اسپیکر ایاز نے حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیوں کو کل مذاکرات کی دعوت دے دی
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے حکومتی کمیٹی کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے فریقین کو کل صبح ساڑھے 11 بجے ملاقات کی دعوت دی ہے۔
ایاز صادق نے کہا ہے کہ مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے کے حوالے سے وزیراعظم کا اقدام خوش آئند ہے۔ انہوں نے نیک نیتی سے حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی۔ اسپیکر آفس کے دروازے ہمیشہ اراکین کےلیے کھلے ہیں، بات چیت اور مکالمے سے ہی آگے بڑھا جاسکتا ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہاکہ انہوں نے مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کےلیے دونوں کمیٹیوں کے اراکین کو بروز پیر دن ساڑھے 11 بجے ملاقات کی دعوت دی ہے۔ وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں دونوں کمیٹیوں کے اراکین سے اپنے چیمبر میں ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتی اتحاد کے ممبران پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، سیاسی امور کے مشیر رانا ثنا اللہ اور سینیٹر عرفان صدیقی شامل ہیں جب کہ پیپلزپارٹی سے راجا پرویز اشرف، نویدقمر بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی، استحکام پاکستان پارٹی سے علیم خان، مسلم لیگ (ق) سے چوہدری سالک اور بلوچستان عوامی پارٹی سے سردار خالد مگسی شامل ہیں۔
اتوار کو وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق یہ مذاکراتی کمیٹی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی تجویز پر بنائی گئی ہے جس میں حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے ارکان بھی شامل ہیں۔ بیان کے مطابق مذاکراتی کمیٹی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور نوید قمر، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی ) کے علیم خان اور مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک حسین شامل ہیں۔
وزیرِ اعظم کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جیل میں موجود سابق وزیرِ اعظم عمران خان اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا الٹی میٹم دے رکھا ہے۔ ہفتے کو پی ٹی آئی کے آفیشنل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق عمران خان جیل میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اگر اتوار تک ان کے مطالبات سے متعلق سنجیدگی نہیں دکھاتی تو سول نافرمانی کے پہلے مرحلے میں ترسیلاتِ زر کے بائیکاٹ کا آغاز کردیا جائے گا۔
عمران خان نے رواں ماہ حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان حکومت سے دو مطالبات کر رہے ہیں۔ ان کا پہلا مطالبہ یہ ہے کہ تمام انڈر ٹرائل سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ عمران خان کا دوسرا مطالبہ ہے کہ نو مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے واقعات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