ڈاکٹر اشتیاق احمد لبرل ہیومن فورم میں
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 21 / دسمبر / 2024
درویش نے لبرل ہیومن فورم کی بنیاد 17 اکتوبر 2006 کو ڈاکٹر جاوید اقبال کی سرپرستی میں رکھی۔ مقصد یہ تھا کہ عدم برداشت اور مذہبی بنیاد پرستی کی ماری اس سوسائٹی میں مذہبی ہم آہنگی و آزاد فکری، روشن خیالی، آزادی اظہار ، حریت فکر، ہیومن رائٹس بالخصوص اقلیتوں اور خواتین کے حقوق رواداری اور وسعت قلبی و نظری پر محیط خالص “انسانی سوسائٹی” کی تشکیل کی جائے۔
لبرل سیکولر انسانی اقدار پر نہ صرف یہ کہ بحث مباحثے، مذاکرے و مکالمے ہوں بلکہ یو این ہیومن رائٹس چارٹر کی روشنی میں ان انسان نواز آدرشوں یا اقدار کو سماج میں سمونے یا سرایت کرنے کے لیے جو ممکن ہوں وہ سب کاوشیں کی جائیں۔ ہمارا طریق کار یہ ہے کہ کسی بھی زیر بحث موضوع یاایشو پر مہارت یا قابلیت رکھنے والی سینئر شخصیت یا شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے اور پھر محض بھاشن دینے یا سننے کی بجائے مختلف النوع سوالات اٹھائے جاتے ہیں جن سے نسل نو میں علم و آگہی اور شعوری و فکری بیداری و بلندی آئے۔ اقبال نے تو کہہ رکھا ہے، خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں، مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر۔
مگر درویش نے فرزند اقبال سے مل کر عصری تقاضوں کی مطابقت میں یہ مشن اپنایا ہے کہ جنوں کے طوفاں اٹھا چکا میں، میرے مولا مجھے صاحب خرد کر۔
جن شخصیات کو اب تک مدعو کیا گیا ہے ان کی فہرست خاصی طویل ہے۔ بہرحال گزشتہ روز سویڈن سے تشریف لائے پاکستانی دانشور، پولیٹیکل سائنٹسٹ، معروف محقق و مصنف پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمدلبرل ہیومن فورم کے مہمان بنے تو یہ محفل قدرے طویل ہوگئی۔ مکالمے کی خوبصورتی کو اس وقت چار چاند لگ گئے جب اس میں ہم سب کی ہر دلعزیز شخصیات محترم سہیل وڑائچ، محترم وجاہت مسعود، محترم لیاقت علی اور ڈاکٹر عبدالقادر صاحبان نے نہ صرف یہ کہ خصوصی طور پر شرکت فرمائی بلکہ ڈاکٹر اشتیاق صاحب کی کتابوں کے حوالے سے دلچسپ سوالات بھی اٹھائے۔
اس مکالمے پر اظہار خیال سے قبل بہتر ہوگا کہ محترم ڈاکٹر اشتیاق صاحب کی شخصیت اور تحقیقی کام پر ایک نظر ڈال لی جائے ڈاکٹر اشتیاق احمد کا بچپن یہیں لاہور کے علاقے مزنگ ٹمپل روڈ پر گزرا۔ آپ کی پیدائش پارٹیشن کے برس 24 فروری 1947 کو اسی مقام پر ہوئی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم بھی سینٹ انتھونی ہائی سکول میں ہوئی۔ جبکہ گریجویشن ایف سی کالج سے 1968 میں کی۔ وہیں سے آپ نے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ مہتا چونی لال گولڈ میڈل جیتا، 1970 میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی۔
فروری 1972 سے جون 1973 تک گارڈن کالج راولپنڈی میں بطور لیکچرر کام کیا، اس کے بعد سویڈن چلے گئے جہاں سٹاک ہوم یونیورسٹی سویڈن سے پولیٹیکل سائنس میں پی ایچ ڈی کی۔ اور پھر وہیں پڑھاتے ہوئے 2010 میں پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ مابعد آپ معروف تعلیمی اداروں میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ انسٹیٹیوٹ آف ساؤتھ ایشین سٹڈیز سنگاپور میں وزٹنگ ریسرچ آفیسر رہے۔ نیشنل یونیورسٹی سنگاپور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور لمز یونیورسٹی لاہور میں بھی تدریسی خدمات سرانجام دیں۔
