سیاست کو کشتی کا اکھاڑہ نہ بنایا جائے
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 17 / دسمبر / 2024
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہےکہ اب ہم مدارس بل میں کوئی ترمیم قبول نہیں کریں گے ۔ یہ بات نہ مانی گئی تو پھر ایوان کی بجائے میدان میں فیصلہ ہوگا۔ مولانا کی یہ اشتعال انگیز تقریر اس نکتہ پر اختلاف کی وجہ سے سننے میں آئی ہے کہ مدارس کو محکمہ تعلیم کی بجائے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹر کیا جائے۔
2019 میں منظور کیے گئے طریقہ کار کے مطابق مدارس کو محکمہ تعلیم کے تحت رجسٹر کرانا ضروری ہے لیکن مولانا فضل الرحمان اور چند دیگر مذہبی لیڈروں نے اس طریقہ کو منظور نہیں کیا۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح مدارس کی ’آزادی و خود مختاری‘ متاثر ہوگی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کی ’خود مختاری‘ سے کیا مراد لی جائے اور مدارس کے طور پر کام کرنے والے تعلیمی اداروں کو خاص کر کیوں اس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ اگر مدارس میں عمومی تعلیم دی جاتی ہے ، مدارس اپنے ذرائع آمدنی کو بھی خفیہ رکھنا نہیں چاہتے اور ان کے نصاب میں بھی ایسی کوئی چیز شامل نہیں ہے جو ملکی قوانین کے خلاف ہو یا جس سے نفرت و تعصب کو ہوا ملتی ہو تو کیا وجہ ہے کہ انہیں محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹر ہونے اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرنے میں پریشانی لاحق ہے۔
در حقیقت مدارس ان سب پہلوؤں میں ’چور دروازے‘ کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ مالی معاملات سے لے کر معاشی امور تک کو پرائیویسی یا خود مختاری کے نام پر عوامی نگاہ سے دورر کھنا چاہتے ہیں۔ لیڈروں کے اس رویہ سے بے بنیاد نتائج اخذ کرنا مطلوب نہیں ہے لیکن مدارس کی صورت حال اور ان سے متعلق عمومی مسائل براہ راست قومی سلامتی اور عالمی اداروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات سے منسلک ہیں ۔ اب مولانا فضل الرحمان ملکی خود مختاری اور آزادی کا حوالہ دے کر یہ دلیل دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ کوئی قانون منظور کرتی ہے تو اسے عالمی اداروں کی ’خواہش‘ کے مطابق مسترد نہیں کیا جاسکتا ورنہ ان کے خیال میں پاکستان کی خود مختاری کو شدید خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ مولانا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اس صورت میں پاکستان کو آزاد ملک کہلانے کا کیا حق ہے۔ ان کے خیال میں مدرسہ بل کے نوٹی فکیشن میں رکاوٹ کا سبب عالمی دباؤ ہے۔ اسی لیے حکومت متفقہ تجویز سے انحراف کررہی ہے اور مدرسہ بل قومی اسمبلی و سینیٹ سے منظور ہونے کے بعد بھی قانون نہیں بن سکا۔ مولانا فضل الرحمان کے علاوہ اتحاد مدارس دینیہ نے بھی مدارس رجسٹریشن بل کا گزٹ نوٹی فکیشن فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں اتحاد تنظیم المدارس کا اجلاس ہوا، جس میں مفتی منیب الرحمان، مفتی تقی عثمانی سمیت مدارس کے دیگر مہتممین نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ مدارس بل متنازع نہیں کیونکہ پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دی ہے۔
