مدارس رجسٹریشن: کیا کوئی اتفاق ہو پائے گا؟
- تحریر احمد بلال محبوب
- منگل 17 / دسمبر / 2024
دس سال پہلے تحریک طالبان پاکستان کے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر قاتلانہ حملے کے بعد پاکستانی حکومت نے ایک جامع دستاویز متعارف کرائی تھی جس میں دیگر تجاویز کے ساتھ ساتھ مدارس کی رجسٹریشن کی نگرانی کرنا بھی شامل تھا۔
ایک دہائی بعد یہ بحث ایک اور رخ اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام فضل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اس وقت ایک پارلیمانی بل پر ہونے والی تاخیر پر برہم ہیں جو پاکستانی مدارس کی رجسٹریشن کے عمل میں ترمیم کرنے اور انہیں دوبارہ زیادہ خود مختاری دینے کے بارے میں ہے۔ سابقہ سیاسی معاہدے کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے مطالبات پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد حکومت اب اپنے وعدے سے پیچھے ہٹتی نظر آتی ہے۔ اور مولانا نے حکومت پر نئے قانون کو نافذ کرنے کے لیے اپنے حامیوں کے ساتھ دارالحکومت کی طرف مارچ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
صرف دو ماہ قبل حکومت کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے بہت اہم تھی۔ اس ترمیم کی مدد سے سپریم کورٹ کی تنظیم نو کی گئی اور عدالت کے ذریعے حکومت کی ممکنہ برطرفی کو ٹال دیا۔ اس کے بدلے میں مولانا فضل الرحمٰن نے کچھ پارلیمانی فوائد حاصل کیے۔ لیکن ایک ایسے اقدام میں جو اس کی اپنی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے، حکومت اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ بظاہر اسے بین الاقوامی ردعمل کا خوف ہے، اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ ابھی حال ہی میں سر پر منڈلا رہی تھی۔
تنازعے کے مرکز میں یہ سوال ہے کہ کیا پاکستان کے تقریباً 65 ہزار مدارس، جو ملک کے تمام سکولوں کا تقریباً 14 فیصد ہیں اور جن میں تقریباً 35 لاکھ بچے زیر تعلیم ہیں، انہیں وفاقی حکومت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے مذہبی تعلیم (ڈی جی آر ای) کے ساتھ رجسٹر رہنا چاہیے۔ یا انہیں نوآبادیاتی دور کے ’سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ‘ کے تحت سہولت فراہم کی جانی چاہیے جو مدارس میں حکومت کی مداخلت کو کم کر دے گی۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ مدارس کے کل 15 وفاقوں میں سے دس ڈی جی آر ای کے ساتھ رجسٹریشن کے موجودہ نظام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اور اطلاع ہے کہ 2019 سے اب تک تقریباً 18 ہزار مدارس (20 لاکھ افراد) ڈی جی آر ای کے ساتھ رجسٹر ہو چکے ہیں۔ مدارس جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا کے بہت سے دوسرے حصوں میں ایک طویل عرصے سے غیر سرکاری اداروں کے طور پر اسلام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تعلیم اور تربیت دینے کے لیے موجود ہیں۔ مدارس کی تعداد اور پاکستان میں ان کے اندراج میں 1979 میں افغانستان پر سابق سوویت یونین کے حملے کے بعد ایک دہائی تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران بہت اضافہ ہوا۔
اس جنگ کی حمایت کے لیے آنے والے مالی وسائل کا ایک بڑا حصہ مدارس کی سرپرستی پر خرچ ہوا تاکہ وہ عسکریت پسندوں کے لیے بھرتی مراکز کے طور پر کام کریں۔ جنگ کے خاتمے کے بعد مدارس کی ریگولیشن نہ صرف پاکستانی حکومت بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی اولین ترجیح بن گئی۔ خاص طور پر نائن الیون کے بعد مدارس کو رجسٹر کرنے، ان کے فنڈنگ کے ذرائع کی نگرانی کرنے، ان کے نصاب میں اصلاحات کرنے اور ان کے فارغ التحصیل افراد کو زیادہ عالمی سطح پر ملازمت کے قابل بنانے کی کوششوں میں تیزی آئی۔
اگرچہ پاکستان میں مدارس بڑی حد تک خود کو رجسٹر کرنے اور اپنے نصاب میں معاشیات، کمپیوٹر سائنس وغیرہ جیسے عصری مضامین متعارف کرانے پر راضی ہیں لیکن وہ عام طور پر حکومت کی طرف سے اپنے انتظام میں ممکنہ مداخلت کے بارے میں حساس ہیں۔ یہ حساسیت ان مدارس کے معاملے میں مزید بڑھ جاتی ہے جو جے یو آئی ایف جیسی سیاسی جماعت کے تحت آتے ہیں۔ ان کے طلبہ اور اساتذہ نہ صرف ان جماعتوں کے ووٹروں کی ریڑھ کی ہڈی بناتے ہیں بلکہ سڑکوں پر احتجاج کے دوران طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بھی بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔
مولانا کی قدیم سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کی ترجیح درحقیقت حکومت کی طرف سے ممکنہ مداخلت سے زیادہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ بہر حال کسی بھی صورت میں یہ کوئی وجودی مسئلہ نہیں ہے اور مدارس کی آزادی کی سطح اس سے زیادہ مختلف نہیں ہوگی کہ وہ کیسے رجسٹر ہوتے ہیں۔ تاہم حکومت اور جمعیت علمائے اسلام کی جماعت کے درمیان جاری محاذ آرائی میں فیصلہ کن عنصر یہ ہو گا کہ کیا مدارس کے 15 وفاقوں کے درمیان اس سوال پر کوئی اتفاق رائے ہو سکتا ہے۔
ابھی تک یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ رجسٹریشن کے طریقۂ کار پر اتفاق رائے ہو جائے گا اور امید ہے کہ جلد ہی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کسی اور محاذ آرائی کے بغیر طے پا جائے گا۔
(بشکریہ: عرب نیوز)