ڈاکٹر اشتیاق احمد لبرل ہیومن فورم میں (2)
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 22 / دسمبر / 2024
درویش کی متذکرہ بالا باتوں پر کئی احباب کو اعتراض ہوسکتا ہے ہر کسی کے سوچنے کا اپنا انداز اور اسلوب ہوتا ہے، اس لیے ہمیں اختلاف رائے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ راۓ کا اختلاف تو باعث رحمت اور جمہوریت کا حسن ہے۔
آپ خود بھی بولیں اور اپنے مخاطب کو بھی بولنے دیں اس کے بعد ہی اتفاق رائے کی کوئی صورت پیدا ہوگی۔ اگر ہم ون سائیڈڈ رہیں گے تو اس سے کسی کی کوئی بھلائی نہیں ہوگی۔ بلکہ اذہان جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ کوئی نئی تخلیقی سوچ نہیں ابھرے گی ایوولیوشن یا ارتقا کا عمل رک جائے گا۔
ہمارے لبرل ہیومن فورم کا یہی اسلوب ہے کہ ہم یکطرفہ بھاشن دینے یا سننے کی بجائے یہ چاہتے ہیں کہ سوال جواب کی محفل ہو۔ خوش قسمتی سے یہاں جناب سہیل وڑائچ صاحب اور وجاہت مسعود صاحب جیسی شخصیات بھی موجود ہیں۔ میں چاہتا تویہ تھا کہ وہ بھی یہاں اظہار خیال فرماتے لیکن وہ بھی ڈاکٹر صاحب کو سننا چاہ رہے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب آپ اپنی تحقیقی کتابوں کی روشنی میں فرمائیے کہ آپ ہماری نوجوان نسل کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ اس کے بعد ہمارے چیئرمین فیضان خالد کے گارڈن سپائس اور فیضان نرسری کے خوبصورت ماحول میں ڈاکٹر اشتیاق احمد نے پارٹیشن کے تلخ واقعات اور اس کی تباہ کاریوں پر طویل لیکچر دیا، جس کا احاطہ اس کالم میں ممکن نہیں ہے۔ اور بہت سے گوشے ایسے بھی ہیں جو شاید ہمارے ادارے کی پالیسی کے مطابق شائع ہونے سے قاصر رہ جائیں گے۔
اس لیے پوری احتیاط کے ساتھ چند چیدہ چیدہ پوائنٹس پر اکتفا کرتے ہیں جوکچھ یوں تھے کہ اس وقت کے اقلیتی صوبوں میں آباد مسلمانوں کو اس نوع کے خدشات لاحق کر دیے گئے تھے کہ جب انگریز یہاں سے رخصت ہوجائیں گے تو بھاری ہندو میجارٹی میں مسلمان اپنی اقلیتی حیثیت میں اپنا تشخص ہی گم کر بیٹھیں گے۔ بلکہ ان کے معاشی مفادات کا ٹکراؤ بھی ہندوؤں سے ہوگا۔ اسی تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ جناح کی تمام تر جدوجہد کا محور کانگریس کی مخالفت رہی کانگریس یہ دعویٰ رکھتی تھی کہ وہ ہندوستان میں صرف ہندوؤں کی نہیں بشمول مسلمانوں، تمام انڈینز کی نمائندہ جماعت ہے۔ ہندوؤں کی الگ سے بات کرنے کے لیے ہندو مہاسبھا موجود تھی۔ دلچسپ امر ہے کہ ہندو مہاسبھا تو جناح کو قبول تھی مگر وہ کانگریس کا یہ استحقاق ماننے کے لیے کسی صورت تیار نہ تھے کہ وہ مسلمانوں کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ ہم پیہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جناح نے ایک لمحے کے لیے بھی برٹش اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف نہ تو کبھی احتجاج کیا اور نہ ان کے خلاف کوئی بیان دیا۔ جبکہ ہندوؤں کے خلاف وہ بیانات سے بھی بہت آگے تشدد اور مار دھاڑ تک چلے گئے۔
میری کتاب میں بنگال کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے کی کال سے لے کر خونی وارداتوں تک کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔ اس کال کے نتیجے میں کتنے لوگ مرے، کتنی دکانیں اور جائیدادیں جلائی گئیں اور یہ بھی کہ دنگے کس پلاننگ کے ساتھ کروائے گئے، بنگال کے علاوہ یہاں پنجاب بالخصوص پنڈی میں اس کی شروعات کیسے ہوئیں، اور پھر ان کا پھیلاؤ کس طرح ہوا، اس پر بشمول جناح کسی لیگی کا کوئی مذمتی بیان تک آپ کو نہیں ملے گا، اس سے بڑی حقیقت جو میں نے اپنی کتاب میں واضح کی ہے یہ کہ پارٹیشن برٹش اسٹیبلشمنٹ کا اپنا ایجنڈا تھا، وہ کیمونسٹ سوویت ریولیوشن کے خلاف اس درمیانی خطے کو ایک بفر سٹیٹ کے طور پر رکھنا چاہ رہےتھے، کانگریس کی جاگیرداری یا زمینوں کی حد بندی جیسی سوشلسٹ پالیسیاں واضح ہو چکی تھیں، یہی وجہ ہے کہ جب برٹش سرکار نے کانگرس کی پوری قیادت کو جیلوں میں ڈالا تو جناح اور لیگ کو مسلسل کھلی چھوٹ حاصل رہی، جنہوں نے مذہب کا سیاسی استعمال کرتے ہوئے ہندوؤں کے خلاف منافرت کو خوب بڑھکایا۔ ٹو نیشن تھیوری کے تحت مذہبی پروپیگنڈا کیا گیا صدیوں سے اکٹھے رہنے والوں کے متعلق کہا گیا کہ ہندو اور مسلمان باہم متصادم و متحارب اقوام ہیں۔ ان کا مذہب ہی نہیں، رہن سہن بھی الگ ہیں۔ لہذا یہ کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