زیر بحث مدرسہ ایکٹ کا تنازعہ موجودہ حکومت کی غیرذمہ داری اور کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اکتوبرکے دوران 26ویں آئینی ترمیم پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کی حمایت حاصل کرنے کے لیے شہباز شریف کی حکومت نے مولانا فضل الرحمان کا یہ مطالبہ مان لیا تھا کہ 2019 میں قانون سازی کے ذریعے مدارس کی رجسٹریشن کا جو طریقہ وضع کیا گیا تھا ، اسے تبدیل کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ تاکہ مدارس یہ فیصلہ کرسکیں کی وہ نئے انتظام کے تحت محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹر ہونا چاہتے ہیں یا وہ سوسائیٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اور ان کے ہم خیال لوگوں کا خیال ہے کہ مدارس کو سوسائیٹیز کے طور پر رجسٹر کیاجائے تاکہ ان کے معاملات میں سرکاری مداخلت نہ ہوسکے۔ ان لوگوں نے اسی لیے تحریک انصاف کے دور حکومت میں منظور کیے گئے مدرسہ رجسٹریشن ایکٹ کے تحت مدارس رجسٹر نہیں کرائے تھے۔ یہ تنازعہ مولانا فضل الرحمان کی سرکردگی میں اسی وقت سے ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہؤا تھا ۔ تاآنکہ شہباز شریف نے چھبیسویں آئینی ترمیم منظور کرانے کے جوش میں مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے ہوش کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا اور مولانا سے نیا قانون لانے کا وعدہ کرلیا گیا۔
حسب وعدہ یہ قانون موجودہ مدرسہ ایکٹ کے تحت قومی اسمبلی اورسینیٹ سے منظور کرایا جاچکا ہے۔ البتہ جب یہ صدر آصف زرداری کی منظور کے لیے بھیجا گیا تو انہوں نے اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا اور نشاندہی کی کہ اس ایکٹ کے نافذ ہونے سے بین الاقومی اداروں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔اس حوالے سے خاص طور سے ایف اے ٹی ایف کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کئی برس کی جد و جہد کے بعد اکتوبر 2022 میں اس ادارے کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہؤا تھا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے ملک میں منی لانڈرنگ کو کنٹرول کرنے اور دہشت گردی کی فنانسنگ کے حوالے سے سخت قانون سازی کا وعدہ کیا تھا۔ خیال ہے کہ موجودہ مدرسہ ایکٹ کو اس معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جاسکتا ہے۔ صدر زرداری نے درحقیقت مدرسہ بل پر دستخط نہ کرکے اسی اندیشے کا اظہار کیا ہے۔ لگتا ہے حکومت کو بھی اب اپنی غلطی کا احساس ہورہا ہے۔ اسی لیے اس بل کو ابھی تک پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کراکے دوبارہ صدر کی منظوری کے لیے نہیں بھیجا جاسکا۔
دوسری طرف مولانا فضل الرحمان اور اتحاد تنظیم المدارس اس صورت حال کو غلط انداز میں پیش کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں جیسے حکومت کسی بیرونی دباؤ کے تحت نوٹیفکیشن جاری کرنے سے گریز کررہی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صدر کی طرف سے دستخط نہ کرنے کے دس روز بعد پارلیمنٹ کا منظور کردہ کوئی بل از خودایکٹ بن جاتا ہے۔ اس لیے مدرسہ بل بھی اب قانون بن چکا ہے۔ بس حکومت اس کا نوٹیفکیشن روک کر بیٹھی ہے۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔ صدر کی طرف سے کوئی بل واپس آنے کی صورت میں یا تو حکومت اسے نئی ترمیم شدہ حالت میں پارلیمنٹ سے منظور کراتی ہے ۔ اگراسی بل کی منظوری پر اصرار مطلوب ہو تو اسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کراکے صدر کو واپس بھیجا جاتا ہے۔ اس صورت میں اگر صدر مملکت کسی بل پر دستخط نہ کریں تو یہ بل دس روز بعد از خود قانون بن جاتا ہے اور اس کا نوٹیفکیشن جاری ہوجاتا ہے۔ مدرسہ ایکٹ پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں رائے دہی کا مرحلہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ اس کے بعد صدر کے پاس اس پر دستخط کرنے یا اس بل کے قانون بننے میں مزید دس روز درکار ہوں گے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان اور ان کے ساتھ غلط بنیاد پر شور مچاکر درحقیقت حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں۔