ویسے تو آپ کی تصانیف میں The Punjab Blooded Partition اور Pakistan: The Garrison State کو بڑی شہرت و پذیرائی ملی۔ ان کتب کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی ہوئے لیکن آپ کی تصانیف میں جو شہرت Jinnah: His Successes, Failures and role in history کو حاصل ہوئی وہ ان کی دیگر شاہکار تصانیف کو بھی کاٹ گئی ہے۔ ہمارا تازہ مکالمہ یا مباحثہ اسی حوالے سے تھا۔ درویش نے اپنےافتتاحی یا تمہیدی کلمات میں عرض کی کہ ہم محترم ڈاکٹر اشتیاق صاحب جیسے بڑے قد کاٹھ کے دانشور کو لبرل ہیومن فورم میں تشریف آوری پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہم سب آپ سے محبت رکھتے ہیں حالانکہ مجھے اور لیاقت صاحب کو دوسروں کے کام میں خامیاں یا کوتاہیاں ڈھونڈنے کی فکر زیادہ رہتی ہے، بجائے محبت یا ستائش کے۔ ڈاکٹر صاحب! آپ کی مہربانی ہے کہ آپ نے ہمیں مطالعہ پاکستان کے روایتی پروپیگینڈے سے چھٹکارا دلایا۔ ہمارے نونہالوں کے اذہان میں منافرت کا جو زہر پون صدی سےانڈیلا جا رہا تھا، جھوٹ کے جو پلندے دماغوں میں ٹھونسے جا رہے تھے، اگرچہ اس زیادتی پر اور بھی بہت سے اہل نظر نے کام کیا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب! آپ کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے دلائل اور ریفرنس کے ساتھ اس منافرت بھرے بیانیے یا موقف کو توڑا۔ یوں ڈاکٹر صفدر محمود جیسی سوچ کے حاملین سے ان کا کوئی جواب نہیں بن پایا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہاں ٹو نیشن تھیوری کے نام پر جو پاکھنڈ اور ڈرامے کیے گئے وہ سب اب ایکسپوز ہو چکے ہیں۔
اس سوچ کے سرخیل مجید نظامی صاحب کا انتقال ہوا تو درویش عطاالرحمن صاحب کے ساتھ وہاں گیا۔ ان کی زیارت یا آخری دیدار کیا تو “وقت “ ٹی وی والوں نے اپنا مائیک آگے کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کے کیا تاثرات ہیں؟ فی البدیہہ عرض کی کہ آج محض مجید نظامی صاحب ہی فوت نہیں ہوئے، ان کے ساتھ ان کا دو قومی نظریہ یا نظریہ پاکستان بھی وفات پا گیا ہے۔ نفرت کا یہ کلہاڑا ہم نے ہندوستان کو توڑنے کیلیے استعمال کیا۔ کم از کم پاکستان بننے کے بعد ہی اس کلہاڑے کولپیٹ دینا چاہیے تھا۔ مگر ہنوز نہیں لپیٹا گیا۔ ہمارے سہیل وڑائچ صاحب گواہ ہیں اور وجاہت مسعود صاحب بھی ہمارے پروگراموں میں تشریف لاتے رہے ہیں۔ ہم ٹاؤن ہال لاہور میں برسوں “لبرل ہیومن فورم” کے تحت 11 اگست کو ایک پروگرام کرواتے رہے ہیں "جناح کا پاکستان" اس میں ہم یہ موقف پیش کیا کرتے تھے اور ماڈریٹ اپروچ کو درست ثابت کرنے کیلیے یہ کہنا ایک طرح سے ہماری مجبوری بھی تھی کہ “جناح کا پاکستان” قطعی طور پر وہ نہیں تھا جو “ مودودی کا پاکستان” تھا۔ جناح تو بڑا لبرل سیکولر آدمی تھا وغیرہ وغیرہ-
اس امر کا کریڈٹ ڈاکٹر اشتیاق صاحب آپ کو جاتا ہے جنہوں نے ہم سب کو اس سارے مغالطے یا الجھاؤ سے نکالا۔ 11 اگست کی مجبوری یا مخمصے سے باہر لاتے ہوئے ہمیں بتایا کہ جناح کی کوئی ایک ایسی تقریر نہ اس سے پہلے ملتی ہے اور نہ اس کے بعد ایسا کوئی بیان موجود ہے تو پھر یہ ان کا موقف کیسے ہو سکتا ہے؟ جناح قطعی لبرل سیکولر نہ تھے، اپنے نعرے یا ایجنڈے کے لحاظ سےوہ خالص اسلامی نظریے کے علمبردار تو کہے جا سکتےتھے جو پاکستان کو اسلامی تعلیمات کے مطابق اسلامی ریاست یا اسلام کی تجربہ گاہ یا اسلامی لیبارٹری بنانا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں جناح اور مولانا مودودی کی سوچ میں جوہری طور پر کوئی فرق نہ تھا۔ بلکہ تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اپنا ملک ہندوستان توڑنے سے آگے ان کا کوئی نظریہ، مشن یا پروگرام تھا ہی نہیں۔
ڈاکٹر صاحب! آپ نے "پاکستان دی گیریژن سٹیٹ" تحریر کرتے ہوئے ہم پر بہت سی ایسی تلخ حقیقتیں یا اصلیتیں واضح کیں جو بہت کم لوگ بیان کرتے ہیں۔ اور پھر پنجاب کی "بلڈی پارٹیشن" پر پورے ریفرنس کے ساتھ جو دکھ درد بیان کیا جس طرح امریتا پریتم نے وارث شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے نوحہ لکھ،ا وہ ساری باتیں آپ نے دلائل کے ساتھ پیش فرما دیں (جاری ہے)