اس پر درویش نے سوال اٹھایا کہ جب یہاں مذہبی حوالوں سے ٹو نیشن تھیوری کو خوب اچھالا جارہا تھا۔ اس وقت ابوالکلام آزاد جیسوں نے خالص مذہبی حوالوں سے اس کا توڑ کرنے کے لیے اس نوع کا استدلال کیوں نہ کیا کہ پرافٹ محمد (ص) نے "میثاق مدینہ" کے تحت یہود کے ساتھ “وطنی قومیت” کا معاہدہ کیا تھا کہ آج سے مسلمان اور یہود "امت وحدہ" یعنی ایک قوم گردانے جائیں گے۔ خود مذہب کے اندر سے بھی تومتحدہ وطنی قومیت کا تصور ابھرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بولے کہ جب مقصد توڑنا ہو تو پھر مذہب کی بھی وہی چیزیں لی جاتی ہیں جو ان کے مفادات کی مطابقت میں ہوں۔ ایسے شور میں اس نوع کی لاجک کیسےچلتی۔ یہ سوال بھی ہوا کہ اس وقت پاکستان اگر قائم ہے تو یہ صرف ہماری فوج کی وجہ سے ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس استدلال سے اتفاق کیا کہ بلاشبہ اس وقت فوج نے ہی اس ملک کو باندھ رکھا ہے۔ اگر فوج نہ ہو تو بلوچستان ہی نہیں باقی ملک کے بھی حصے بکھرے ہوجائیں۔
لیکن اس حقیقت کو مانتے ہوئے یہ بھی کہنا پڑے گا کہ یہ کوئی مثبت صورتحال نہیں ہے ۔ملکوں کو ڈنڈے کے زور پر ایک نہیں رکھا جانا چاہیے، یہ سوچ عوام کے اندر سے پھوٹنی چاہیے۔ ملک کی طاقت فوج نہیں عوام کو ہونا چاہیے۔ آج جو بھی صورتحال اس وقت یہاں پاکستان میں بنی ہوئی ہے، اس کی اصل وجہ پون صدی قبل کی یہی کوتاہیاں یا خامیاں ہیں۔ مذہب کے نام پر اس دور میں اگر کوئی ریاست بنے گی تو وہ اسی نوع کی ہوگی جبکہ ہماری بنیادوں میں ایک نوع کی نفرت ڈالی گئی ہے۔ یہ ہندو سے نفرت ہی تو تھی جس سے بٹوارا کرایا گیا اور جس سے آج بھی ہم اپنا پیچھا نہیں چھڑا پا رہے ہیں۔
جناب وجاہت مسعود نے متذکرہ ایشو پر اپنے شعوری و فکری ارتقا بلکہ ذہنی کایا پلٹ کو جس طرح بیان کیا، سابقہ مباحث کی روشنی میں یہ ہم ہر دو درویشین کے لیے بڑی دلچسپی کاخوشگوار ابلاغ تھا جس پر ان سے کسی وقت بھرپور انٹرویو کیا جائے گا۔ جبکہ جناب سہیل وڑائچ نے عائشہ جلال کے کام اور نقطہ نظر کی مناسبت سے سوالات اٹھائے۔ اس سلسلے میں نئی شائع ہونے والی کتاب "مدینہ سٹیٹ" کے ریفرنس سے بات کی، جس کا ڈاکٹر اشتیاق صاحب نے بہت تفصیلی پوسٹ مارٹم کرتے ہوۓ استدلال کیا کہ میں نے بہت پہلے سے یہ کہہ رکھا ہے کہ آپ حضرات مجھے اور عائیشہ جلال صاحبہ کو اکٹھے آمنے سامنے بٹھا کر مدلل مباحثہ کروا لیں تاکہ حقائق سب پر واضح ہو جائیں۔ کہ جناح پاکستان چاہتے تھے یا اسے کانگریس کے ساتھ بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ اس پر درویش کو یاد آیا کہ ڈاکٹر جاوید اقبال اکثر اسی جلالی سوچ کے زیر اثر یہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان مسلمانوں نے نہیں ہندوؤں نے بنوایا ہے اور یہ کہ جناح اندر سے پارٹیشن نہیں چاہتے تھے۔
بعد ازاں دیگر پڑھے لکھے ذہین و زیرک نوجوانوں بالخصوص علی وارثی، فیضان خالد، مظہر چوہدری، حسن خاں، رخشان میر،سلمان ملک،عارف نوناری،کبیر بٹ، ڈاکٹر فرقان، رانا شاہد، ضمیر آفاقی، چوہدری سرمد اور شیر علی کے دلچسپ سوالات پر جو مباحثہ و مکالمہ ہوا۔ جی چاہتا ہے کہ اس کی تمام تفاصیل یہاں رقم کر دوں۔ لیکن اس کے لیے جنگ کی درجن بھر اقساط درکار ہوں گی لہذا بہتر ہے جو احباب دلچسپی رکھتے ہیں ،وہ اس حوالے سے ناچیز کے یوٹیوب پر رجوع فرما لیں۔