مدارس یا دینی تنظیموں کے حوالے سے موجودہ حکومت کے علاوہ ماضی کی تمام حکومتوں نے بھی کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے مدارس اور ان کے منتظمین خود سری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور حکومت کو دھمکیاں دے کرغیر ضروری مراعات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ سادہ سا سوال ہے کہ اگر مدارس کو دی جانے والی سہولتوں سے پاکستان پر منی لانڈرنگ یا دہشت گردی کی فنانسنگ جیسے الزامات لگنے کا اندیشہ ہو تو حکومت کی بجائے مدارس کو نرم روئی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ لیکن دیگر شعبوں کی طرح مدارس کے نمائیندے بھی اپنے مفاد کو ملکی مفاد پر مقدم قرار دینے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے اور حکومتیں ناجائز طور سے کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود سری کرنے والے مدارس کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ ورنہ جن مدارس نے 2019 کی قانون سازی کے تحت خود کو حکومت کے تجویز کردہ طریقہ کار کے مطابق رجسٹر نہیں کرایا، انہیں بند کرنے اور کام سے روکنے کی کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ حکومت اگر بروقت ایسا اقدام کرلیتی تو مدارس کی کسی تنظیم کو حکومت کو للکارنے اور ملکی مفادات کو پس پشت ڈالنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔
موجودہ حالات میں شہباز حکومت اس حد تک تو غلطی پر ہے کہ آئینی ترمیم پر حمایت حاصل کرنے کے لیے ، اس نے مولانا فضل الرحمان سے مدارس کی رجسٹریشن میں ’اصلاحات‘ کا وعدہ کیا اور اسی وعدے کے تحت موجودہ بل منظور کیا گیا تھا۔ البتہ صدر کی نشاندہی کے بعد اگر حکومت کو اندازہ ہوگیا ہے کہ یہ قانون غلط بنیاد پر منظور ہوگیا تھا تو اسے بے یقینی پیدا کرنے کی بجائے دو ٹوک الفاظ میں واضح کرنا چاہئے کہ مدارس کو پبلک سکروٹنی سے خصوصی استثنا نہیں دیا جاسکتا۔ اس کی بجائے حکومتی نمائیندے جلد یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہونے کی نوید دیتے ہیں تو دوسری طرف مولانا فضل الرحمان دھمکیوں کی زبان استعمال کرتے ہوئے سیاست کو کشتی کا اکھاڑا بنانے پر مصر ہیں۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ مدارس کے کل 15 وفاقوں میں سے 10 مذہبی تعلیم کے ڈائیریکٹوریٹ جنرل کے ساتھ رجسٹریشن کے موجودہ نظام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ 2019 سے اب تک تقریباً 18 ہزار مدارس ڈی جی آر ای کے ساتھ رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس طریقے سے اختلاف رکھنے والے مدارس ابھی تک رجسٹر نہیں ہوئے اور ان کی نمائیندگی کرتے ہوئے اب مولانا فضل الرحمان پیالی میں طوفان بپا کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اتحاد تنظیم المدارس کے لیڈروں کی پریس کانفرنس میں کسی نے ایسا درشت اور سخت رویہ اختیار نہیں کیا جس کا مظاہرہ مولانا فضل الرحمان اپنی سیاسی حیثیت مستحکم کرنے کے لیے کررہے ہیں۔ اس موقع پر مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مدرسہ ایکٹ کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرتی تو مدارس کی تنظیمیں مل کر آئیندہ لائحہ عمل تیار کریں گی۔ جبکہ مولانا فضل الرحمان کا دعویٰ ہے کہ پھر ’ایوان کی بجائے میدان میں فیصلہ ہوگا‘۔
مولانا فضل الرحمان الفاظ کے شعبدہ باز ہیں ۔ وہ کوئی لفظ سوچے سمجھے بغیر ادا نہیں کرتے۔ لیکن دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں یہ ضرور جان لینا چاہئے کہ کسی مدرسے ، تنظیم یا ادارے کا مفاد ملکی نیک نامی اور ضرورت سے اہم نہیں ہوسکتا۔ وہ منجھے ہوئے سیاست دان ہیں اور دھمکیوں کی بجائے ہوشمندی سے کام لیں تاکہ غیر ضروری اشتعال انگیزی سے بچا جاسکے۔