دس سالہ سارہ کا قتل: باپ، ماں اور چچا کو سزائیں

  • منگل 17 / دسمبر / 2024

برطانیہ کی ایک عدالت نے 10 سالہ سارہ شریف کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر ان کے پاکستانی نژاد والد اور سوتیلی والدہ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

سارہ کے والد عرفان شریف کو کم از کم 40 برس جیل میں گزارنا ہوں گے جبکہ اس کی بیوی بینش بتول کو 33 برس قید کی سزا دی گئی ہے۔ سارہ کے چچا اور عرفان شریف کے بھائی فیصل ملک کو قتل کے الزام میں تو نہیں تاہم ایک بچے کی موت کا سبب بننے یا ایسا ہونے دینے پر مجرم قرار دیا گیا۔ اسے 16 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ سارہ شریف کی زخموں سے چُور لاش گزشتہ سال 10 اگست کو برطانیہ میں ووکنگ کے علاقے میں ایک گھر سے ملی تھی۔ استغاثہ کے مطابق سارہ پر ’شدید اور مسلسل تشدد‘ کیا گیا تھا۔ سارہ شریف کی لاش ملنے سے ایک ہی دن قبل ان کے اہلخانہ پاکستان روانہ ہو گئے تھے۔

اس مقدمے کی سماعت کے دوران چھ دن تک سارہ کے والد عرفان شریف نے تمام الزامات سے انکار کیا تھا تاہم مقدمے کی کارروائی کے ساتویں روز اس نے  ڈرامائی طور پر اعتراف جرم کر لیا تھا۔

عدالت کے روبرو سارہ شریف کے والد نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنی بیٹی کو کئی ہفتے تک متعدد بار پرزور طریقے سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اعتراف جرم میں کہا گیا کہ ’سارہ میری وجہ سے مری۔‘ دوران سماعت جج نے سارہ کو ’خوبصورت چھوٹی بچی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سارہ کی ماں کے مطابق وہ ’ہمیشہ مسکراتی رہتی تھی۔‘

جج نے کہا ’سارہ پر ہونے والا تشدد اس کے لیے ایک معمول بن گیا تھا۔ وہ اپنی ساری زندگی اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتی تھی جبکہ عرفان شریف اور ان کی اہلیہ بینیش بتول نے سارہ کو یہ احساس دلایا کہ وہ اس برتاؤ کی مستحق ہے۔۔ جج نے سارہ شریف کے والد عرفان شریف، سوتیلی ماں بینیش بتول اور چچا فیصل ملک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ آپ تینوں اس میں ملوث تھے۔

جج نے عرفان شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے سارہ کے خلاف تشدد کی اپنی مہم سے واضح طور پر بہت زیادہ اطمینان حاصل کیا۔‘ جج نے سارہ کی سوتیلی ماں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس نے عرفان شریف کی جانب سے سارہ پر تشدد میں اس کا ساتھ دیا اور اسے چھپانے میں بھی مدد کی۔ جج نے یہ بھی کہا کہ ’بتول نے سارہ کے لیے ایمبولینس نہیں بلائی بلکہ وہ پاکستان فرار ہو گئی اور اسے اس کا کوئی پچھتاوا بھی نہیں۔‘

جج نے  کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں عرفان شریف اور بینش بتول، سارہ کو باندھے رکھنے میں مشترکہ طور پر ذمہ دار ہیں۔ سارہ کی زندگی کے آخری ہفتوں میں اسے باندھ کر رکھا گیا اور اس کے سر پر پلاسٹک بیگ چڑھا دیا جاتا۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس کی لیبی کلارک نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہم میں سے کوئی بھی تصور نہیں کر سکتا کہ سارہ کے ساتھ اس کی مختصر زندگی کے آخری چند ہفتوں میں کتنا خوفناک اور سفاکانہ سلوک ہوا۔ سارہ کو لگنے والی چوٹیں بہت خوفناک تھیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’سارہ کی موت کے بعد 999 پر کال کرنے کی بجائے ان تینوں افراد نے فوری طور پر ملک سے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے صرف اپنے بارے میں سوچا کہ وہ کسی طرح بحفاظت پاکستان پہنچ جائیں اور پولیس کو سارہ کی موت کے بارے میں لا علم رکھا۔‘

واضح رہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سارہ کے جسم پر ’انسانی دانتوں سے کاٹے جانے کے نشانات سمیت گرم استری اور گرم پانی سے آنے والے زخموں کے نشان‘ بھی تھے۔

اس سے قبل پراسیکیوٹر وکیل ایملن جونز نے عدالت کو بتایا تھا کہ خاندان کے گھر کے باہر سے خون آلود کرکٹ بیٹ، ایک دھاتی ڈنڈا، ایک بیلٹ اور رسی سمیت ایک پن ملی جس پر سارہ کا ڈی این اے پایا گیا۔

سارہ شریف 11 جنوری 2013 کو سلوو میں پیدا ہوئی تھی۔ اس کا باپ عرفان شریف پاکستان سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے برطانیہ آیا تھا اور 2009 میں ووکنگ میں اس نے سارہ کی والدہ اولگا ڈومن سے شادی کی تھی۔