دوران قرآن و حدیث کی روشنی میں بنگلہ اور اردو زبانوں میں کثرت سے ان باتوں کا پرچار کرتا۔ اپنے بچوں کے سامنے بنگلہ اور اردو بولنے والوں کی اچھائیاں اجاگر کرتا اور خوب دعائیں کرتا کیونکہ جنوری ۱۹۷۱ سے ایک طرف جئے بانگلہ تو دوسری طرف پاکستان زندہ باد کے نعروں نے اسے شش و پنج میں ڈال دیا۔

اسی کشمکش میں مارچ ۱۹۷۱ میں جب شفیع کے محلہ کو بنگالیوں نے پوری طرح گھیرے میں لے لیا اور تمام اردو بولنے والے مردوں کو مسجد کے صحن میں یکجا کر لیا گیا تو شفیع بہت پریشان ہوا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بیٹوں کے ساتھ مسجد جائے گا اور اردو بولنے والوں پر آنے والے آفات سے انہیں نجات دلائے گا۔ اس نے اپنےساتوں بیٹوں کو اپنے ساتھ چلنے کی تاکید کی ۔ وہ گھر سے نکل رہا تھا کہ اس کی اہلیہ گھر کا دروازہ روک کر کھڑی ہوگئی۔  ’کوتھائے جاچچھو‘ (کہاںجارہےہو) اہلیہ نےپوچھا۔ ’مسجد جارہا ہوں” شفیع نے جواب دیا
’کینو‘ (کیوں) اہلیہ نے پوچھا۔ ’وہاں لوگوں پر ظلم ہورہا ہے، تم سمجھ نہیں رہی ہو‘۔ شفیع نے غصہ سےجواب دیا ’تومی کی کرتے پاربے، تومار کوتھا سنبےاورا‘۔ (تم کیا کرسکو گے، تمہاری بات مانیں گے وہ لوگ) اہلیہ نے کہا۔ ’کیوں نہیں، میں ان لوگوں کا امام ہوں‘۔ وہ لوگ میرے پیچھے نماز پڑھتے ہیں، وہ لوگ میری بات ضرور مانیں گے۔ مجھے اپنے اللہ پرپورا بھروسہ ہے‘ شفیع نے جواب دیا ’ایخون دیشیر اوبھستا بھالو نئیں، تو می با شائے تھاکو، چھیلے دیر کےکینو نیئے جاچچھو‘  (ابھی ملک کی حالات ٹھیک نہیں ہے، تم گھر پر رہو، بچوں کو کیوں ساتھ لے جارہے ہو) اہلیہ گھبراتےہوئے ہاتھ جوڑکر شفیع سے یہ تمام باتیں کرنے لگی۔ لیکن شفیع نے ایک نا مانی اور اپنے سات بیٹوں کے ساتھ مسجد پہنچ گیا۔

شفیع کے بیٹوں نے دیکھا کہ ان کے محلے دار مارے ڈر کے سہمے ہوئے کھڑے ہیں۔
شفیع نے  اونچی آواز میں بنگالیوں کو مخاطب کیا۔ قرآن و حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں اللہ کی رضامندی کے لئے امن قائم کرنے کی تاکید کی۔ ان سے ہاتھ جوڑ کرکہا کہ ’ہم سب مسلمان ہیں، ایک اللہ ، ایک ہی رسول کے ماننے والے ہیں، ایک ہی مسجد میں کاندھے سے کاندھا لگائے نمازادا کرنے والے ہیں۔ کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو؟ کیوں ان لوگوں کو یہاں یکجا کیا ہے۔ ان لوگوں کو ان کے گھر جانے دیں‘ ۔ اس نے بڑی منت و سماجت کی لیکن بنگالیوں کے سر پرسیاسی اور نسلی جنون اس قدر طاری ہوچکا تھا کہ وہ خون کے پیاسے ہو گئے تھے۔ وہ بول رہے تھے ’ایرا آمادیر شترو، ایرا دالال، ایدیر کے چھا ڑا جابے نا‘ (یہ ہم لوگوں کے دشمن ہیں، یہ سب دلال ہیں، ان لوگوں کو ہم چھوڑ نہیں سکتے)۔

شفیع نے جب دیکھا کہ وہ کسی طور پران لوگوں کو چھوڑنے کے لئے راضی نہیں تو اس نے اردو بولنے والوں سے کہا کہ ’آپ سب مسجد کے اندر چلے جائیں، ہم باپ بیٹے آ پ لوگوں کی نگہبانی کرتے ہیں اور اللہ ہمارا حامی و ناصر ہے‘۔ وہ آٹھ لوگ چٹان کی طرح مسجد کی دہلیز پرمسیحا بن کر کھڑے ہوگئے۔ چند لوگ تو وہاں سے چلے گئے لیکن کچھ ہی دیر بعد ہتھیار سے لیس  بنگالیوں کا ایک ہجوم امنڈ پڑا ۔ شفیع حیرت سے تکنے لگا کیونکہ وہ ان لوگوں میں سے کسی کو نہیں جانتا تھا۔ ہجوم سے آواز آئی ’امام کے بیندھے پھیلو‘(امام کوباندھ دو)۔ چار پانچ لوگ آگے بڑھے اور شفیع کو مسجد کی کھونٹی کے ساتھ باندھ دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے شفیع کے سامنے اس کے ساتوں بیٹوں کو بے دردی سے ذبح کردیا گیا۔ اس کے بیٹے خون میں لت پت مسجد کےصحن میں پڑے تھے۔ شفیع پسینے میں شرابور اس دردناک منظر کو ہکا بکا دیکھ رہا تھا۔ اس کے فرزندوں کی لاشیں زمین پر بکھری پڑی تھیں اور وہ آسمان کی طرف دیکھ کر انا لللہ وانا الیہ کا ورد کررہا تھا۔ اس کا جسم خوف سے کانپ رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کوئی اسے آزاد کردے تاکہ وہ اپنے لخت جگروں کو آخری بار اپنے سینے سے لگا سکے۔ لیکن بے رحم انسانوں پر شفیع کی آہ و پکار کا کوئی اثر نہیں ہوا۔  

ہجوم سے پھر آواز آئی ’موسجد یر دورجا بھینگے پھیلو‘ (مسجد کا دروازہ توڑ دو)۔ اور تھوڑی دیرمیں ہی مسجد قتل گاہ میں تبدیل ہوگئی ۔ مسجد میں چھپے تمام پناہ گزینوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ شفیع کھونٹی میں بندھے اپنے رب سے غیبی امداد کے لئے دعائیں کرتا رہا لیکن اس بار مدد کو کوئی ابابیل نہیں آئی۔ 

جب سب لوگوں کو ابدی آرام گاہ کے سفر پر بھیج دیا گیا تب ایک شخص چلا اٹھا ’امام کے شیش کورے داؤ‘ (امام کو ختم کردو)۔ یہ سننا  تھا کہ پیچھے سے کسی نے بلم شفیع کے پشت پر داغ دیا۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ یا اللہ ہمیں اردو بولنے کی کیسی سزا ملی۔ کسی نے اس کا ہاتھ کھول دیا اور وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔ ماحول میں سناٹا چھا گیا۔ ایک شخص نے اس کے مردہ جسم پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پکارنے لگا ’امام صاحب، امام صاحب‘ تب ہی ایک شخص چلا اٹھا ’امام مورے گیچھے‘ (امام مرگیا)۔ ہجوم جئے بانگلہ کا نعرہ لگاتے ہوئے مسجد سے باہر نکل گیا۔